دریائے نیل کے کنارے ”فرعون کا دیس“


ہوش سنبھالتے ہی تاریخ میرا فیورٹ سبجیکٹ رہا ہے، شاید یہ اردو کی ان کلاسک کتابوں کا اثر تھا جس میں بڈھے بڈھے پاکستانی مشہور ترین لکھاری، ناول یا کہانیاں لکھتے ہوئے پارٹیشن سے پہلے کے اپنے بچپن کے حالات و واقعات زیر بحث لاتے تھے، رائٹرز لبرٹی لیتے ہوئے زیب داستان کی بلندیوں کو چھو جاتے تھے، ان کا ناسٹلجیا ہمیں اپنا اپنا سا لگنے لگتا، اور ہم کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتے، ان کے بیان کیے گئے کیریکٹرز اور دیہاتوں کو ہم کھلی آنکھوں سے چشم تصور میں دیکھتے اور دل میں تمنا کرتے کہ کوئی ایسی ٹائم مشین ایجاد ہو جائے جو ہمیں زیادہ نہیں تو صرف سو سال ہی پیچھے لے جائے۔

مزید عمر رسیدہ ہوئے تو یہی شوق انسانی تاریخ، آرکیالوجی اور کھنڈرات سے محبت میں تبدیل ہو گیا، ہڑپہ جانا ہوتا تو ایک ایک اینٹ میں چھپی داستانوں کو محسوس کرنے کی کوشش مشغلہ بلکہ بیماری بن گئی۔

2005 کی ایک دوپہر مجھے پتہ چلا کہ مصر میں ہونے والے ایک انٹرنیشنل ایکسپیریمنٹل تھیٹر فیسٹیول میں حکومت پاکستان کی طرف سے ہمارے تھیٹر گروپ سے درخواست کی گئی ہے کہ قاہرہ میں ہونے والے اس ایونٹ میں ہم پاکستان کی نمائندگی کریں۔

فوراً یہ درخواست قبول کرلی گئی اور اکتوبر کی ایک خوبصورت دوپہر میں ہم قاہرہ پہنچے، دنیا کی صفحہ اول کی سیاحتی منزل ہونے کی وجہ سے قاہرہ کسی بھی یورپی ملک کے بڑے شہر سے کسی صورت کم نہیں تھا، دنیا کے تمام بڑے برانڈز کے ہوٹلز کی بڑی بڑی عمارتیں پورے قاہرہ میں جا بجا بکھری نظر آتی ہیں، شہر کے بیچوں بیچ دریائے نیل (جس کے کنارے دلہن کی طرح سجائے گئے تھے ) ہزاروں سال کی تاریخ سمیٹے انتہائی لاپرواہی سے عمارتوں اور لوگوں کے جنگل میں خراماں خراماں بہہ رہا تھا۔

خوش قسمتی سے ہمارا پانچ ستاروں والا ہوٹل دریائے نیل کے کنارے پر تھا، کیونکہ یہ ایونٹ حکومت مصر کا تھا جس میں تقریباً چالیس ممالک کے مندوبین شریک تھے اس لیے انتظامات انتہائی عمدہ تھے، پاکستانی ایمبیسی کے نمائندے ہمیں بار بار رابطہ کر کے کسی بھی مسئلے کی صورت میں اپنی خدمات پیشی کے لئے اتاولے ہو رہے تھے۔

وہاں ہم نے تقریباً دس دن گزارے، قاہرہ یونیورسٹی، مشہور بازار ”خان الخلیلی“ ، تاریخی قبرستان ”دا سٹی آف ڈیڈ“ تو ہم نے پہلے ہی ایک دو دنوں میں اچھی طرح گھوم لیے۔

ہوٹل دریائے نیل کے کنارے پر تھا اس لئے شام کے کھانے کے بعد تقریباً روزانہ میلوں کی واک معمول تھی، دریا کے دونوں اطراف چھوٹے چھوٹے خوبصورت کیفے، حقہ شیشہ بارز، جہاں خوبصورت نوجوان مصری لڑکے اور لڑکیوں کے مخلوط جھنڈ خوش گپیوں اور بعض جگہوں پر گٹار یا کسی اور میوزیکل انسٹرومنٹ کے ساتھ اونچی آواز میں مل کر گانوں میں مصروف نظر آتے (لڑکیاں زیادہ تر عربی حجاب یا اسکارف میں ہوتیں ) گوری رنگت اور بڑی بڑی سجی آنکھیں، سیاہ بال، یعنی کہ کمال۔

جا بجا کنارے سے لے کر پانی تک اترتی ہوئی سیڑھیاں (جو لوگوں کے بیٹھنے کے کام آتی تھیں ) جن پر دنیا جہان سے آئے رنگ برنگے سیاح، لباس کی کسی قسم کی قدغن سے پاک اس خوبصورت شہر اور دریا کی فضاؤں (جس میں عربی میوزک گھل مل گیا تھا ) سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے تھے۔

ہمارے فائیو سٹار ہوٹل میں مندوبین کے لیے مستقل بوفے لگا ہوا تھا جس میں انواع و اقسام کے کھانے ہوتے تھے، تب مجھے پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ کھانا جتنا بھی پرتعیش ہو، ایک وقت آتا ہے جب آپ اس سے بور ہو جاتے ہیں، کچھ ہی دنوں کے بعد ہم ہوٹل سے نکل کر چھوٹے چھوٹے عربی ڈھابوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھانا کھا رہے تھے وہ بھی اپنی جیب سے۔

ہوٹل میں نائٹ کلب اور کسینو (جوا خانہ) ہمارے ریڈار سے کیسے بچ سکتا تھا؟ سو تقریباً تمام راتیں نائٹ کلب میں ہی گزریں (یاد رہے جوئے خانے میں داخلہ صرف غیر ملکیوں کے لئے تھا، اس میں داخل ہونے کے لئے آپ کو اپنا پاسپورٹ دکھانا ہوتا تھا، اسی طرح شراب کی بھی صرف غیر ملکیوں کو ہی اجازت تھی، مصریوں کے لیے یہ سب حرام تھا) ۔

خیر کھانا تو ہمارا فری تھا لیکن پینا بالکل بھی نہیں، ویسے بھی ”زندگی“ سے ہمارا کوسوں کا واسطہ نہیں تھا، ہاں البتہ جگہ جگہ پڑے زیتون اور چپس سے بھرے برتن، کوک کے کین کے ساتھ ہماری کل عیاشی تھی۔

نائٹ کلب کے ڈانس فلور کے اردگرد لگے بڑے بڑے صوفے اور ٹیبل، اور اس کے پیچھے شراب کی بار اور اونچے بینچ غیر ملکیوں اور ماڈرن مصریوں سے بھرے رہتے۔

ہم جب بھی ڈانس فلور پر جاتے تو اپنے مخصوص انداز میں ہلکی ہلکی صوفی دھمال ڈالتے، لوگ حیرانی سے دیکھتے اور پھر آہستہ آہستہ ہمیں فالو کرنے کی کوشش کرتے، ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ صوفی دھمال کتنے کام کی چیز تھی، اطالوی، فرانسیسی اور مصری عورتیں ٹوٹی پھوٹی انگلش میں پوچھتیں کہ یہ کس قسم کا ڈانس ہے؟ ہم بتاتے کہ یہ ڈیوائن، ڈیووشن، صوفی محبت اور نہ جانے کیا کیا۔

ایک دن ایک مصری عورت ہمارے پاس آئی، اس نے بتایا کہ کل رات دس بجے میری سہیلی کی سالگرہ اسی جگہ پر ہے آپ لوگوں نے ضرور آنا ہے، اگلی رات ہم فلور پر دس پندرہ مصری عورتوں کے ساتھ دھمال ڈال رہے تھے، کچھ دیر کے بعد اس نے اناؤنس کیا کہ سب لوگ سٹیج پر آئیں اور ہمیں جوائن کریں، اس رات مفت میں ہم اتنا ناچے کہ اگر ہمارے گھنگرو ہوتے تو یقیناً ٹوٹ جاتے، اگلا سارا دن ٹانگوں کی پنڈلیوں میں ” اچوی“ ہوتی رہی۔

ہم نے ایک پورا دن مصر کے میوزیم کو دینے کا فیصلہ کیا، مصر کا میوزیم دنیا کے چند بڑے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میوزیمز میں شامل ہوتا ہے، اس وقت مصری پاؤنڈ دس روپے کا تھا اور میوزیم میں داخل ہونے کی ٹکٹ چالیس مصری پاؤنڈ تھی۔ ہم نے کہا جتنے مرضی پیسے لگ جائیں فرعون دیکھے بغیر نہیں جائیں گے، ٹکٹ خریدا اور میوزیم میں گھس گئے۔ سارا دن اس انتہائی بڑے میوزیم میں گزارا، ہمیں پتہ چلا کہ میوزیم کے اندر ایک مخصوص شیشے کے کمرے میں فرعون کی لاش پڑی ہے، جب ہم وہاں پہنچے تو میوزیم کے اندر اس کمرے میں داخل ہونے کی ٹکٹ 70 پاؤنڈ الگ سے تھی، انتہائی تکلیف محسوس ہوئی، یعنی فرعون کی ممی نے ہمیں امی یاد کروا دی، لیکن فرعون تو دیکھنا تھا، ٹکٹ خریدی اور شیشے کے تابوت میں پڑی فرعون کی لاش دیکھی۔

کچھ لمحوں کے لئے تو میں کسی اور ہی دنیا میں چلا گیا، بچپن سے لے کر آج تک کتنی کہانیاں اور قصے میرے ذہن میں بھنور کی صورت گھومنے لگے، لیکن سیاحوں کی مسلسل آمد اور اس کمرے میں گھومنے کے پروٹوکولز آپ کو دنیا میں واپس لے آتے ہیں۔ نا تو تصویر کی اجازت اور نہ ہی بہت زیادہ دیر وہاں کھڑے ہونے کی، صفائی کے لئے دو تین لوگ مامور، جو ہر وقت اسپرے کے ساتھ دیواریں اور فرش صاف کر رہے تھے، نہ جانے کیوں؟ یعنی منہ دیکھتے جاؤ اور آگے بڑھتے جاؤ، فرعون کی لاش جیسے ہر وقت جنازے کی حالت میں ہو، دانت، بچے کھچے بال، ہاتھوں اور پیروں کے ناخن خاص طور پر توجہ کا مرکز تھے۔

جی ہاں اب باری آتی ہے اہرام مصر دیکھنے کی، قاہرہ سے تقریباً پچیس کلومیٹر نکل کر دنیا کے سات عجوبوں میں شامل سب سے بڑا عجوبہ اہرام مصر اپنی تمام تر ہیبت کے ساتھ اسی طرح کھڑا ہے جیسے ہزاروں سال پہلے اسے بنایا گیا تھا، اس کا تعمیر ہونا آج بھی ایک معمہ ہے، ایسی عمارت کی تعمیر آج کے سائنسی اور ماڈرن دور میں بھی ممکن نہیں، اسی لئے اس کے ساتھ بے شمار دیومالائی داستانیں اور کہانیاں منسوب ہیں جو یہاں موجود تربیت یافتہ گائیڈ مزے لے لے کر دلچسپ انداز میں بتاتے ہیں۔

اس پورے علاقے میں داخل ہونے کی ٹکٹ بیس پاؤنڈ تھی اور اگر آپ نے اہرام مصر کے اندر داخل ہونا ہے تو اس کی ٹکٹ الگ سے 40 پاؤنڈ تھی۔

جب مرحلہ اہرام مصر کے اندر داخل ہونے کا آیا تو مجھے بہت تکلیف ہو رہی تھی کیونکہ اب تک میرا بجٹ گھر والوں کے لیے شاپنگ کر لینے کے بعد کافی ٹائٹ ہو چکا تھا۔

میرے باس ٹکٹ خرید چکے تھے اور اہرام مصر کے اندر داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے، احتیاطی تدابیر میں واضح طور پر لکھا تھا کہ بلڈ پریشر اور دل کے مریض اندر اپنی ذمہ داری پر داخل ہوں، باس کو نیا نیا بلڈ پریشر ڈائیگنوز ہوا تھا، میں نے ان کو ڈبل مائنڈڈ ہوتے دیکھا تو ٹکٹ خریدے بغیر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، وہ بولے اس حوالے سے گیٹ کیپر سے پوچھو، میں اس کے پاس گیا اس نے صاف کہا کہ ہم بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کو اندر جانے کے لئے ریکمنڈ نہیں کرتے، میں ان کے پاس واپس آیا اور سب احوال بتاتے ہوئے ساتھ ہی کہا کہ آج صبح انھوں نے دو سیاحوں کو اسٹریچر پر باہر نکالا ہے، انہوں نے فوراً ٹکٹ مجھے تھمایا اور بولے تم لوگ اندر سے ہو کر آؤ میں باہر ویٹ کروں گا۔

چھوٹی سی سرنگ نما سیڑھیاں بہت دیر تک نیچے ہی نیچے چلی جاتی ہیں، کچھ لمحوں کے لئے تو مجھے بھی گھٹن محسوس ہوئی لیکن کچھ فاصلے کے بعد ایک مقام پر دائیں اور بائیں دور چھوٹے چھوٹے سوراخ نما روشندان نکالے گئے تھے جس سے کچھ افاقہ ہوا، اسی طرح سفر کرتے کرتے ہم اہرام مصر کی تہہ میں پہنچ گئے جہاں ایک حال نما کمرہ تھا اور بڑے بڑے پتھروں کی سلوں سے بنا ایک بڑا تابوت جو خالی پڑا تھا، دو بڑے بڑے ڈھکن نما پتھر اس تابوت پر پڑے تھے جو سرکا دیے گئے تھے، اصل میں اس پتھر کے تابوت کے اندر وہ تابوت ہوتا تھا جس میں فرعون کی ممی تھی (یعنی حنوط شدہ لاش) جو وہاں سے اٹھا کر میوزیم میں رکھ دی گئی تھی۔

Facebook Comments HS