بھروچ: بھارت کا دوسرا قدیم شہر

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
بھروچ شہر اور اس کے گردونواح کے علاقے قدیم زمانے سے آباد ہیں۔ نیشنل انفرمیشن سنٹر انڈیا (nic.in ) کے مطابق سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس شہر میں بحری جہاز بنائے جاتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فرعونوں کے دور میں بھی یہ علاقہ آباد تھا اور یہاں مصر سے بھی لوگ آتے تھے۔ یہ شہر صدیوں تک مصالحہ جات اور ریشم کی تجارت کا مرکز رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ شہر بھارت کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں یونانیوں، ایرانیوں، رومیوں، سلاطین دلی اور مغل حکمرانوں کے علاوہ یورپی لوگوں نے بھی حکومت کی ہے۔
یہ سب کچھ اس علاقے کا ایک اہم تجارتی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے تھا۔ اسلام سے قبل بھی عرب اس علاقے میں تجارت کی غرض سے آتے تھے۔ یہ تیسری صدی کی بات ہے۔ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ عرب تاجر بھروچ کے راستے گجرات میں داخل ہوئے تھے۔ تجارت کے لیے ایک موزوں علاقہ ہونے کی وجہ سے انگریزوں اور ڈچ نے بھی یہاں اپنے کاروباری مراکز قائم کیے۔
ایس گجرانی کی کتاب History، Religion and Culture of India میں یہ لکھا ہوا ہے (صفحہ 166 ) کی یہ شہر دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ (صفحہ 192 ) کہ ایک وقت تھا جب گجرات میں پچاس سے زائد بندرگاہیں تھیں اور بھروچ ان میں سب سے اہم تھی۔ یہاں سالانہ چار ہزار تجارتی جہاز آتے تھے۔
ہم پنجابی زبان میں چوہدری کا لفظ کسی کو عزت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک پنجابی کا لفظ تھا لیکن تاریخ سے معلوم ہوا کہ آٹھویں صدی میں بھروچ قصبے پر میوور نام کا ایک راجہ حکومت کرتا تھا جس کی ریاست کا نام چوہدری تھا۔ اس بادشاہ نے پچاس سال تک اس شہر پر حکمرانی کی اسے بھروچ کا نہایت ہی قابل اور رحمدل حکمران مانا جاتا تھا۔ علاقے کے لوگ اب بھی اس کا نام بے حد احترام سے لیتے ہیں۔
چارو چوہدری نے
Bharuch: A Heritage Tour of One of Gujarat ‘s Most Ancient Cities With a 2000. year. old history, every nook and corner of Bharuch tells a story.
کے نام سے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ پیش خدمت ہے 1۔
چوہدری کا لفظ سنسکرت کے کٹوردھارا سے نکلا ہوا ہے۔ جس کا مطلب وہ شخص ہے جس کے پاس چار اختیارات ہوں، جیسے دولت، زمین، طاقت اور کسی کنبے کی سربراہی۔ عام طور پر یہ لفظ کسی طبقے یا ذات کے سربراہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مغلیہ دور میں ممتاز افراد جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے کو یہ لقب دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ فوجی کمانڈر کے لیے بھی اس نام کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے گھڑسوار، بحریہ، پیادہ اور ہاتھی مہاوت وغیرہ۔ ہندوستان میں بہت کم ایسے شہر ہیں جن کے ایک سے زیادہ نام ہیں۔ بھروچ ایک ایسا شہر ہے جس کے آٹھ مختلف نام ہیں۔ جس نے بھی اس علاقے پر حکمرانی کی اس نے اس کا نام بدل دیا۔
قبل مسیح میں یہ شہر دیوی لکشمی کی رہائش گاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یونانیوں نے اس کا نام اپنی زبان میں رکھا جس کا مطلب ”گہرا خزانہ“ تھا۔ بعد ازاں مسلم حکمرانی کے تحت ’بھروچ‘ ، مراٹھا حکمرانی کے تحت ’بھڈوچ‘ ، اور برطانوی حکمرانی کے تحت ’بروچ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ البتہ اب اس کا نام بھروچ ہی لکھا جاتا ہے۔ ہندو روایات کے مطابق بھروچ دیوی لکشمی کی رہائش گاہ تھی۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ شہر ایک خاص مذہبی مقام رکھتا ہے۔ اس علاقے میں بہنے والا دریائے نرمدا ہندوؤں کے سات مقدس دریاؤں میں سے ایک ہے۔ ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ ان سات دریاؤں میں سے کسی میں بھی نہانا ان کے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک دریائے نرمدا دریائے گنگا سے بھی پرانا ہے۔
جین اور بھروچ
چارو چوہدری مزید لکھتے ہیں کہ بھروچ جینوں کے لیے بھی ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر میں تیرتھ (جینوں کا مقدس مقام) واقع ہے۔ یہ شہر جین مذہب کی تاریخ اور قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد نقطۂ نظر سے اہم ہے۔ ان کے گرو گوتما سوامی نے بھی اس شہر کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ بھروچ میں قدیم زمانے کے مندروں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر موجود ایک بڑی جامع مسجد سے متعلق مقامی ہندوؤں اور جین کا دعویٰ ہے کہ یہاں بھی کبھی مندر تھا لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے مذہبی مقامات کے آثار بھی یہاں موجود ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھروچ ساتویں صدی میں بدھ مت کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔
بھروچ تاریخ کے آئینے میں
بھروچ گجرات کا قدیم ترین شہر ہے۔ ہندوستان کا قدیم ترین شہر بنارس ہے جس کے بعد بھروچ کا نام آتا ہے۔ بھروچ میں بہت سارے بادشاہوں کا راج رہا ہے۔ چندر گپت موریا خاندان، چنگیز خان اور مغل بادشاہ ہمایوں نے بھی اس شہر پر حکومت کی۔ آخر میں اس علاقے پر انگریزوں نے اپنی اجارہ داری قائم کی۔
چارو چوہدری کے مطابق بھروچ میں واقع گولڈن برج انگریزوں نے 1881 ء میں تعمیر کروایا تاکہ دریائے نرمدا کے پار بمبئی تک تاجروں اور انتظامیہ کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ پل ایک خاص لوہے سے تعمیر کیا گیا۔ اس لیے اس کی تعمیر میں بہت زیادہ لاگت آئی۔ اسی وجہ سے اسے گولڈن برج بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک ”سنہری محل“ نام کی عمارت بھی ہے جو ایک ہزار سال پرانی ہے۔ اس شہر میں ایک گردوارہ بھی موجود ہے جو پندرہویں صدی میں پہلے سکھ گرو، گرو نانک دیو کی بھروچ آمد کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ اس کے بارے میں ایک دلچسپ بات مشہور ہے کہ جب کوئی کشتی والا مسافروں کو نرمدا دریا کے پار لے جانے سے انکار کرتا تو وہ کپڑے کی چادر پر سوار ہوتا اور دریا پار کر جاتا۔ اسی وجہ سے اس گردوارے کا نام گرودوارہ چادر صاحب ہے۔
بھروچ میں مسلمانوں کے دور کی بھی کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں عیدگاہ، جامع مسجد اور مدرسہ، مسجد کٹپوور بازار قابل ذکر ہیں۔ بھروچ میں گجرات کی ایک قدیم ترین لائبریری بھی ہے جو 1858 ء میں تعمیر کی گئی۔ میں نے یہاں پر واقع جامع مسجد جسے پتھروں والی مسجد بھی کہا جاتا ہے کی ایک ویڈیو دیکھی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ مسجد ایک شاہکار سے کم نہیں ہے۔ میں تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ اس شہر کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اندرا گاندھی کا خاوند فیروز گاندھی جو کہ ایک پارسی تھا کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ اس طرح یہ شہر اندراگاندھی کا سسرال بھی شمار ہوتا ہے۔ گجرات اسٹیٹ کا جی ڈی پی دو سو بلین ڈالر ہے جس میں بھروچ کا حصہ قابل ذکر ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً دو لاکھ ہے۔ کوشش کے باوجود مجھے مسلمانوں کی تعداد کا علم نہ ہو سکا۔
اٹھارہویں صدی میں یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں نے اس ریاست پر قبضہ کر لیا اور 1772 ء میں اسے برٹش انڈیا کا حصہ بنا لیا۔
جب ہم بھروچ سے گزر رہے تھے تو ٹرین میں شام کا کھانا دیا جا رہا تھا۔ حسب معمول سب لوگوں نے اپنی پسند کا کھانا کھایا۔ افریقی خاتون نے بھی تعاون کیا اور یوں سب کے سونے کی جگہ کا انتظام ہو گیا۔ میں ہندوستان کی تاریخ والی کتاب میں پڑھ چکا تھا کہ آگے ایک اور اہم شہر وادودارا (Vadwdara) جس کا پرانا نام بڑودا ہے بھی ہے، آ رہا ہے اور وہاں ہماری گاڑی کا سٹاپ بھی ہے۔ وہاں مجھے سومنات کے مندر میں پوجا کر کے آنے والے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہو گا اور میں ان سے سومنات کے بارے میں بھی جان سکوں گا۔









An interesting account and sharing of information