میثاق صحافت کی ضرورت


ملک کی باگ ڈور عمران خان کو سونپے جانے کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ ”نیا پاکستان“ کے نعروں کی گونج میں عوام کا بزعم خود مسیحا حلف اٹھا چکا تھا۔ تاہم کرسی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی جماعتوں نے بکسہ چور قسم کے نعروں سے نو آموز وزیر اعظم اور ان کے سرپرستوں کو پریشان کیے رکھا۔ مخالف آوازیں سننے کی سکت نہ رکھنے والے اس گستاخی پر خوب تلملائے۔ سابق وزیراعظم بھی خیر سے نازک مزاج واقع ہوئے تھے۔ وہ تو اپنے ان اتالیق کی اختلافی آرا کو بھی برداشت نہ کر پائے جو ان کی بائیس برس کی جدوجہد میں ان کے ہم قدم رہے۔ جو بزرگ اپنے قلم سے ان کا سیاسی بت تراشتے رہے، انہوں نے ان کو بھی کھڈے لائن لگا دیا۔

بندوبست کے ناقد صحافیوں کو روکنے کے لیے وہی پرانے حربے آزمائے گئے، وہی تیر چلائے گئے جو ہر حکمران کے ترکش میں ہمہ وقت دھرے رہتے ہیں۔ چینلز پر دباؤ کے ذریعے ہر مختلف آواز دبا دی گئی۔ سرکاری اشتہارات کی بندش کے ذریعہ میڈیا مالکان کو سبق سکھانے کی کوشش کی گئی۔ اطاعت سے روگردانی کے مرتکب اخبارات اور چینلز کا داخلہ مخصوص علاقوں میں بند کر دیا گیا۔ حامد میر، عرفان صدیقی، ابصار عالم، مطیع اللہ جان اور طلعت حسین جیسے گستاخ صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کئی دیگر صحافیوں کے ساتھ بھی بد سلوکی کی گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ صحافت سے وابستہ تمام افراد صدائے احتجاج بلند کرتے، ذاتی پسند و نا پسند کو بالائے طاق رکھ کر مشکل وقت میں بھائی بندوں اور ان کے اہل خانہ کی دل جوئی کا سامان کرتے مگر۔ ۔ ۔

صحافیوں میں سے ہی ایک گروہ مشکل میں گرفتار اپنے پیٹی بھائیوں کا تمسخر اڑانے میں مصروف رہا۔ ”سافٹ وئیر اپڈیٹ“ اور ”لڑکی کے بھائی“ جیسی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں۔ مزے لے لے کر اپنے ساتھیوں سے جڑی تشدد کی کہانیاں تمام دستیاب ذرائع ابلاغ پر سنائی جاتی رہیں۔ قلم کاروں کے زخموں کا مذاق اڑایا گیا، لاپتہ میڈیا ورکرز تک کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور ان کی ٹرولنگ کی جاتی رہی۔ ففتھ جنریشن وار کے نام پر سوشل میڈیا کے تنخواہ دار مجاہد بھرتی کیے گئے جنہیں مفت کا پروپیگنڈا پھیلانے والے سیاسی رضا کاروں کی بلا تعطل اعانت بھی حاصل رہی۔

”عالم اسلام کے عظیم لیڈر“ پر اشارے کنائے میں بھی تنقید کرنے والوں کو گھر تک چھوڑ آنے کا اہتمام کیا گیا۔ گالم گلوچ پر مبنی ٹرینڈز چلائے جاتے رہے۔ ہر تیسرا صحافی غدار، دشمنوں کا ایجنٹ اور لفافہ قرار دیا گیا۔ خدا کی کرنی کہ وہ صفحہ ہی پھٹ گیا جس پر وزیراعظم و سپہ سالار ایک ساتھ موجود تھے۔ حکومت بدل گئی۔ عمران خان ایک آئینی بندوبست کے ذریعے وزیر اعظم ہاؤس سے نکال دیے گئے تو ان کے ترجمان صحافیوں اور سوشل میڈیا کے کی بورڈ جنگجوؤں نے سیاسی حریفوں اور اپنے سابقہ سرپرستوں کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ انہیں گالم گلوچ اور بہتان طرازیوں کا نشانہ بنایا۔ زمین پاؤں سے سرکتی محسوس ہوئی تو بڑے لوگوں نے اپنے نئے گستاخوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔

اور پھر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ جیو کی جگہ اے آر وائی نے لے لی اور مطیع اللہ جان کی جگہ صدیق جان جیسے معتوب ٹھہرے۔ ارشد شریف پر اسرار حالات میں مارے گئے۔ عمران ریاض خان دو بار گرفتار ہوئے اور آخری بار تو انہیں نشان عبرت بنا کر چھوڑا گیا۔ ماضی میں مشکل وقت میں پھنسے صحافیوں کی ٹرولنگ کرنے والے خود ریاستی عتاب کا نشانہ بنے تو وہ صحافتی حلقوں کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ لیکن انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔

ریاستی جبر پر خاموش رہنے والوں کے پاس اس وقت بھی سکوت کا جواز تھا اور اب بھی ہے، لیکن یہ صورت حال صحافت کے لیے کسی طور بھی مناسب نہیں۔ محض اختلاف رائے کی بنیاد پر نہ تو ریاست کو کسی صحافی کو نشانے پر رکھنا چاہیے اور نہ ہی کسی کو اپنے ہم پیشہ ساتھیوں کو مشکل میں دیکھ کر بغلیں بجانی چاہئیں۔ میڈیا سے وابستہ بڑے ناموں کو تمام مختلف الخیال صحافیوں کو آزادی اظہار رائے کے تحفظ کے لیے کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے کوئی معاہدہ یا میثاق طے کرنا ضروری ہے۔ صحافت اس وقت میڈیا مالکان اور ریاستی جبر کے ہاتھوں دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ صحافیوں کو اندرونی و بیرونی محاذوں پر متنوع مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کسی میثاق صحافت کا سامنے آنا ہمارے معاشرے کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “میثاق صحافت کی ضرورت

  • 12/12/2023 at 10:16 شام
    Permalink

    ماشاءاللہ ، بہت خوب۔

Comments are closed.