نواز شریف خوشامدیوں کا گھیرا توڑیں ورنہ جلاوطنی کے لیے تیار رہیں


مشرف دور میں جلا وطن کیے جانے والے میاں محمد نواز شریف جب نومبر 2007 کو پاکستان تشریف لائے تو عوامی ردعمل میں خاصا جوش و خروش تھا اس کا موازنہ 21 اکتوبر 2023 سے کیا جائے تو لندن سے پاکستان تشریف لانے والے نواز شریف اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کے تارے تو ہیں مگر عوامی پذیرائی میں خاصی کم ہو چکی ہے۔ حالیہ ہونے والے سروے تو الگ ہی کہانی پیش کر رہے ہیں۔ دو مہینے کی مسلسل فنڈڈ مہم کے بعد بھی مینار پاکستان کے میدان میں 5 فیصد سے کم لوگ لاہور سے انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔

مجھے یاد جب وہ 2007 میں جدہ کی جلا وطنی ختم کر کے لاہور ائر پورٹ پر پہنچے تھے تو ائر پورٹ پر 80 فیصد لوگ لاہور سے تھے اور ان لوگوں کی آنکھوں میں نواز شریف کے لیے ایک جذبہ موجود تھا۔ اب کی بار ترانوں کے ذریعے جذبہ پیدا کرنے کی کوشش تو کی گئی مگر رنگ پھیکا ہی رہا۔ نواز شریف کے گرد ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ان کو محسوس ہو کہ اس ملک میں صرف اب وہ ہی عوامی لیڈر ہیں حالانکہ اب ان کے اور عوام کے درمیان رشتہ خاصا کمزور ہو چکا ہے۔

اگر میاں محمد نواز شریف کی سیاست کے حوالے سے لاہور کو نبض کی حیثیت دی جائے تو صورت حال کافی واضح ہو جاتی ہے۔ نواز شریف جب مقتدر حلقوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جی روڈ سے گرجتے برستے مجھے کیوں نکالا کا نعرہ بلند کرتے لاہور پہنچے تو بھاٹی کی سڑک پر اتنی ہی جنتا تھی جتنی میاں صاحب پنجاب کی وزرات اعلیٰ کے دور میں کسی کارکن کا جنازہ پڑھنے جاتے تو اکٹھی ہو جایا کرتی تھی۔ میاں صاحب نے اس صورت حال کا باقاعدہ مشاہدہ بھی کیا اور اس کی باز پرس بھی کی مگر وہ شاید اس کا تجزیہ گہرائی میں کرنے سے قاصر رہے۔

ان کے سیاسی حریف عمران خان کا بھی ایک مزاج ہے کہ وہ اپنے حریف کے خلاف اس کی ہوم گراؤنڈ پر بہترین پرفارمنس دیتا ہے۔ یہی کچھ اس نے میاں نواز شریف کی مسلم لیگ نون کے ساتھ لاہور میں کیا ہے۔ آج لاہور کی صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ پورے پنجاب میں مسلم لیگ نون کو لاہور سے شکست کے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ مگر خوشامدی نواز شریف کو کبھی مری لے جاتے ہیں کبھی منسٹر انکلیو میں لے جاکر وزیراعظم بنا دیتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں اب آپ نے صرف حلف اٹھانا ہے۔

میاں محمد نواز شریف کبھی سیالکوٹ میں خواجہ محمد آصف کے گھر کے باغیچے میں وزیراعظم نواز شریف کے نعرے سنتے ہیں تو کبھی مری کے گھر میں خوشامدی ان کو وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا غالباً 2002 کے عام انتخابات شاہدرہ کا حلقہ تھا۔ مرحوم حافظ سلمان بٹ میاں محمد اظہر کے خلاف قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے تھے۔ سیاسی پنڈت کہتے تھے کہ یہ یک طرفہ انتخاب ہو گا۔ میاں اظہر اس حلقے سے جیت کر وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔

وہ اس حلقے سے پہلے بھی متعدد بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے تھے۔ ان انتخابات کے وقت نواز شریف جدہ میں تھے مگر جب حافظ سلمان بٹ تقریر کے دوران یہ نعرہ لگاتے کہ میں آدمی ہوں نواز شریف کا تو جلسہ گاہ کی کیفیت ہی بدل جاتی تھی مسلم لیگ نون کا ورکر نواز شریف کے نام پرتن من دھن کی بازی لگا دیتا تھا۔ اسی جذبے کی وجہ سے حافظ سلمان بٹ نے مسلم لیگ ق کے سربراہ کو شکست دے دی تھی۔

سوال تو یہ ہے لاہور میں مسلم لیگ نون کی یہ ابتر حالت کیسے ہو گئی۔ اس کے لیے آپ کو یہ بھی غور کرنا پڑے گا کہ آخر پیپلز پارٹی کے لاہور قلعے میں شگاف کیسے پڑا تھا اور اس کو مسلم لیگ نون نے کیسے فتح کیا تھا۔ میاں نواز شریف کو چاہیے کہ خوشامدیوں کا گھیرا توڑ کر ان اسباب پر غور کریں۔ اور اس بات کا جتنی جلدی ادراک کر لیں اتنا ہی اچھا ہے کہ لاہور کے قلعے پر پاکستان تحریک انصاف قبضہ کر چکی ہے اور عمران خان نے نہایت عمدہ حکمت عملی سے لاہوریوں کے دلوں کو فتح کر لیا ہے۔ لاہور کے لوگ بھی ایک خاص سیاسی مزاج رکھتے ہیں جس کا سب سے اہم جزو مزاحمت اور بڑھک ہے۔

جناب سابق وزیراعظم عمران خان کا بڑھک میں پاکستان کیا دنیا بھر میں ثانی نہیں پایا جاتا۔ جناب خان صاحب بھی ہر وقت مزاحمت کا محاذ کھلا رکھتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی بھی دروازہ مزاحمت کے لیے کھلا نا ملے تو وہ اپنے ہی خلاف مزاحمت شروع کر دیتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو اب سیاست میں نئے طریق اور اسلوب کی ضرورت ہے۔ کیا ہی اچھا ہو وہ سیاسی ورکرز کے ساتھ اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کر لیں۔

مگر سوال تو یہ کہ کیا خوشامدی ایسا ہو نے دیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلم لیگ نون کو نئے سیاسی بالغ چہروں کی ضرورت ہے جو تعلیم اور سیاسی شعور سے بہرہ ور ہوں مگر اس کے لیے میاں صاحب کو خود لنگوٹ کسنا ہو گا۔ مسلم لیگ نون کی ایک تنظیمی مثال دے کر آگے بڑھتے ہیں۔ لاہور میں مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل صاحب پارٹی کے تو بہت وفا دار ہیں مگر ان کا اپنا کوئی سیاسی حلقہ ہی نہیں ہے۔ وہ لاہور کی ساری تنظیم صرف ایم این ایز اور ایم ہی ایز کو ہی سمجھتے ہیں۔

وہ میلہ سجانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بس ان کی کوشش ہوتی ہے کسی نا کسی طرح میلہ کو لوٹ لیا جائے کبھی سٹیج پر اپنی موجودگی سے اور کبھی کارواں میں سب سے آگے گاڑی لگا کر، اس وقت لاہور میں مسلم لیگ نون کو میلہ سجانے والوں کی ضرورت ہے۔ جناب سیف الملوک مخلص بھی ہیں محنتی بھی مگر اس وقت جدید طرز پر استوار سیاسی حکمت عملی سے نا اشنا ہیں۔ لاہور کے صدر میں سب کچھ ہے مگر وہ ماڈرن سیاسی ہتھیاروں سے نا بلد ہیں ان کے انتخابی حلقے اور باقی لاہور کے حلقوں کے مزاج میں بھی فرق ہے۔

ان کی اپنے حلقے کے لحاظ سے کارکردگی بہت اچھی ہے مگر لاہور کی صدارت ان کی انتظامی صلاحیت سے بڑا کام ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نون کو پرویز ملک کی یاد آتی ہو گی۔ ان کی لاہور کی تنظیم میں مالی انویسٹمنٹ تو بہت کم ہو گی مگر لاہور کا کوئی بھی کارکن سماجی رابطوں کے لحاظ سے ان سے برتری نا لے سکا۔ لاہور کا تنظیمی ڈھانچہ نا اہل تو ہے ہی مسلم لیگ نون کے لیے باعث تشویش یہ ہے غیر متحرک بھی ہے۔ اس وقت لاہور میں صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی کا امیدوار صوبائی اسمبلی کے امیدوار کو دیکھنے کا بھی روا دار نہیں۔

ایسے میں لاہور کی باگ ڈور سعد رفیق کے حوالے کر دینی چاہیے اگر ممکن ہو تو انہیں پنجاب کا صدر بنا دینا چاہیے نواز شریف کو غیر منتخب لوگوں سے اجتناب کرنا چاہیے پڑھے لکھے اور سال سے کم امیدواروں کا کوٹہ کم از کم 40 فیصد ہونا چاہیے۔ پبلک نئے چہرے دیکھنا چاہتی ہے یہ نا ہو کہ عوام تحریک انصاف کے نئے چہروں کو ووٹ دے کر ایسی تبدیلی لیں آئیں جس کا خواب کبھی عمران خان صاحب عوام کو دکھاتے تھے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ملک میں غیر ارادی طور پر ایسا انقلاب آ جائے جس کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا ہے دیکھنا ہو گا کہ مسلم لیگ کے قائد روایتی سیاست کرتے ہیں کہ حالات کو سمجھتے ہوئے کچھ سر پرائز دیتے ہیں۔ مگر کچھ بھی کریں خوشامدیوں کا گھیرا توڑ دیں ورنہ ایک اور جلا وطنی کے لیے تیار ہو جائیں۔

Facebook Comments HS