ٹریفک سگنل کی مرمت اور بھیک کا بزنس


ایک دلچسپ خبر ملاحظہ فرمائیے :
لاہور کی فردوس مارکیٹ کے ساتھ خراب ٹریفک سگنل کو بھکاریوں نے خود پیسے جمع کر کے ٹھیک کروایا۔ بھکاریوں کا کہنا تھا کہ سگنل خراب ہونے کی وجہ سے گاڑیاں رکتی نہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کا ”بھیک کا بزنس“ تباہ ہو رہا تھا۔

اس خبر کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو ہمارے طرز حکمرانی کی عکاسی گمان ہوتی ہے۔ معیشت کو چلانے کی ہماری تیکنیک اس خبر میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کی معیشت سے دلچسپی رکھنے ہر فرد کو اس خبر میں اپنی حکومتوں کے طرزعمل کی جھلک نظر آئے گی۔ ہماری حکومتیں پہلے اپنے خراب طرز حکمرانی، گوگوں اور گوگیوں کی بد عنوانیوں اور کرپشن میں حصہ دار بن کر ، ملک اور بیرون ملک دولت کے پہاڑ اور جائیدادیں بنا کر معیشت کے اشارے اور سگنلز خراب کرتی ہیں۔

پھر عوام پر پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے، بے حد و حساب مہنگائی مسلط کر کے پیسے جمع کر کے اس ٹریفک سگنل کو ٹھیک کرواتے ہیں جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، تاکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر قرض دینے والوں کی گاڑیاں اس سگنل پر رک سکیں اور بھیک کی طرح گڑگڑانے کے بعد قرض ملنے کا سلسلہ شروع ہو سکے۔

اکیسویں صدی کے احاطے میں نت نئے امکانات کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ اجتماعی محنت، منصوبہ بندی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں کہ صدیوں کی ترقی کا سفر برسوں اور مہینوں میں طے ہو رہا ہے۔ فلکیات سے لے کر حیاتیات اور طبیعات سے لے کر ارضیات تک کمانیں سنبھالے دنیا ترقی شکار کر رہی ہے۔ گھڑ سواروں کے لشکر اپنے عوام کی ترقی کے لیے لوازمات مہیا کرنے میں مصروف ہیں لیکن ہمارے لشکروں کے گھوڑے صرف لید کرنے میں مصروف ہیں۔ اس لید میں کروڑوں عوام حشرات کی طرح رینگ رہے ہیں۔ کوڑا کرکٹ جمع کر کے پیٹ بھر رہے ہیں۔ جب کہ حکمران پائیدار ترقی اور بہبود کے منصوبے بنانے کی بجائے ٹریفک سگنل ٹھیک کر واکر بھیک مانگنے کی نئے طریقے اور بہانے تراشنے میں مصروف ہیں۔

ٹریفک سگنل درست کروانے کا مقصد اجتماعی فلاح اور بقا نہیں ہے بلکہ یہاں سے حاصل ہونے والی بھیک سرمایہ داروں، صنعتکاروں، بینکاروں اور سیاسی اور فوجی اشرافیہ کے مفادات، ذاتی جائیدادوں اور منافعوں میں اضافوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرز حکومت میں پہلے فوج اور عدلیہ مل کر بد کرداروں پر محنت کرتی ہیں انھیں اقتدار میں لاتی ہیں۔ زرداروں، شریفوں، عمرانوں، گوگیوں اور بزداروں کو کرپشن کے مواقع ارزاں کرتی ہیں، ان کی بد کردارiوں کی طرف پیٹھ کیے رکھتی ہیں۔ برسوں اقتدار کی طوالت انجوائے کر کے اربوں روپے کی لوٹ کھسوٹ کر کے جب یہ اصل مقتدرہ ایکسپوز ہونے لگتی ہے تو اپنے بد کرداروں کے نیچے سے قالین کھینچ کر ان کے کرتوتوں کے قصوں میں قوم کو ایسے الجھاتی ہے کہ انھیں لانے والے جنرلوں اور ججوں کی آئینی اور اخلاقی حیثیت کی طرف ذہن ہی نہیں جاتا۔

اس کھیل میں صرف ججوں اور جرنیلوں کو الزام دینا درست نہیں وہ سیاست دان بھی برابر کے شریک ہیں جو سرخی اور سرمہ لگائے سگنلوں پر کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور وہ اس کے ہاتھوں شکار ہو جائیں۔ لطف یہ کہ شکار خود چل کر شکاریوں کی طرف جاتے ہیں اور فخر کرتے ہیں کہ شکاریوں کے منظور نظر ہیں۔ یہ شکار اقتدار میں آ کر ترقی کے گھوڑوں کی چاروں ٹانگیں اس مہارت سے کاٹتے ہیں کہ قوم ان کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح بجلی کی خریداری کا ظالمانہ معاہدہ ہمارے یہاں آئی پی پیز سے کیا گیا ہے دنیا میں اس کی مثال کہیں ملتی ہے۔ کہ بجلی کی پیداوار نہیں بھی ہو تو بھی ادائیگی کرنی ہے اور وہ بھی ڈالروں میں۔ ملک کے دیوالیہ ہونے کی جو واردات 75 برسوں میں ممکن نہیں ہو سکی وہ پونے چار سال میں کر کے دکھا دی گئی اور کسی نے ہاتھ نہیں روکا۔

سرکار عالی مرتبت محمد ﷺ کے ہاں میں کئی دن فاقہ رہتا تھا۔ کبھی آپ نے سوچا کہ کیوں؟ جب کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف جیسے امرا جو سینکڑوں مال تجارت سے لدے اونٹ امت کے سپرد کرنے کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے جو سیدالمرسلین ﷺ پر جان اور مال نچھاور کرنے کی خواہش میں تڑپتے رہتے تھے ان کی آپ کے قرب میں موجودگی کے باوجود آپ ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کے گھروں میں کچھ کھانے کو نہ ہو، کئی کئی دن آگ نہ جلے!

آپ ﷺ ان اصحاب سے مدد طلب کر سکتے تھے، قرض لے سکتے تھے، کسی کی ذمہ داری لگا سکتے تھے کہ وہ ان کے کچن کے معاملات دیکھ لے اور پھر آپ ﷺ خود کیوں؟ صحابہ کرام کو ازخود ایسا کرنا چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ کائنات کے ان حساس ترین نفوس نے یہ راہ کیوں اختیار نہیں کی۔ وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام رسالت مآب محمد ﷺ کے مزاج شناس تھے وہ جانتے تھے کہ ایسی امداد آپ ﷺ کے مزاج کے خلاف اور گرانی طبع کا باعث ہوگی۔ ایسے اعمال اسلام کی فطرت میں نہیں جو انسان کی خودی اور عزت نفس کی پامالی کا سبب بنیں۔ جن سے ایک انسان کی نظر دوسرے کے سامنے نیچی ہو وہ اس کا زیر بار احسان ہو۔ اندازہ کیجیے ایسا دین جو امداد اور قرض کو گوارا نہ کرتا ہو بھیک اس کے نزدیک کیسا مکروہ عمل ہو گا؟ لیکن ہم ہیں کہ بھکاریوں کی قوم بنتے جا رہے ہیں۔

ہمارے یہاں پہلے ایک عبدالستار ایدھی تھا اب انسانیت کی خدمت کے نام پر سینکڑوں ادارے وجود میں آچکے ہیں۔ ہر چوک اور شاہراہ پر کوئی نہ کوئی ادارہ نہ صرف بھوکوں کو کھانا کھلا رہا ہے بلکہ اہل خانہ کے لیے گھر لے جانے کی سہولت بھی مہیا کر رہا ہے۔ صبح کے وقت جگہ جگہ لب سڑک ناشتے کے مناظر اس کے علاوہ ہیں۔ ہم بھکاریوں کی فوجیں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ عوام کو روٹی مہیا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ عوام بھی اس معاملے میں پہلے اتنے حساس رہتے تھے کہ حکومت اس معاملے میں ذرا بھی کوتاہی کرتی، چینی کی قیمت میں پچیس پیسے کا اضافہ کر کے عوام کی دسترس سے دور کرتی لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آ جاتے تھے۔

اب کتنی ہی مہنگائی ہو جائے، اشیا ء کی قیمتیں کہیں سے کہیں پہنچ جائیں ہر طرف سناٹا رہتا ہے۔ اب بیشتر لوگ امداد اور قرضے لے کر مہنگائی اور قلیل آمدنی کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں یہاں تک کہ اکثریت کا طرز زندگی بنتا جا رہا ہے۔ پہلے بڑے بڑے بینک امیروں کو قرض دیا کرتے تھے، اب چھوٹے چھوٹے بینک غریبوں کو چھوٹی چھوٹی رقوم قرض دینے کے لیے ہر گلی کوچے میں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر آسان طریقوں سے ڈیجیٹل لون فراہم کرنے والوں کی وہ فراوانی ہے کہ اللہ کی پناہ۔ یہ فراوانی ظاہر ہے ڈیمانڈ اور سپلائی کی مناسبت سے ہے۔

جگہ جگہ دو دو تین وقت بھوکوں کے کھانا کھلانے کے دسترخوان تو کھلے ہیں لیکن لوگوں کو ٹیلرنگ، مکینک، پلمبرنگ، الیکٹریشن، کمپیوٹر اور دیگر فنون مفت سکھانے کا اہتمام نظر نہیں آتا۔ لوگوں کو بھیک میں روٹی دی جا رہی ہے لیکن روٹی کے حصول کے رزق حلال تک دسترس کے طریقے نہیں سکھائے جا رہے جسے دیکھیں قرض، امداد اور بھیک کے لیے کوشاں ہے۔ ہم بھکاریوں کی قوم بن گئے ہیں۔ حکومت اور عوام کی تگ و دو محض سگنلز ٹھیک کروانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ رحم کرے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments