وہ اک تارا : قسط نمبر 18

بلی تھیلے سے باہر آ گئی تھی۔ ہیثم کے جیل سے سے نکل بھاگنے کا راز کھل چکا تھا۔ اور اس پر تحقیقات شروع ہو گئیں۔
اینا نے باہر جانے کے لئے درخواست دی۔ اس درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ پیوٹن بھی اول درجے کا کائیاں تھا۔ اپنے مخالفوں کو چن چن کر قتل کروا رہا تھا۔
وہ تو اب اس کوشش میں تھی کہ کب اسے اجازت ملے اور وہ روس سے باہر جائے۔ پر اس اجازت کا ملنا فی الحال کوہ گراں تھا۔
ایسے ہی ماضی کو دیکھتے ہوئے، اس میں جھانکتے اور تھوڑا سا انتظار اور میری جان گنگناتے اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب اس کی پلکوں نے اس کی آنکھوں پر پردے تان دیے تھے۔
جاگی تو بھوک بھی تھی۔ تھوڑی سی تازگی بھی اور رات والے واقعے کی تلخی میں کمی بھی۔ کمرے میں تھوڑی دیر پھرتی رہی۔ گھڑی دیکھی۔
” خاصی نیند لی ہے میں نے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ چلو اچھا ہوا۔ آج جانا بھی نہیں۔ “
بالکونی میں آئی۔ دھوپ کتنی روشن اور چمکدار تھی۔ دنیا کاروبار حیات میں گم سڑکوں پر رواں دواں تھی۔
عجیب سے احساس سے وہ پھر دوچار ہوئی۔ کچن میں گئی۔ کافی بنائی۔ لاؤنج میں آئی ٹی وی آن کیا۔ ایک نوعمر دلکش چہرے والی مغنیہ پشکن کی ”زندگی کی شام“ گا رہی تھی۔
کبھی آواز کی لہروں میں ملے دل کو سرور
اور کبھی یوں ہی کسی بات پر اشکوں کی بوچھاڑ
کیا خبر جب ہو میری عمر کی ڈھلتی ہوئی شام
عشق دے جائے مسکراہٹ کا چھلکتا ہوا اک جام
مسکراہٹ کا چھلکتا ہو اک جام
اک جام آواز خوبصورت تھی ٹی وی بند کیا۔
اک جام اک جام گنگناتے گنگناتے مگ ہاتھ میں پکڑے وہ پھر بالکونی میں آ گئی۔ تھوڑی سی کافی باقی تھی۔
پتہ نہیں کیا ہوا تھا۔ اس نے تو چھوٹا سا سپ لے کر نتھری ہوئی آنکھوں سے اپنے سامنے والے حصے پر تنے آسمان کو دیکھا تھا اور اپنے آپ سے صرف یہ پوچھا تھا۔
”کب؟ کب اسے دیکھوں گی؟ اب بہت جی چاہتا ہے۔ وہ اگر تھک گیا ہے تو سچی بات ہے میں بھی تھک گئی ہوں۔“
وجود اک ذرا لرزا تھا۔ اس کی مضطرب نظروں نے ادھر ادھر دیکھا تھا۔ بظاہر تو کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا پر سینے میں جیسے لوہے کی تپتی سلاخ اتر گئی تھی۔
ہاتھ میں پکڑا مگ فرش پر گرا۔
اس کے ٹوٹنے کی آواز تو کہیں اس کے اپنے درد میں گم ہو گئی تھی۔ پر بالکونی کی چھوٹی سی جگہ پر عین اس کے سامنے بکھری کرچیاں جیسے اس کی آنکھوں میں اس سوال کے ساتھ نمایاں ہوئی تھیں کہ کیا وہ بھی اب ان ہی کی طرح بکھر جائے گی۔
پھر وہ تیورا کر گری تھی۔ چوکھٹ پکڑنے کی کوشش کی۔ پر آنکھوں کے آگے گھور اندھیرا تھا اور ہاتھ جیسے بے جان سے ہو رہے تھے۔
سینے سے خون ابل رہا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ جیسے اس فوارے کے منہ پر رکھنے کی کوشش کی۔ پیشانی دروازے سے ٹکرائی تھی۔ ایک فوارہ وہاں سے ابلا تھا۔ پل بھر کے لئے آنکھوں میں زندگی کی لو چمکی تھی اور نتھنے پھولے تھے۔ ہونٹوں سے ٹوٹی پھوٹی ایک آواز نکلی تھی۔
ہیثم۔ ہیثم۔ میرا۔ اور تمہارا۔ نام۔ ہی زیب۔ نظر ہو گا۔
زیب۔ نظر ہو گا۔ وہ۔ تارا۔ وہ اک تارا
اور گردن داہنی سمت لڑھک گئی تھی۔

