احمد سلیم مرتے تھوڑا نہ ہیں

2018 میں ہوئی ہماری تفصیلی ملاقات میں وہ میرے سماجی و معاشی مصائب سن کے یوں پریشان ہو گئے جیسے سگے بڑے بھائی گرچہ ان سے بھائی بندی تھی ہی نہیں اور نہ میں ان سے تعلق کو دوستی کا نام دے سکتا ہوں، ہمارا ایک انسانی رابطہ تھا۔
2018 کے بعد کئی بار اسلام آباد گیا مگر جان کے ان سے نہ ملا کہ انہوں نے میرے حالات میں مدد سے متعلق میری احتیاج اور مطالبہ کے بغیر اپنے طور پر محبت میں جو ارادے باندھے تھے اگر پورا کر سکتے تو لامحالہ رابطہ کرتے۔ کر نہ سکے ہوں گے چنانچہ میں نے مل کے ان کے اضطراب کا موجب نہیں بننا چاہا تھا البتہ لوگوں سے ان کی خیر خیریت دریافت کرتا رہتا۔
اپنی جگر کی خرابی، بھانجے کی طرف سے جگر کا ٹکڑا اور آپریشن کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے بن مانگے پچاس لاکھ دیے جانے اور اپنی پھر سے بحال ہوئی علمی سرگرمیوں سے متعلق تو وہ بتا ہی چکے تھے۔ ہماری یہ آخری ملاقات غیر معمولی طور پر طویل اور کسی کی مداخلت کے بغیر رہی تھی اگر چہ ہم پرہجوم ادبی میلے کے دوران اسلام آباد ہوٹل کی ایک کنج میں سر جوڑے بیٹھے تھے۔
ایک مشنری کے مزدوروں سے متعلق رسالے ”جفا کش“ کے مدیر کے طور پر میں ان کے نام سے شناسا تھا، جہاں میرا تب کا گہرا دوست شمعون سلیم ان کا مدیر معاون تھا مگر میں نے انہیں دیکھا ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر جہاں وہ پتلون پہ اجرک اوڑھے پہنچے تھے اور اپنی دزدیدہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے گذر رہے تھے کہ میں نے پکڑ کے اپنا تعارف کروایا تھا۔
پھر پانچ چھ سال بیت گئے۔ میں ایران سے لوٹا، چند سال کوٹ ادو رہا جہاں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوا تھا اور پھر مزدوروں کے گڑھ مریدکے منتقل ہو گیا تھا۔
پارٹی نے رسالہ نکالا ”راستہ“ جس کے مدیر احمد سلیم تھے اور میرا نام ان کے معاونین میں رسالے پہ درج رہا۔ میں ماسوائے احمد کھرل کے نام سے لکھنے کے اور کوئی معاونت نہ کرتا لیکن ہماری شناسائی عمیق ہونے لگی۔ رسالہ تو خیر چند ماہ بعد بند ہو گیا لیکن میں اور میمونہ جب بھی لاہور پہنچتے پونچھ روڈ پہ ان سے ملنے ضرور جاتے جہاں وہ اپنی بہن کے گھر کی بیٹھک میں اپنی ہزاروں کتابوں کے ساتھ مقیم تھے اور جنگ پبلشر کے انچارج تھے۔
جب بھی ملے وہ کتاب اپنی آنکھوں کے بہت قریب لا کے پڑھتے ہوئے ملے۔ مہمان نواز تھے۔ بظاہر خشک مزاج جہلم کے کسی نائب ”صوبیدار“ کی شکل والے احمد سلیم، صاحب مطالعہ تو تھے ہی لیکن خشک مزاج ہرگز نہ تھے، لطیفے سناتے اور کھل کر ہنستے بھی لیکن ان کی ہنسی کی بریک بہت محکم ہوا کرتی، غالباً سوچ کی رو روک دیتی ہوگی۔
کتابیں لکھنے کے رسیا تھے۔ پتہ نہیں کتنی لکھیں کتنی تالیف کیں اور کتنی مبنی بر تحقیق رہیں۔ جب میں نے ان کے بہت کتابیں لکھنے کو سراہا تو بولے کہ میں کتابیں لکھتا تھوڑا نہ ہوں میں تو کتابیں بناتا ہوں۔ دیانت دار اتنے کہ ایک بار کہا ڈاکٹر صاحب معذرت، میرے حیران ہونے پر بولے میں نے چند سال پہلے آپ کے ایک مضمون کے عنوان ”16 اگست کے بعد“ کو اپنی ایک کتاب کا عنوان بنا لیا تھا۔ ان دنوں میں جنگ کے ادارتی صفحہ پہ مضامین لکھا کرتا تھا۔ ہے کوئی ایسا جو ایسی معمولی بات پر معذرت کرے۔
پھر مجھے ماسکو میں ان کے شدید علیل ہونے کی خبر ملی پھر ان کی اپیل پڑھی کہ ان کے گزر جانے کے بعد کوئی یا حکومت کم از کم ان کے کتب خانہ کو محفوظ کر لے۔ لیکن اس کی نوبت نہ آئی وہ جگر کی تبدیلی سے جاں بر ہوئے۔ پچھلے دنوں سے ان کی طبیعت خراب رہنے کی اطلاعات آتی رہیں اور آج صبح فیس بک پہ شمعون سلیم کی پوسٹ سے ان کے دنیا سے گزر جانے کی اطلاع ملی۔ موت عامیوں کو آتی ہے۔ احمد سلیم ایسے خاص انسان مرا تھوڑا نہ کرتے ہیں۔


