ہومیو پیتھک طریق علاج کیا ہے؟

ہومیو پیتھک دوائی میں کافی اُلجھنیں، پیچیدگیاں اور نزاکتیں پائی جاتی ہیں، اِس لئے اِسے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہاں کچھ گمبھیر مسائل کی وضاحت کر دی ہے تاکہ کم از کم باریک بین اور نُکتہ داں حضرات تو اِسے سمجھ سکیں۔ میرے نزدیک ہومیو پیتھی میں نئے نئے نکات تلاش کرنا، اِک سائنسی عمل ہے، جسے ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ اب ہومیو پیتھ دوائی کے کچھ ایسے حقائق ملاحظہ ہوں، جو اکثر سمجھے اور سمجھائے نہیں جاتے۔

Read more

”صد رنگ“ کی جلوہ گری

صد رنگ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر دو کالم شائع ہوئے ہیں۔ جو در اصل ہم سب کے مدیر وجاہت مسعود صاحب کے ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے لئے ہوئے، انٹرویوز ہیں۔ مسعود صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو خوب کنگھالا ہے۔ علم و ادب کی باتیں کیں، شعر و شاعری کا ذکر ہوا۔ شاعروں کو مقبول شعروں کے حوالے سے یاد کیا۔ یورپی نفسیات دانوں کو متعارف کرایا گیا، جو عام لوگوں کی نظر

Read more

جب حسن و جمال بنا عذاب

کسی نے کیا خوب کہا ہے اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے جس نے ڈالی، بری نظر ڈالی بچپن میں خواتین کو گدے میں یہ بولی گاتے بھی سنا گیا۔ گورا رنگ نہ کسے نوں رب دیوے، سارا پنڈ ویر پے گیا یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں انسان کی عملی زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے واقعات ضرور محفوظ ہوں گے کہ جب کسی کا حسن وبال جان بن گیا ہو۔

Read more

فلسفہ کے بنیادی اصول

نسل انسانی میں دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک مکتب روحانیت پرستی اور دوسرا فلسفہ پسندی کا ہے۔ ان کے انداز فکر اور خصوصیات میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ روحانیت پرستی کی معروف شکل عقیدہ پسندی ہے، ظاہر ہے کہ اس کے بنیادی اصول اور ضابطے کوئی روحانی پیشوا ہی بہتر بتا سکتا ہے۔ البتہ خاکسار فلسفہ کا قاری ہے، اس لئے میرے نزدیک فلسفہ کے جو بنیادی اصول اور قانون ہیں، ان کا ذکر اس کالم میں

Read more

انسانی زندگی کے رنگ

وہ کون تھا؟ جس نے اپنے حالات سے انسانی زندگی کے رنگ نمایاں کیے ۔ دسمبر کی یخ بستہ رات ڈھل چکی تھی۔ ایک عورت شام سے درد زہ میں مبتلا تھی۔ ماں دائی کی ابھی تک کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تھی۔ یخ بستہ ہوائیں، ٹوٹے پھوٹے دروازے سے شاں شاں کرتی کمرے پر حملہ آور تھیں۔ دائی اماں شور مچا رہی تھی کہ کمرہ سرد ہے، اسے گرم کرو۔ دروازے پر لٹکا بوسیدہ سا پٹ سن کا ٹاٹ

Read more

فلسفہ کی حقیقت؟

فلسفہ (Philosophy) لاطینی زبان کے دو الفاظPhillia اور Sophia کا مر کب ہے۔ Phillia کے معنی ہیں محبت (Love) اور Sophia کے معنی، عقل (Wisdom) کے ہیں۔ پس فلسفہ کے لفظی معنی ہوئے ”عقل سے محبت۔“ (Love to Wisdom ” بلا شبہ محبت کرنے سے مراد کسی سے پیار کرنا، چاہنا اور عشق کرنا کے ہوتے ہیں۔ اور عقل پسندی سے مراد غور و فکر کرنا، در پیش مسائل کا دانائی سے شعور و ادراک حاصل کرنا کے ہیں۔ اسے

Read more

داستانِ فلسفہ

فلسفہ کیا ہے؟ اِس سوال کا تاحال کوئی مُسلّمہ اور متفقہ جواب نہیں ملتا۔ نہ جانے فلسفہ کی شناخت کو کیوں معدوم کیا گیا اور اُسے پارہ پارہ کر کے مختلف شکلوں میں تقسیم کر دیا گیا؟ پھر فلسفہ پر ستم ڈھایا کہ اِس کی علمی حیثیت کا ہی انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ فلسفہ کا کوئی ثِقّہ مضمون ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ علم نہیں ہے۔ فلسفہ کے ایک معروف پروفیسر لکھتے ہیں کہ ”فلسفے

Read more

الوداع، اے زندگی: ایک سچے واقعہ پر مبنی قصہ

غربت کے غموں کا مارا شاہد دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ ایک دن اس کے باپ نے کہا کہ وہ اسکول سے واپسی پر سیٹھ عابد کے گھر چلے جایا کرے۔ وہ جو فرمائیں ان کے کام کرے اور جب تک وہ چاہیں وہیں رہے۔ شاہد کے کلاس فیلوز اسکول سے واپس آ کر ہوم ورک کرتے اور گراؤنڈ جا کر کھیل کود میں خوب رنگ رلیاں منانے لگتے۔ لیکن شاہدا سکول سے واپسی پر سیٹھ عابد کے گھر

Read more

ہومیو پیتھی کا ماضی، حال اور مستقبل

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہومیو پیتھی کے ماضی کو اس کے آغاز سے شروع کیا جائے۔ یہ 1790 ء کا واقعہ ہے کہ ایک ڈاکٹر آف میڈیسن نے قانون علاج بالمثل دریافت کیا۔ اگلے چھ سال وہ اس قانون پر مزید تحقیق کرتا رہا۔ اس وقت اس خطہ ارض پر ایک ہی ذات ہومیو پیتھی کا ڈاکٹر، فارماسسٹ اور مریض تھی۔ وہ جرمنی کے شہر لائپزک میں ڈاکٹر فیڈرک کرسچن سموئیل ہانیمین تھے۔ ماضی کا دور 1796 ء میں

Read more

قانون ویکسی نیشن اور ہومیو پیتھی

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ دوائی کی قلیل مقدار بھی موثر ہوتی ہے، ویکسین اس کی عمدہ مثال ہے۔ ویکسی نیشن کا اصول ہے کہ اگر کسی بیماری کے کمزور جراثیم یا بیماری کا مواد قلیل مقدار میں صحت مند جسم میں داخل کر دیا جائے، تو وہ جسم اس بیماری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اب تک کئی امراض کی ویکسین بنا کر انسانوں کو متعلقہ امراض سے محفوظ کیا جا چکا ہے۔ گویا یہ ایک تجرباتی حقیقت

Read more

ہومیو پیتھی کیا ہے؟

یہ 1790 ء کا ذکر ہے کہ جرمنی میں ایکM۔ D، ڈاکٹر ہانیمین نے دریافت کیا کہ کوئی شے جو کسی مرض کا علاج کرتی ہے، دراصل اس میں وہ مرض پیدا کرنے کے اثرات ہوتے ہیں۔ اس اصول کو عبرانی زبان میں Similia similibus curantur اور انگلش میں like cures like کہا گیا۔ اسے علاج بالمثل یعنی ہومیو پیتھی کا نام دیا گیا۔

واضح ہو کہ ہومیو پیتھک علاج اور دوائی پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ اس کے بعض ایسے ٹھوس حقائق ہیں، جو بظاہر معمہ اور افسانہ لگتے ہیں۔ جیسا کہ

” ماسوائے مدر ٹنکچر کے ہومیو پیتھک دوائی کا کوئی رنگ، بو اور ذائقہ نہیں ہوتا۔ جس مادے سے ہومیو دوائی بنی ہو، دیکھ، سونگھ یا چکھ کر اس کی پہچان نہیں ہوتی۔ جملہ ہومیو پیتھک ادویات بظاہر الکوحل، ملک شوگر یا عام چینی کی گولیاں ہوتی ہیں۔ کسی طرح بھی ہومیو دوائی کی پوٹنسی یعنی طاقت معلوم نہیں ہوتی۔ ہومیو دوائی کی ایک چھوٹی سی گولی کی طاقت (Potancy) ایک لاکھ بھی ہو سکتی ہے۔ ہومیو دوائی کی اکٹھی ایک گولی کھائیں یا سو گولیاں ایک ہی خوراک ہوتی ہے۔

Read more

انسان کتنا عظیم ہے؟

کارخانہ قدرت میں انسان کو اعلی مقام حاصل ہے۔ وہ ایسی خصوصیات اور صلاحیتیں رکھتا ہے کہ دیگر ہر کائناتی شے پر حاوی ہو تا جا رہا ہے۔ وہ چرند، پرند، حیوانات اور نباتات اور فطری توانائیوں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی بے پناہ قوت رکھتا ہے۔ ننگ دھڑنگ اندھیری غاروں میں رہنے والا انسان قدرتی آفات، جنگلی جانوروں اور حشرات الارض سے محفوظ نہ تھا۔ آگ کی دریافت کے بعد رات کو ان آفات سے بچنے کے

Read more