عبداللہ حسین اور آج کا ڈیلیما ( حصہ دوم )


دوسری طرف سرفراز بھی مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور وہاں اپنے اعلیٰ اقدار کے حامل ادارے کے افسروں، جوانوں اور اعلیٰ افسروں کے مس کنڈکٹ کا بار اپنے سر پر اٹھائے پھرتا ہے۔ کچھ واقعات، کچھ مناظر، کچھ الفاظ، کچھ جملے گاہ ناگاہ اس کے ذہن کی سکرین پر جھلملانے لگتے ہیں اور وہ ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ قید سے واپسی پر اس کی منگیتر کے گھر بیچ میٹس کے گیٹ ٹو گیدر کی ایک جھلک ملاحظہ ہو :۔

سرفراز دم لینے کو رکا تو کچھ دیر کو خاموشی ہو گئی۔ اس وقت تقریباً سب کو ایک ایسی بات کا احساس ہوا جو سب کے دل کے اندر پوشیدہ تھی اور خوش وقتی کے زیر زیر دبائی جاتی رہی تھی۔ سرفراز کو احساس تھا کہ اس کے دوستوں کو اس کی قید کے قصوں سے اتنی دلچسپی نہ تھی جتنی اس کی ذہنی حالت سے تھی، اور ان کی بیشتر خوشی کا اظہار یہ جان کر ہو رہا تھا کہ سرفراز قید کاٹ کر کم وبیش نارمل حالت میں واپس آیا تھا۔ دوسرے لوگوں کے اندر ایک دبا دبا احساس یہ تھا کہ وہ آخر کس بات پہ ہنس رہے تھے؟

قیدیوں کی کسمپرسی کی داستان پہ، یا کہ سرفراز کی باتوں کی مضحکہ خیزی پہ؟ اسی کے ساتھ ملا ہوا ان کے دل میں ایک تاثر ندامت کا بھی تھا کہ وہ اس جاں گسل تجربے میں شریک نہ ہوئے تھے۔ دوسروں کو آگے کر کے وہ خود پیچھے رہ گئے تھے۔ اس بے معلوم شرم کی مہین جھلی سارے ماحول پہ تنی تھی، جسے وہ معمولات کے اندر گم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس بات کا ادراک سرفراز کو اپنی سر زمین پہ قدم رکھتے ہی ہو گیا تھا کہ ماضی کے حالات نے، ان کی کارکردگی اور دشمن کی کارگزاری نے اس کے دوستوں، اس کے جانے ان جانے ساتھیوں کی طبیعتوں کو بدل کے رکھ دیا تھا۔ ان کے شعور کا تانا بانا شدید دباؤ کے اندر تھا اور اسے بکھرنے سے بچانے کو ان سب کے دل اور دماغ ایک خاموش، ان دیکھا واویلا کر رہے تھے۔ سرفراز کے دل میں ایک اندیشہ راہ پا گیا تھا۔

جب ملازم نے آ کر کھانا لگنے کی اطلاع دی تو نسیمہ اٹھنے کی تیاری میں آخری بات کے طور پہ سادگی سے بولی، کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایسکیپ پلان کامیاب ہو جاتی ”۔

” یس،“ کسی نے کہا۔ ”وڈنٹ اٹ بی نائیس؟
” بلڈی انفارمرز“ سلطان غصے سے بولا۔
” ٹیک اٹ ایزی اولڈ مین“ شعیب نے کہا۔
” واٹ ڈو یو مین۔ ٹیک اٹ ایزی۔
یو ور ناٹ دئیر ”۔
” دس از ناٹ فیئر سلطان“ برکی نے کہا۔
” آئی ایم سوری“ سلطان نے کہا ”آئی مین کہ ٹریٹرز کی ہمارے ہاں کبھی بھی کمی نہیں رہی“ ۔
” اووو۔“ دو تین آوازوں نے ناگواری کا اظہار کیا۔

” آپ کو پتہ ہے،“ سلطان بولا۔ ”کہ سکسٹی فائیو کی وار کے بعد جو جنرل ریٹائر ہوئے تھے انھوں نے نوکریوں کے لیے درخواستیں دی تھیں؟ کیا آپ اس کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ کوئی ریٹائرڈ جنرل کسی بیورو کریٹ یا سیٹھ کے سامنے جاب انٹرویو کے لیے بیٹھا ہو گا؟ انھیں سب کچھ دے دلا کر کرپٹ کر دیا گیا ہے“ ۔

محفل پہ یک دم خاموشی چھا گئی۔ نوجوانوں نے سب سے پہلے بریگیڈیئر کرار کی جانب، پھر نسیمہ اور اس کے بعد سرفراز کی جانب دیکھا۔ حیرت انگیز طور پہ، بریگیڈیئر صاحب کی جانب سے کوئی متوقع ردعمل ظاہر نہ ہوا۔ وہ کرسی کے بازوؤں پہ ہاتھ رکھے، ذرا سا جھک کر بیٹھے اپنے پاؤں کی جانب دیکھ رہے تھے۔ چند لحظے اسی طرح بیٹھے رہنے کے بعد انھوں نے تاسف سے دوبارہ دائیں بائیں سر ہلایا، پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور مڑ کر گھر کے اندر چلے گئے۔ ان کے ساتھ ہی نسیمہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”بھئی کھانا لگ گیا ہے“ وہ ہولے سے بولی۔ ۔

ناول پڑھتے ہوئے جب آپ آخری چوتھائی حصے میں پہنچتے ہیں تو یوں لگتا ہے آج کی بات ہو رہی ہے۔ (یاد رہے ناول میں یہ سقوط ڈھاکہ کے مابعد کا زمانہ ہے اور اسے نوے کی دہائی کے اوائل میں لکھا گیا ہے ) ۔ یہاں سے آگے عبداللہ حسین کے اسلوب میں اگاتھا کرسٹی کا سسپنس یوں شامل ہوتا ہے کہ قاری کی نگاہیں سطروں پر آگے سے آگے پھسلنے لگتی ہیں۔ جیسے ماضی کی اس داستان میں لمحہ موجود کی دہشت اور بربریت در آئی ہو جو ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑا دے۔ قاری کو آج کے سوالوں کے جواب ماضی کے ان واقعات میں ملنے لگتے ہیں تو اس کی توجہ ارد گرد سے ہٹ کر انھی صفحات پر مرکوز ہو جاتی ہے جیسے حالات حاضرہ کا ڈراپ سین ادھر ہی ہونے والا ہو۔

اعجاز سرمایہ داروں سے ٹکر لینے اور عدالتی نظام کی چالاکیوں کا کشتہ ستم بن کر اپنے ایڈیٹر سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد اپنے زخم چاٹ رہا ہوتا ہے اور اس کی بیوی ایک بار پھر پر امید ہو تی ہے کہ اس مرتبہ وہ ضرور ان بے کار شہری مصروفیات کو ترک کر کے گھر لوٹ آئے گا اور زمینداری پر توجہ دے گا کہ ایڈیٹر کی موت کا غم مناتے ہوئے اعجاز کی نظر کاغذوں کے اس بھاری بھرکم دبیز پلندے پر پڑتی ہے جو مقدمے کی کارروائی کے دنوں میں ایک اجنبی اسے تھما کر چلتا بنا تھا اور وہ اسے لاپرواہی سے میز کی دراز میں ڈال کر بھول گیا تھا اور یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کی تھی کہ یہ ہے کیا؟ اب اچانک نظر پڑی تو فرصت اور سوگ کے عالم میں اس نے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ کوئی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ تھی جسے انگریزی میں ٹائپ کیا گیا تھا۔ وہ جیسے جیسے پڑھتا گیا، اسی میں ڈوبتا چلا گیا، نہ کھانے کا ہوش نہ سونے کا۔ بالآخر اس نے رپورٹ کے چند مندرجات نقل کر کے اس دتھے کو ایک محفوظ جگہ پر چھپا دیا۔

ادھر مالک و ایڈیٹر کی ناگہانی موت اور مقدمہ ہار جانے کے بعد ہفت روزہ ”ببانگ دہل“ کی بندش کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور قابل وکیل صاحب کے مشورے کی روشنی میں اس کا اعلان کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں مدعی صنعت کار گروپ سے ڈھکی چھپی معافی مانگ کر اپنا پنڈ چھڑانا بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ اعلامیہ پڑھ کر سنانے کی ذمہ داری اعجاز کو سونپی جاتی ہے جو اندر ہی اندر اس موقعے کو اپنے دل کا غبار نکالنے کے لیے استعمال کرنے کا پروگرام بنا لیتا ہے۔ اعجاز کی یہ پریس کانفرنس پاکستانی معاشرے میں دیواروں سے سر ٹکرانے والے ایک عام پڑھے لکھے آدمی کی ذہنی کیفیت کا احاطہ کرتی ہے۔

قارئین کرام! اس سے آگے صرف ناول کے اقتباسات درج کیے جا رہے ہیں۔ دیکھیں کیسے آج کی کہانی پچاس سال پہلے کے واقعات میں جھلک رہی ہے۔

۔ ”اعجاز کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

” حضرات،“ اس نے کہنا شروع کیا، ”میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔ ہم ایک پریس نوٹ بھی جاری کر سکتے تھے، مگر ہم نے فیصلہ کیا کہ آپ لوگوں کو یہاں آنے کی تکلیف دی جائے، کیونکہ جو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں ان کا اس ملک کے سارے عوام کے ساتھ، اخلاقی، سیاسی اور آپ لوگوں کے ساتھ براہ راست پیشہ ورانہ تعلق ہے۔ سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج اس دفتر میں ہم لوگوں کی موجودگی کے باوجود یہ کمرہ“ ببانگ دہل ”کی مختصر زندگی کے روح رواں برادرم بدیع الزمان کی غیر موجودگی میں قطعی طور پر ایک بے آب و گیاہ ریگستان معلوم ہو رہا ہے۔ کھڑکیاں کھلی ہیں مگر سانس گلے میں اٹکتی ہے، کیونکہ ہماری رگوں میں آکسیجن پہنچانے والا شخص ہم سے رخصت ہو چکا ہے۔ مگر اللہ کے کاموں کے آگے کس کا بس چلتا ہے۔ اس سے پیشتر کہ میں اس آدمی کی ودیعت کی ہوئی شے، یعنی“ ببانگ دہل ”کے بارے میں کچھ عرض کروں، میں آپ لوگوں کی اجازت سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔

” جناب عالی، میں یہ کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ آپ اگر اس معاشرے کے سب سے عقلمند لوگ نہیں ہیں،“ اعجاز ایک لحظے کو رکا۔ سامعین کے درمیان ہلکی ہنسی کی آواز پیدا ہوئی، ”تو کم ازکم سب سے زیادہ با خبر لوگ ضرور ہیں۔ چنانچہ آپ کو خبر ہو گی کہ ربع صدی سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے، اور یہ ملک افواہوں پر چل رہا ہے۔ ہمارے اخباروں کا یہ حال ہے کہ کبھی کوئی اصل خبر نہیں چھپتی، بلکہ مختلف لوگوں کے الٹے سیدھے بیان چھاپ دیے جاتے ہیں۔

اگر کوئی اصل خبر نکلتی بھی ہے تو اس کا اجراء نامعلوم یہ جعلی ذرائع کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، اس طرح وہ ایک افواہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ افواہوں کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ اس وقت سے جب یہ ملک وجود میں آیا۔ ہمارے پہلے وزیراعظم سے لے کر دو جنگوں، دو مارشل لاؤں، سیاست کی متفرق قلابازیوں سے لے کر تیسری جنگ تک، ہمارے علم میں کچھ نہیں آیا کہ کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا، کس نے کیا کیا، کیا فیصلے ہوئے اور کس وجہ سے ہوئے اور ان کے نتیجے میں جو مصیبتیں ہم پہ نازل ہوئیں ان کا ذمہ دار کون تھا؟

ہمارا یہ ملک تباہی کن ادوار میں سے گزرا ہے، مگر ظلم خدا کا کہ ہمیں کچھ بتایا نہیں گیا۔ ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ ادھر سے ایک افواہ آتی ہیں، ہم اس پہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف سے افواہ آتی ہے تو ہم پہلی کو چھوڑ کر دوسری پہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ ہمارا ہر کسی پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ سچ کی عدم موجودگی میں ہمارے دماغوں کے اندر ایک ایسی دھند چھا چکی ہے کہ ہماری نظر چند قدم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اس دھند میں سے ظاہر ہوتا ہوا جو کوئی بھی ہمیں دکھائی دیتا ہے ہمارا کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ اس کا منطقی نتیجہ یہ وقوع پذیر ہوا ہے کہ سارے معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو چکا ہے۔ ہمارے ساتھ اس طور سے دغے پر دغا ہوا ہے کہ ہمیں کچھ علم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ ہمارے دلوں میں اندیشوں نے گھر کر لیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے، اور جو ہو گا وہ ہمارے اختیار سے باہر ہو گا، کیونکہ ہم لاعلم رہیں گے۔

ہم مستقل دغے کی توقع کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب آئیے دیکھیں کہ اس عدم تحفظ کا کیا نتیجہ سامنے آیا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے دلوں کے ارادے تبدیل ہو گئے ہیں۔ ہمارے اندر ایک قدرتی خواہش پیدا ہو گئی ہے کہ جو کچھ سمیٹا جا سکتا ہے آج ہی سمیٹ لیا جائے۔ یعنی بقول شاعر، کل کی خبر نہیں، اس لیے سو برس کا سامان آج ہی بنا لیا جائے۔ اس کے علاوہ عدم تحفظ کا ایک اور شاخسانہ بھی نکلا ہے۔ سارے کا سارا معاشرہ ایک ان دیکھے خطرے میں مبتلا ہو گیا ہے۔

اندر کے خطرے کا خدشہ، باہر کے خطرے کا خدشہ۔ اجتماعی خطرے کی جگہ انفرادی خطرے کے شبہات نے جنم لے لیا ہے۔ ہر کوئی اپنے تحفظ کے لیے دوسرے پر حملہ کرنے کو تیار بیٹھا ہے اور ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ہر ایک معاملے میں، خواہ وہ گھر کا ہو خواہ باہر کا، خواہ روز مرہ کا ہو خواہ دور از کار ہو، ہر ایک انسانی تعلق کے اندر صبر کا دامن ہاتھ سے چھٹ گیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نزع کا عالم ہے اور زندگی کے لیے ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، مگر کوئی سہارا نہیں ملتا۔

یہ زنجیر ہے اس زہریلے چکر کی جس کی تفصیل میں نے بیان کی ہے۔ ہم گردش کر رہے ہیں اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ کس وجہ سے دکھائی نہیں دیتا؟ کیونکہ اندر اور باہر اندھیرا ہے۔ یہ تاریکی کیوں چھائی ہوئی ہے؟ کیونکہ ہمیں آگہی مہیا نہیں کی گئی۔ اور یہ وہ جڑ ہے جہاں سے میں نے بات شروع کی تھی۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے آپ کو کوئی“ خبر ”مہیا نہیں کی جس کی تلاش میں آپ یہاں تشریف لائے ہیں، بلکہ لمبی چوڑی بات کر کے آپ کی سمع خراشی کی ہے“ ۔

” نہیں نہیں، اعجاز صاحب، بالکل نہیں“ سامعین سے کئی آوازیں آئیں۔ ”کہیے کہیے۔ فرمائیے“ ۔
( جاری ہے )

Facebook Comments HS