چاند گاڑی کا خاتمہ
ماموں کہنے لگے اب کے تم لاہور سے آؤ تو بس سے اترنے کے بعد رکشہ مت لینا بلکہ چاند گاڑی سے گھر تک آجانا، بچت رہے گی۔ میں نے پوچھا تو نہیں مگر سوچتا رہا کہ یہ چاند گاڑی کیا ہوتی ہے۔ وہ بھی کیا دن تھے جب تانگہ چلا کرتا تھا، جیب بھری ہوتی تو سالم ہی کروا کر لاری اڈے سے نوشہرہ روڈ چلا جاتا اور اگر جیب ہلکی ہوتی تو سواریوں کے ساتھ جا بیٹھتا۔
جب سے تانگے بند ہوئے تب سے رکشہ کروا لیتا یا سگریٹ سلگا کر پیدل ہی چلنے لگتا، خیر یہ تو برسوں پرانی بات ہوئی۔ ہائے اب وہ تانگے رہے اور نہ سگریٹ نوشی۔ میں ایک روز سوزوکی کے شو روم پر گیا اور ان سے ان کی ننجا اور سمورائے موٹر سائیکل کے متعلق پوچھا، اب برسوں بعد میرے پاس اتنے پیسے جمع تھے کہ میں سوزوکی کی موٹر سائیکل خرید سکتا جس کا خواب میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ وہ کہنے لگے دونوں موٹر سائیکل برانڈ کمپنی نے بند کر دیے ہیں، میں نے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ لوگ چاند گاڑی میں استعمال کرتے تھے اس لیے۔ میں چپکے سے باہر چلا آیا اور سوچنے لگا کہ یہ چاند گاڑی کیا ہوتی ہے۔ مجھے اپنا خواب ٹوٹنے کا افسوس تو تھا مگر چاند گاڑی دیکھنے کا تجسس اب اس سے کچھ زیادہ ہی تھا۔
کچھ روز بعد میں ڈسکہ گیا، لاری اڈے پر اترا تو دیکھتا ہوں کے تانگہ کوئی بھی نہیں ہے البتہ کچھ لوگ موٹر سائیکل کے پیچھے تانگہ طرز کی سیٹیں لگا کر سواریوں کو پکار رہے تھے۔ میں وہاں کھڑا تانگے کا انتظار کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ کیا عجیب سواری ہے۔ کچھ دیر بعد ایک جاننے والے کا تانگہ آ رکا میں نے سالم ہی کروا لیا، سگریٹ سلگائی اگلی سیٹ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا اور ہم چلنے لگے۔ میں نے اس سے پوچھا یارا بھائی محمود یہ تانگے اس قدر کم کیوں ہو گئے ہیں، کہنے لگا باؤ جی تانگوں کو چاند گاڑی کھا گئی۔ میں نے پوچھا یہ چاند گاڑی کیا ہوتی ہے، کہنے لگا وہی جو موٹر سائیکل کے پیچھے سیٹیں لگا کر بنائی جاتی ہے۔ میں نے کہا وہ تو موٹر سائیکل گاڑی ہوئی چاند گاڑی کیوں کہتے ہو۔ کہنے لگا وہ اتنی غیر فطری ہے دنیا کی لگتی ہی نہیں، دوسرا کبھی اس میں بیٹھیے گا تو جانیے گا۔
مجھ کو چاند گاڑی میں بیٹھنے کا اتفاق برسوں بعد ہوا جب وہ ہر سو پھیل چکی تھی اور اس کا نام چنگچی ہو چکا تھا۔ کچھ سال بعد محمود بھی مجھے چاند گاڑی چلاتا ملا۔
اب تو یوں لگتا ہے کہ چاند گاڑی ہماری قومی اور عوامی سواری ہے۔ اس میں کیا شک کے یہ شاید کسی بھی حفاظتی معیار پر پوری نہیں اترتی اور اس کو چلانے والوں نے اسے اور بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے مگر یہ جو خدمت عوام کی کر رہی ہے اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔ یہ اب زندگیوں میں اس طرح داخل ہے کہ ایک طرف اس نے بہت سوں کو روزگار فراہم کر رکھا ہے اور دوسری طرف عوام الناس کو سفر کی سستی سہولت۔ اس کو فوراً ختم کر دینے سے دوہرا المیہ جنم لے سکتا ہے، ویسے جو اشیاء عوامی ہوجائیں وہ اس سے بہتر آنے سے پہلے ختم ہوتی نہیں ہیں۔
آج کل اس کا بہت شور ہے کہ حکومت چاند گاڑی کو بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ہماری حکومتیں سماجی شعور سے نا صرف عاری ہوتی ہیں بلکہ سماجی مسائل کا ادراک بھی نہیں رکھتیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مسئلہ چاند گاڑی کو ختم کرنے سے حل نہیں ہو گا بلکہ نئے مسائل کو جنم دے گا۔ اچھا حل یہ ہے کہ چاند گاڑی کو ضابطے میں لایا جائے اور اس کو ایک محفوظ سواری بنایا جائے۔ کم ازکم اس بات کا خیال تو کریں کے ان چھہتر سالوں میں ہم نے عوامی سطح پر عوام کے لیے دو ہی ایجادیں کی ہیں، ایک دیہاتوں میں پیٹر انجن سے چلنے والی گاڑیاں اور دوسری یہ چاند گاڑی۔



کسی حد تک آپ کا آخری جملہ درست مگر ہم اعتدال میں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہر چیز کی بے لگام زیادتی بالآخر یہیں انجام پاتی ہے۔
کوئٹہ میں مقیم ایک سینیئر افسر سے بات کررہا تھا۔ موضوع پانی نکل آیا۔ پوچھا آج کل کتنے فٹ پر نکل آتا ہے۔ کہنے لگے پانچ چھ سو فٹ تک میں ہمارے علاقے میں مل جاتا ہے۔ لیکن آج کل ہم علاقے کی بیوروکریسی سے لڑرہے ہیں کہ سولر کے ساتھ چلنے والے ٹیب ویلوں پر پابندی لگائی جائے۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔ وہ کیوں !
کہنے لگے۔ لوگوں نے جب سے سولر ٹیوب ویل لگائے ہیں پانی کی اہمیت انکی نظروں میں ختم ہوگئی ہے۔ بے تحاشہ نکالا جارہا ہے اور اکثر ضائع ہوجاتا ہے کیونکہ بجلی بھی مفت کی ہے اور پانی بھی مفت کا۔
مجھے معاملہ سمجھ میں آگیا۔
یہی بات چاند گاڑی والوں نے بھی کی۔ انہوں نے صرف ٹانگہ یا رکشہ ہی نہیں کھایا بلکہ سوزوکی شہ زور جیسے لوڈر بھی کھاگئے۔ چھوٹی ٹریکٹر ٹرالیاں اب یہ ہیں۔
اب تو الیکٹرک چنگچی بھی آگئے ہیں جو امید ہے گاہک کو سستی سہولت دینگے لیکن معاملہ لائسنس اور سیفٹی کا ہو تو اسکی کس کو پروا۔