چبھیانہ اسٹیشن اب خاموش رہتا ہے
چھبیانہ، کیا اچھوتا اور دل کش نام ہے۔ سر راہ آباد ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے۔ یہی نام اس ریلوے اسٹیشن کا بھی ہے جو منچن آباد سے بہاول نگر جاتی سڑک کے پہلو میں کھڑا دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔ منچن آباد سے تقریباً بارہ کلومیٹر اور بہاول نگر سے تقریباً چوبیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ نام اس کا خوب صورت ہے لیکن اس کی کہانی درد ناک ہے۔
دسمبر کی ٹھنڈی اور سنہری دوپہر ہے۔ سورج نے گندم اور سرسوں کے کھیتوں میں دھوپ کی حسیں چادر بچھا رکھی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کی بوڑھی عمارت کے سامنے زنگ آلود پٹڑی پر بھینسیں بیٹھی جگالی کر رہی ہیں۔ چرواہا تھک ہار کر پرالی پر سو رہا ہے۔ اس کا کالے اور سفید رنگ کا کتا بھی پاس ہی سستا رہا ہے۔
کھجور کے دو درخت دھوپ کی بکل اوڑھے اونگھ رہے ہیں۔ پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ اسٹیشن کی عمارت سے مشرق میں نیم کے پانچ اور مغرب میں چار پیڑ قطار میں کھڑے ہیں۔ چاق و چوبند سنتریوں کی طرح۔ اسٹیشن کے محافظ ہوں جیسے۔
چھبیانہ ریلوے اسٹیشن ریاست بہاول پور میں انیسویں صدی کے آخر میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ ہندوستان کی اہم ریلوے لائن پر واقع ہے۔ سمہ سٹہ بھٹنڈہ لائن سے جڑے اس ریلوے اسٹیشن سے گھمنڈ پور، محمد پور سنساراں، خوشحال سنگھ، سید علی، منشی اتاڑ، فدائی شاہ، موسم والا، پناں بستی سمیت پورے علاقے کے سینکڑوں ڈھاریوں، بستیوں اور آبادیوں کے ہزارہا مسافر ریل گاڑی پہ سوار ہوتے تھے۔ مشرق کی طرف دلی تک اور مغرب میں کراچی تک جاتے تھے۔ چبھیانہ ریلوے اسٹیشن ریل گاڑی کے ذریعے کتنے لوگوں کے میل کرواتا تھا۔ کچھ گھر کو لوٹتے ہوں گے، کچھ پردیس کے راہی ہوتے ہوں گے۔
چبھیانہ ریلوے اسٹیشن ایک بار نہیں بلکہ دو بار اجڑا ہے۔ پہلی بار تب برباد ہوا جب سن سنتالیس میں چڑھتے سورج کی طرف پھیلے وسیع ہندوستان سے کٹ گیا۔ امروکا کے قریب بارڈر بن گیا۔
چبھیانا سے پورب میں منچن آباد، منڈی صادق گنج، سوبھے والا اور امروکا کے اسٹیشن آتے ہیں۔ اس ریلوے لائن پر امروکا پاکستان کا آخری اسٹیشن بن گیا۔ دلی، بھٹنڈہ سمیت ہزاروں شہر، گاؤں، گلی کوچے ایک دم اجنبی بن گئے۔ چبھیانہ کا یہ ننھا سا اسٹیشن ہکا بکا رہ گیا۔ اس علاقے سے ہندووں اور سکھوں کو اجڑتا دیکھ کر پہلے ہی افسردہ تھا۔ سرحد پار سے آئے مسلمانوں کی ابتر حالت دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ حیراں تھا کہ ایک ساتھ بستے سنگی ساتھیوں کو ایک دم ایسا کیا ہوا کہ الگ الگ ہو گئے۔ مل کر چلنے والے ایک دوسرے کے دشمن کیونکر ہو گئے۔
پاکستان بننے کے بعد دوسری بار چبھیانہ ریلوے اسٹیشن تب برباد ہوا جب یہاں ریل گاڑی چلنا بند ہو گئی۔ ریل کی چھک چھک کے بنا جینا اس نے سیکھا نہیں تھا۔ آتے جاتے رنگ رنگ کے مسافروں کی گہما گہمی اس کی زندگی تھی۔ ریل کی سیٹی اس کی دھڑکن تھی۔
دھڑکن کب کی رک چکی۔ مسافر کب کے سدھار گئے۔ پٹڑی اکھڑ گئی۔ اسٹیشن کے در و دیوار ٹوٹ گئے۔ ٹکٹ گھر کی کھڑکی کو اینٹوں سے کسی نے بند کر دیا ہے۔ ویران کمروں نے کسی کسان نے توڑی بھر دی ہے۔ دیوار پر لکھا کرایا نامہ جگہ جگہ سے مٹ چکا ہے۔
دھیرے دھیرے اسٹیشن ماسٹر کے گھر میں بھوتوں کا بسیرا ہو گیا۔ عملے کے کوارٹر میں ویرانی بسنے لگی۔ کھجور کے پیڑ تنہا ہو گئے۔ نیم کے درختوں نے چپ سادھ لی۔
چبھپانہ ریلوے اسٹیشن نے بھی لمبی چپ کی موٹی چادر اوڑھ لی۔ ٹریفک کا شور ہو، آوارہ کتے بھونکتے رہیں خواہ چرواہے چلاتے رہیں، چبھیانہ خاموش رہتا ہے۔
ہمارے ملک پہ آسیب کا سایہ ہے کوئی، یا اس کو جن بھوت اور چھلاوے ایسے چمٹے ہیں کہ یہاں ہر چیز نے زوال کی طرف ہی سفر کیا ہے۔ چبھیانہ ریلوے اسٹیشن ہمارے آسیب زدہ، بڈاووں کے نوچے ہوئے دیس کی علامت ہے۔


