قید محبت


”جانور اور پرندے کھلی فضاؤں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ زندہ چیزوں کو چھوڑیں قید میں تو در و دیوار بھی گہنائے جاتے ہیں، پتھر روتے ہیں اور ہوائیں چیختی چنگھاڑتی ہیں۔“

بیگم سنی ان سنی کر کے پنجرے میں موجود پرندوں کو دیکھ رہی تھی۔
”یہ لو برڈ کی جوڑی دیکھو، یہ کسی ایک جگہ پر ٹکتے ہی نہیں۔“
”ہاں! بالکل اس انسان کی طرح جس کے دل میں محبت بس جائے تو اسے کسی پہلو چین نہیں آتا۔“

”آزاد ہواؤں کے دوش پر ٹولیوں کی صورت میں اڑنے والے یہ رنگ برنگے پرندے چہچہا کر ، سیٹیاں بجا کر اپنے کھوئے ہوئے ہم جنسوں کو پکار رہے ہیں۔“

وہ اداسی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی ان کی تڑپن اس کے دکھ کو بڑھا رہی تھی۔

”یہ دونوں کھلی فضا کے طالب ہیں۔ کسی گلشن کی تلاش میں ہیں جس کے پھولوں کی مہک سے لطف اندوز ہو سکیں، پر کھول کر اڑ سکیں۔“

”مجھے تو کسی بھی جاندار کو قید دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ انسان ہو یا جانور قید میں اس کی صلاحیتیں زنگ آلودہ ہو جاتی ہیں۔“

”میں خود کسی بھی جاندار کو قید میں رکھنے کا حامی نہیں ہوں۔“
”ہم کیا کر سکتے ہیں لوگوں کے شوق کے آگے بند بھی نہیں باندھا جا سکتا۔“
میری بیگم خدیجہ ہر بات کا دوسرا پہلو ضرور اجاگر کرتی ہے۔

وہ میرے خیالات سے متفق تھی۔ اگر کسی بات پر ہمارا اتفاق نہ بھی ہو تو وہ مان جاتی تھی۔ ویسے بھی کون سا زمین جائیداد کا اختلاف ہوتا تھا یا آل اولاد کے مسائل جو ہم بحث میں الجھ کر اپنی خوشیوں کو آلودہ کرتے۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور زمینوں کی آمدنی ہماری ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔

پرندے اور جنگلی جانور قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔ لوگوں کی اولاد نہ ہو تو وہ جانور، پرندے پال کر دل خوش کر لیتے ہیں۔ ان کو پنجروں میں بند کر کے، زنجیریں ڈال کر اپنے ساتھ لے کر پارکوں، سڑکوں پر گھماتے فخر محسوس کرتے ہیں کہ دیکھو ہمارے اشارے پر یہ کیسے ناچ رہے ہیں۔ خدیجہ کو بھی جانوروں پرندوں سے بہت پیار تھا لیکن وہ آزاد پرندوں کو دانے ڈال کر ، ان کے ساتھ کھیل کر یہ شوق پورا کر لیتی تھی۔ بہت سے پرندے تو اس کے کندھوں پر بیٹھ جاتے، اس کے ہاتھ پر پڑا دانہ چگنے اس کے پاس آ جاتے۔ اسے میری طرح ان کو قید کرنے سے شدید نفرت تھی۔

ہم نے لو برڈز کا وہ جوڑا خرید لیا اور ایک باغ میں لے جا کر انہیں آزاد کر دیا۔

جب سے ہیری پوٹر فلم آئی ہے بچوں کو الو پالنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔ کرنجی آنکھ، چپٹی ناک اور سرخ و سفید رنگت کے یہ عجیب و غریب پرندے جو سوکھے ٹھونٹوں اور اجڑے مکانوں میں بسیرا کرتے ہیں وہ بھی گھروں کے ڈرائنگ روموں کی زینت بن گئے ہیں۔ ہم جس بھی گھر میں کسی الو کو دیکھتے ہیں تو اس کی تعریفیں شروع کر دیتے ہیں اور پھر خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر ماں باپ الو کی حرکتوں سے پہلے ہی تنگ ہوتے ہیں اس لیے بچے کی مخالفت کے باوجود نفع دیکھ کر بیچ دیتے ہیں اور ان الووں کو بھی قفس سے نجات مل جاتی ہے۔

ہم ایک لمبے عرصہ سے یہ کام کر رہے ہیں، جہاں کہیں بھی کوئی جاندار قید ملتا ہے اسے خرید لاتے ہیں۔ کہیں کسی چڑی مار کو دیکھا کہ وہ کندھے پر جال ڈالے اور لاسا لیے جا رہا ہے تو اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ کسی لونڈے کو چاند ماری کرتے دیکھتے ہیں تو اسے سمجھاتے ہیں اور اپنی زمینوں پر یا کاروبار میں نوکری کی آفر دے کر یہ کام چھوڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ عجیب دھرتی ہے۔ یہاں وہ صوفی اور مہاتما پوجے جاتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں سے بھی محبت کرتے ہیں۔ ہندوستان میں شکاری کو کھلنڈرا گناہگار سمجھا جاتا ہے لیکن یہیں کے رشی، منی اور اوتار کندھے پر تیر کمان سجائے دکھائی دیتے ہیں اور بہترین شکاری اور نشانے باز مانے گئے ہیں۔ وہ شیروں پر سواری کرتے ہیں، گدھ عقاب ان کے زیراثر ہوتے ہیں۔ وہ ان پر بیٹھ کر اڑان بھرتے ہیں۔ بندر ان کی فوج ہیں اور ہاتھی گھوڑے ان کے تابعدار غلام۔

قریب قریب ہر جانور کو انسان نے پالا، سکھایا اور سدھایا ہے۔ صرف دو چیزیں نہ بدل سکیں ؛ جانور کی مزاجی خصوصیات اور اس کا من پسند ماحول۔ ان دونوں کے ہم آہنگ ہونے کی انسان نے بھرپور کوشش کی۔ جنگل کے قریب ترین ماحول کو مصنوعی طریقے سے بنانے کے کئی جتن کیے لیکن وہ قدرتی ماحول جیسا توازن قائم نہ رکھ سکا۔ جانوروں کی خصوصیات بدلیں نہ مزاج، جس کا سب سے زیادہ اثر ان کی افزائش نسل پر پڑا۔ خلوت و فطری آزادی اور فطری کاموں میں بدترین رخنہ اندازی کی وجہ سے ان کی نسل بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

جانوروں کو مختلف مقابلوں کے لیے بھی قید کیا جاتا ہے۔

ہمارے علاقے میں بہت سے لوگ کالا تیتر پالتے ہیں۔ یہ انتہائی قیمتی پرندہ ہے جس کی نسل معدوم ہو رہی ہے۔

انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دوستی ان کی بری، دشمنی ان کی بری۔ جس سے نفرت کرتا ہے اسے تباہ و برباد کر دیتا ہے، مگر کبھی کبھی جس سے محبت ہو اسے بھی برباد کر دیتا ہے۔ کالے تیتر کو اس کی محبت مار گئی۔ پرندوں کی یہ نسل زیادہ تر صرف انسانی قید خانوں یعنی پنجروں میں ہی پائی جاتی ہے۔ تیتر سا آزادی کا جویا کوئی پرندہ نہیں۔ یہ پنجرے سے کبھی مانوس نہیں ہوتا اور دن رات پنجرے کی در و دیوار سے ٹکریں مارتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر اور پروں سے خون بہنے لگتا ہے۔

اس کو تلف ہونے سے بچانے کے لیے پنجرے سوت کی جالی سے بنائے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے آغاز میں صبح تڑکے جب ابھی دھندلکا چھایا ہوتا ہے تو تیتر بولنا شروع کرتا ہے۔ اس کی آواز میں تمنا، یاس اور التجا ہوتی ہے۔ ہمیں اس کی آواز کا دکھ بہت ستاتا ہے۔ خدیجہ تو اسے سنتے ہی رونے لگتی ہے۔ اسی لیے ہم اگر کسی کے پاس اس پرندے کو دیکھیں تو ہر قیمت پر خرید کر آزاد کر دیتے ہیں۔

پھر ہم نے شہر شہر گھومنا شروع کر دیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں جوں جوں لوگوں کے لہجے، رہن سہن، شکل و صورت اور عادات و اطوار تبدیل ہوتی ہیں لوگوں کے شوق بھی بدلتے جاتے ہیں۔ لیکن سب میں ایک عادت مشترکہ ہے کہ سب کسی نہ کسی جاندار کو قید کرنا یا پالنا پسند کرتے ہیں۔ ہمیں بھی جو مل جاتا ہم خرید لیتے۔ غرض ہم نے کئی سہرے، گوریاں، طرقہ، طوطے، قناریاں، بلبل، چڑیا، کوے خرید کر آزاد کر دیے۔

بچپن میں ہم نے دیکھا کہ لوگ کتے بلیاں پالتے تھے۔ جوں جوں ملک میں امارت آتی گئی لوگوں کے شوق بھی مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کچھ لوگ سانپ، شیر اور چیتے جیسے خطرناک جانور بھی گھروں میں رکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملک میں الیکشن کا سیزن شروع ہونے والا ہے شیر کے نشان نے تو شیروں کی قسمت خراب کر دی ہے۔ جوں جوں الیکشن قریب آئے گا کئی شہروں میں شیر نظر آنے لگیں گے۔ کچھ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں گے، کچھ جلیں گے۔

ہمیں غرض نہیں کہ کوئی شیر پر مہر لگائے یا تیر پر ، کسی نے بلے کو سر پر سوار کیا ہو یا سائیکل پر سواری کر رہا ہو، ہمیں تو جنگلوں کے باسی شیر کو جنگلے کے اندر دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔

ہم نے ابھی سے شیروں کے بیوپاری ڈھونڈنے شروع کر دیے ہیں۔

ہمیں ایک آدمی کے بارے میں پتا چلا کہ اس نے ایک شیر پالا ہوا ہے۔ ہم اس کے پاس پہنچ گئے۔ سڈول گٹھا ہوا بے داغ جسم جس پر سنہری مائل رونگٹے جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ لمبوترے سر اور اونچی گردن کے گرد سنہری بالوں کی جھالر لٹکی ہوئی تھی۔ تنے ہوئے سینے اور مضبوط جوڑ بند والے جنگل کے بادشاہ کو پنجرے میں قید دیکھ کر دل بیٹھنا شروع ہو گیا۔ مالک بڑے سے پنجرے کے اندر جا کر اسے سدھا رہا تھا۔ وہ اسے اشارہ کرتا تو شیر کان سمیٹ کر کھیسیں کاڑھے زمین سے چپک جاتا۔

دوسرے ہی لمحے جب اسے آنکس دکھاتا تو وہ برا سا منہ بنا کر ناک ایسے سکوڑ لیتا کہ اوپر والے ہونٹ کے دونوں کنارے اٹھ جاتے اور وہ شعلے برساتی آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے اس کے طرف دیکھنے لگتا۔ شیر کی چال سے صاف نظر آ رہا تھا کہ اسے افیون جیسے نشے کا غلام بنا کر کر اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی سے چلایا جا رہا تھا۔

خدیجہ اسے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ مڑ کر میری طرف دیکھا میں نے شیر کے مالک کو آواز دی، ”اسے بیچو گے؟“
”صاب! آپ نے اس کا کیا کرنا ہے؟“
”میں اسے پالوں گا۔“
”میں اسے بیچنا نہیں چاہتا۔“
”کیوں؟“
”اگلے دو مہینے یہ جلسوں میں کرائے پر جائے گا اور مجھے اس کی قیمت سے کہیں زیادہ کمائی ہوگی۔“

”جلسوں میں تو بہت شرارتی لوگ بھی ہوتے ہیں۔ کسی نے بدکا دیا تو یہ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔“ خدیجہ بھی اس کو قائل کرنے کی کوشش میں شامل ہو گئی۔

”میم صاب! یہ ممکن نہیں، میرا شیر، میرا بادشاہ، شاہانہ وقار کا پاسبان ہے، شاہانہ انداز اور طور طریقوں کا شیدائی ہے یہ کوئی ایسی لچر بات یا حرکت نہیں کرتا۔“

”یہ گرم ملک ہے یہاں کے پالتو کتے بھی تاؤ باز ہوتے ہیں۔ کمزور سا جنگلا ٹوٹ سکتا ہے اور اگر یہ آزاد ہو گیا تو لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگ اٹھیں گے۔ تمہاری کوئی بھی کوتاہی یا لاپرواہی موت کے مول تولنا پڑ سکتی ہے۔ “

خدیجہ نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ اس کی آنکھوں میں اتنی شدید تڑپ کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ ہر حال میں اسے خرید کر آزاد کرنا چاہتی تھی۔

میرے ذہن میں بہت سی باتیں گھوم رہی تھیں۔ ہم اسے خرید تو لیتے، اسے آزاد کہاں کریں گے؟ پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے، یہاں کوئی ایسا لق و دق کھلا میدان، کوئی گھنا جنگل نہیں جہاں شیر آزادانہ گھوم سکیں۔ میں یہ سوچ کر کچھ ہچکچا رہا تھا۔

خدیجہ کے اختیار میں ہوتا تو وہ اس دنیا میں، اس ملک میں یا کم از کم اس سرزمین میں جہاں ہم رہتے ہیں کسی جاندار کا قید نہ رہنے دیتی۔

شیر کا مالک ہمیں غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ خدیجہ ہر حال میں شیر خریدنا چاہتی ہے۔
”بیگم صاحبہ! جنگل کا یہ بادشاہ میں نے سدھایا ہے، یہ خطرناک نہیں۔“
مالک کا الہڑ پن اور بے باکی سے جواب دینے کا انداز ہمیں مشکل میں ڈال رہا تھا۔
خدیجہ کی تیوری چڑھ گئی اور وہ پہلے میری طرف دیکھتی رہی اور پھر اس کو مخاطب ہو کر بولی،

”شیر شیر ہی ہوتا ہے اور انسانوں کو دیکھ کر بھولی ہوئی جنگلی سرشت دوبارہ اختیار کر سکتا ہے۔ وہ جنگل کا بادشاہ ہے کبھی بھی بادشاہت کا غرور، طاقت کے نشے کی سرشاری اور جبلی خونخواری اس پر حاوی ہو سکتی ہے۔“

شیر کے مالک نے غصے کو محسوس کر لیا تھا لیکن اس پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ بانک پن سے سر پر انگوچھا اس طرح باندھے کھڑا تھا کہ اس کے دونوں سرے کانوں کی طرف جھومر کی طرح لٹک رہے تھے۔ گلے میں ایک کپڑا سکارف کی طرح بندھا تھا۔ بدن پر سوتی شلوکہ پہنے، دھوتی کی بجائے ایک چادر تہمت کی طرح پنڈلیوں سے اونچی لپیٹے کھڑا تھا۔ بڑی بڑی چمکیلی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہنے لگا،

”مرد اور شیر کے شاہانہ نخرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دونوں ہی طاقتور اور غضبناک درندے ہیں۔ اگر عورتیں مردوں کو رام کر لیتی ہیں تو یہ شیر بھی میرے سامنے بھیگی بلی بنا کھڑا رہے گا۔“

وہ انتہائی غلط بات کر رہا تھا۔ ہم اس جیسے جنگلی آدمی کے منہ نہیں لگنا چاہتے تھے کیونکہ وہ بدتمیزی پر اتر آیا تھا۔ وہ بولتا جا رہا تھا،

”شیروں کو سدھانا مردوں پر حکومت کرنے کے برابر ہے۔
میم صاب! ایک کام آپ کرتی ہیں اور دوسرے سے ہم رزق کماتے ہیں۔ ”
ہم ناکام واپس لوٹ آئے۔

وہ رات ہم پر بہت بھاری تھی۔ خدیجہ زندگی میں پہلی بار مجھے اتنی افسردہ نظر آئی۔ میں دلجوئی کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ وہ بار بار اس کے فقرے دہرا رہی تھی،

”مردوں پر حکومت؟ بھیگی بلی؟ سدھانا؟“
”وہ بکواس کر رہا تھا۔“ میں نے سمجھایا لیکن اس کی ڈپریشن ختم نہیں ہو رہی تھی۔

”کون کس پر حکومت کرتا ہے؟ کون غلام ہے اور کون آقا؟ مردوں کی اس دنیا میں عورت کی حیثیت ہی کیا ہے؟ اس کی سوچ تک آزاد نہیں وہ تو خود ساری عمر مرد کے سامنے بھیگی بلی بنی رہتی ہے، وہ کیا حکومت کرے گی؟“

”میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ کل اس شیر کو ضرور خرید لاؤں گا۔“
”بات شیر کی نہیں، آزادی کی ہے۔“
”اسے آزاد بھی کر دیں گے۔“

”کہاں آزاد کر دیں گے؟ جیسے عورت آزاد ہو کر کہیں نہیں جا سکتی ویسے ہی آزاد شیر کے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔“

”عورت اور شیر کا کیسے مقابلہ کر رہی ہو؟“

”میں عورت اور جانداروں کی قید کی بات کر رہی ہوں۔ یہ پرندے، یہ کتے بلیاں، یہ شیر جسے انسان اپنی قید میں رکھ کر کہتا ہے کہ میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں، ان کی بہت خدمت کرتا ہوں ایسے ہی مردوں نے عورت کو اپنی محبت کے جال میں قید کر رکھا ہے۔“

”کیا تمہارا میرے بارے میں بھی یہی خیال ہے؟“
وہ خاموش ہو گئی۔
اس کی خاموشی نے مجھے پریشان کر دیا۔ وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔

مجھے بیس سال پہلے کے دن یاد آ رہے تھے جب وہ ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرا کرتی تھی، بلبل کی طرح چہکتی اور تیتری کی طرح گاتی تھی۔ شیرنی تھی وہ شیرنی، اس طرح اچھلتی تھی جیسے کوندا لپکے۔ میں نے اسے پانے کے لیے بہت کشٹ اٹھائے، جتن پیلے، محبت کے جال بچھائے اور پریم نگر کے بازار گرم کیے۔ اس کی محبت میں مجھے ایک ہی وقت میں ماضی، حال، مستقبل، زندگی اور موت دکھائی دیتے تھے۔ ویسے بھی محبت میں موت اور زیست یکساں ہیں۔ محبت میں صرف جذبات آزاد ہوتے ہیں باقی سب کچھ قید۔ میں اسے جذباتی محبت میں الجھا کر اپنی قید میں لے آیا تھا۔

میرے اندر ناقابل بیاں ہیجان پیدا ہو گیا اور دل بیٹھنے لگا۔ جذبات درہم برہم ہو گئے۔ مجھے اپنے میں موجود تمام اعتماد ڈھلتا ہوا محسوس ہوا۔ میری محبت کا جال پاش پاش ہو گیا تھا۔ کشمکش اور جذبات کے اتار چڑھاؤ کے لمحات جوں جوں طویل ہو رہے تھے اعصاب شل ہوتے جا رہے تھے۔

اس کے بعد کئی دن تک اس پر پژمردگی چھائی رہی۔ شیر کو آزاد کرنے کے چکر میں ہمارے درمیان خلیج حائل ہونا شروع ہو گئی تھی۔

عمر گزر گئی تھی میں نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اب اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے۔ کمر جو کبھی ماند سرو بہشت سیدھی تھی اس میں کچھ جھکاؤ آ گیا تھا۔ آنکھیں جو ستاروں کی طرح روشن تھیں وہ دھندلی پڑ گئی تھیں۔ وہ نظر جما کر میری طرف نہیں دیکھتی تھی۔ وہ ہونٹ جن پر ہمیشہ تبسم سجا رہتا تھا بات کرتے وقت ان پر پہلے والا ترنم نہیں تھا۔ اس ساری تبدیلی پر میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ میں تو اسے پیار اور حفظ مراتب کا احساس سمجھتا تھا اب مجھے پتا چلا کہ اس میں زیادہ تر فکر و اندیشے اور دباؤ کا عنصر شامل تھا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ حفظ مراتب تو برتری اور دباؤ کا امتزاج ہے۔ جہاں یہ ہو وہاں پیار نہیں خوف حکومت کرتا ہے۔

کچھ دن مزید گزر گئے۔ حالات ویسے ہی تھے۔ میں نے اسے آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی، ”تم نے بہت دیر کردی۔“
اس کی آواز میں لا متناہی درد تھا۔

اس کے مرجھائے ہوئے ہونٹوں پر انوکھی سی مسکراہٹ تھی، وہی مسکراہٹ جو شاید رادھا کے ہونٹوں پر کرشن کو سو سال کی جدائی کے بعد پا کر پھیلی ہوگی۔ اس مسکراہٹ میں وہ خوشی تھی جو جوانی میں محبوب سے ملاپ کے خیال میں عورت و مرد کے چہرے پر پیدا ہوتی ہے۔

پھر اس کے چہرے پر ایک اور ہی کیفیت جگمگانے لگی۔ آنکھیں شکایت سے بھری تھیں جیسے کہہ رہی ہو،

”اے ظالم! تم نے ایک عورت کو بہت دیر انتظار کروایا۔ تم نے اس جذبہ نسوانیت کو قید کیے رکھا جس کے سبب عورت اور مرد کا تعلق ایک لاجواب اور ماورائی شے لگتا ہے۔“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments