قلعہ روہتاس اور قلم کی آوارہ گردی
لاہور میں سموگ اس سال ایسے وارد ہوئی کہ منہ میں مٹی کا ذائقہ محسوس ہونے لگا۔ بد سلیقہ اور پھوہڑ گھرانوں میں ’ویلا لنگانے‘ (وقت گزارنے) کے لئے جو عارضی اقدامات کیے جاتے ہیں، ویسی ملی فرصت کے عوض جان چھڑا کر قلعہ رہتاس جا پہنچے جہاں تاریخ فراموشی کی چادر اوڑھے سو رہی ہے۔ ذہن سوال کرتا ہے کہ کیسا ہو گا وہ وقت جب شیر شاہ سوری نے مغلوں کے وفادار گکھڑوں کی سر زمین پر روہتاس نام کی میخ گاڑنے کا حکم دیا تھا۔ صدیاں بیت گئیں لیکن نشان آج بھی باقی ہیں۔
سچ یا جھوٹ، تاریخ کا طالب علم جب ورق الٹتا ہے تو انسانی فہم و فراست پر دنگ رہ جاتا ہے۔ مغل بادشاہ بابر کے دسترخوان پر ایک افغان سردار چھری کے انتظار کی بجائے اپنے خنجر سے گوشت کاٹنے کی جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بادشاہ کی نظر بھانپ لیتی ہے کہ یہ ہمت کل کو مغل سلطنت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ خدام کو حکم ہوتا ہے کہ فلاں سردار کو دسترخوان سے اٹھتے ہی گرفتار کر لیا جائے۔ بعد ازاں صرف پانچ سال میں تاریخ کے صفحات اور ہندوستان کے نظم و نسق پر اپنی چھاپ چھوڑ دینے والا افغان سردار بھی شاہی نظر بھانپ کر، کھانا ختم ہونے سے پہلے اپنے گھوڑے پر فرار ہو جاتا ہے۔
لیکن اولین مغل بادشاہ کی دور اندیشی کی داد یوں دیتا ہے کہ بابر کی وفات کے صرف دس سال بعد ہندوستان مغلوں سے چھین لیتا ہے۔ تاریخ کی سیر کرتے وقت ایسے لمحات پر پہنچ کر یہ خیال آتا ہے کہ ایسی فہم و فراست آج کے دور میں ہوتی تو نہ کوئی ’ڈیل‘ خراب ہوتی نہ کوئی ’ڈھیل‘ پیر کا پھندا بنتی۔ دیدۂ بینا، نابینا نہ ہوتی۔ لیکن شاید ’شیر شاہ سوری‘ بننے کا شوق ہر کس و نا کس کو بڑی چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
فرید خان المعروف شیر شاہ سوری، اپنے وزیر ٹوڈرمل کو اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ایک قلعے کی تعمیر کا حکم دیتا ہے اور یوں روہتاس وجود میں آتا ہے جس کے باقی ماندہ نشان آج بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ وقت اور موسم کے اثرات سہتے ان درو دیوار میں دیکھنے والوں کو کوئی خاص کشش محسوس نہیں ہوتی۔ شاید کسی بڑے شہر یا بہتر انتظام میں ہوتے تو اپنی ہم عمر کچھ اور عمارات کی طرح بہتر حالت میں ہوتے۔ ثابت ہوا انسانوں کی طرح عمارتوں اور جگہوں کے بھی بخت ہوتے ہیں۔
مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علم ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ ایک نو بیاہتا جوڑا بھی ان در و دیوار سے لپٹا جا رہا تھا۔ تاریخ کو مزید عبرت ناک منظر نامہ دینے کے لئے خود رو پودوں اور درختوں کی بڑھوتری پر کوئی قدغن نہیں تھی۔ اچھا ہے کبھی کام بھی آ سکتے ہیں۔ گائے، بھینسیں کھلے عام پھر اور چر رہی تھیں۔ ایک بورڈ پر تحریر سے پتا چلا کہ قلعہ روہتاس یونیسکو کے تحت عالمی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ ابھی اس جگہ کی حالت زار پر اپنا زبانی احتجاج شروع کرنے لگے تھے کہ پتا چلا یہ جو چند بینچ بیٹھنے کے لئے میسر ہیں، چند سال ادھر یہ بھی نہیں تھے۔ خدا کا اور پھر یونیسکو کا شکر ادا کر کے ان کو غنیمت سمجھا۔ نہ ہوتے تو کیا کر لیتے۔ ایک کینٹین نام کی چیز بھی موجود تھی جس کی قیمتوں اور معیار کا فرق ویسا ہی تھا جیسا بڑے لوگوں کے دعووں اور عملی اقدامات میں ہوتا ہے۔
صاحبو! اس تحریر کو نہ تو قلعہ روہتاس کی سیر کی روداد سمجھا جائے اور نہ ہی تاریخ کی۔ یہ صرف قلم کی آوارہ گردی ہے جو کبھی یہاں جا گھسا تو کبھی وہاں۔ نہ تو تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی (اس کے لئے حال کافی ہے ) اور نہ کسی ’سوری‘ کی خواہش۔


