بے نام خط


انکار ہونے کا جواز وہاں بنتا ہے جب مانگنے کا اظہار کیا جائے۔ زندگی کے گزرے ان تمام سالوں نے مجھے اب سے پہلے اسی تجربے سے روشناس کرایا لیکن تمہاری محبت میں گرفتار ہونے کے انجان لمحے سے اپنے اندر اس کے اظہار کی ہمت پیدا کرنے تک میں اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ زیادہ سے زیادہ انکار ہو گا اور میں اس انکار کو پورے کھلے دل سے قبول کروں گی لیکن مجھے زندگی بھر افسوس نہیں رہے گا کہ میں نے جس ایک شخص پہ دل ہارا اسے بتانے اور بدلے میں چاہے جانے کی کوشش کی ہمت نہ کر سکی۔

من پسند بندے کی محبت بونس کے جیسی ہوتی ہے جس سے آپ کی زندگی ہلکی اور بھرپور رنگین رہتی ہے۔ مگر میں غم سے نڈھال ہوں اور میرے پاس تمہیں اس خط لکھنے کے سوا غم غلط کرنے کا اور کوئی جواز نہیں کیونکہ تم مجھے سننا ہی نہیں چاہتے کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔ کیا اگر کوئی انسان آپ سے سوال کرے تو کیا آپ کا جواب دینا نہیں بنتا؟ ٹریفک کے اشارے پر کھڑے کسی بھکاری کی مثال لے لیتے ہیں۔ وہ جب مانگنے آتا ہے تو اسے ”معاف کر دیجیے“ یا ”نہیں“ کچھ نہ کچھ تو کہا جاتا ہے اور کہا جانا چاہیے اگرچہ میں خود بھی ان کے ہر بار سوال کرنے پہ تنگ آ جاتی ہوں لیکن اب یوں لگتا ہے کہ واضح الفاظ میں انکار بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اقرار۔

لیکن میں اگر یہ خیال کر لوں کہ تمہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ میں ملاقات میں کیا کہوں گی مگر تم نے مجھے جواب تک دینا پسند نہیں کیا اور میں اٹھارہ دن جواب کے آنے کا انتظار کرتی رہی۔ جب دوبارہ پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا تو تم نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہا کہ اگر تمہارا اس طرح کا ایک بھی اور پیغام آیا تو میں تمہارے دفتر والوں کو ایک شکایت لکھوں گا اور سوچ لو کہ کیا تم ایسا چاہو گی؟ میں نے خاموشی سے تمہارے اس غصے کو پیا جس نے اصل میں مجھے چھلنی چھلنی کر دیا۔

اور مجھے بہت دیر تک اندازہ بھی نہیں ہوا کہ میں دفتر میں بیٹھی خاموشی سے روتی رہی۔ آنسو میری آنکھوں سے گرتے رہے اور میرا دل چاہا میں اپنے دفتر سے استعفی دے کر ہمیشہ کے لیے انگلستان چلی جاوٴں بھلے مجھے صفر سے آغاز کرنا پڑے۔ پھر میں گاڑی چلاتے ہوئے بہت اونچا اونچا روئی اور خدا سے سوال کرتی رہی کہ مجھ میں ایسی کیا کمی ہے کہ وہ میری درخواست پر مجھے مل کر اور بات سن کر انکار نہیں کر سکتا۔ کیا یہ اتنا مشکل ہے؟

کیا میں اس قدر قابل نفرت ہوں کہ وہ میری بات تک سننا نہیں چاہتا؟ کاش کہ میں جان سکوں کہ تم نے مجھے ایک، صرف ایک موقع کیوں نہیں دیا۔ یہ بتلانے کو کہ میں زندگی بھر کسی مرد کو ایسے نہیں چاہ سکی جیسے تمہیں۔ اور شاید تم زندگی بھر نہ جان سکو کہ ایک خاتون نے تمہیں دل و جان سے چاہا اور ساری عمر وہ تمہیں چاہتی رہے گی۔ یہ الفاظ میں بہت سوچ کہ لکھ رہی ہوں اپنے پورے ہوش و حواس میں۔ کیا معلوم کبھی کوئی ڈیوائن انٹروینشن ہو اور تمہیں معلوم پڑ جائے اور تمہیں قدر بھی ہو۔

مگر میں اتنی خوش قسمت نہیں۔ کاش تم میرا ہاتھ تھام کر ، مجھے سننے کے بعد ، یہ کہہ سکتے کہ میں تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں مگر میں شادی شدہ ہوں یا کمٹٹڈ ہوں یا پھر پہلے سے کسی اور کو چاہتا ہوں یا میں عورتوں میں دلچسپی نہیں رکھتا یا تم میری کلاس نہیں یا میرے پاس اس قدر بھی وقت نہیں کہ میں تم سے نفرت کر سکوں۔ مگر تم نے محض دھمکی دی۔ شاید یہ دھمکی انکار نہیں مگر تمہاری، میرے لیے نفرت ہے۔

عورت جب خود پہل کر کے اپنے جذبات کسی مرد کو بتانے کی خواہاں ہو تو ایسی ہمت عمر بھر ایک بار ہوتی ہے اور میری تمام زندگی میں یہ ہمت صرف تمہارے لیے پیدا ہوئی مگر میرے پاس مجھے نہ سنے جانے کا ماتم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

ماریہ
09/12/2023

Facebook Comments HS