قلندر اور قائد کو آزاد کر دو

سندھ کے قصبے سیہون شریف میں مشہور صوفی بزرگ اور قلندر سید عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر کا مزار اقدس ہے۔ جمعرات 16 فروری 2017 کی سرد شام تھی نماز مغرب کے بعد روضہ پر دھمال جاری تھا۔ عوام کا ایک اژدہام تھا کہ اچانک روضے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور چشم زدن میں ستر سے زیادہ زائرین خاک و خون میں لتھڑ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پانچ سو زائد زخمی ہو گئے۔ کسی معروف درگاہ کی چوکھٹ پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی خونی واردات تھی۔ اس سے پہلے 1994 میں درگاہ کا مرکزی گنبد بھی اچانک منہدم ہو گیا تھا۔ سیہون کے معصوم اور غریب عوام کا ایک حصہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب واقعات قلندر کے جلال کی نشانیاں ہیں کیونکہ ہم قلندر کے سامنے دھمال تو ڈالتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔
پچھلے ہفتے میرے کچھ احباب لاہور سے کراچی تشریف لائے انہوں نے مجھ سے سیہون شریف جانے کی فرمائش کی ہم دوسرے دن دو پہر کو سیہون شریف پہنچ گئے۔ شہر کے ایک چوک پر جہاں سے ذرا فاصلے پر درگاہ کی عمارت نظر آ رہی تھی، ایک سپاہی نے ہماری گاڑی کو روک لیا اور کہا کہ آپ اس سے آگے گاڑی لے کر نہیں جا سکتے کیونکہ ابھی کچھ وی۔ آئی۔ پی آنے والے ہیں۔ اس لیے اس سے آگے عوام کے لیے سڑک بند ہے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے ان کے لئے اتنا پیدل چلنا مشکل نظر آ رہا تھا۔
ہمارے ڈرائیور نے سپاہی کی مٹھی گرم کی تو سپاہی دانت نکوستے ہوئے بولا ”سائیں آپ چلے جاؤ“ آگے پہنچے تو پتہ چلا کہ اب اس سے آگے جوتے اتار کر ننگے پاؤں ہی جانا پڑے گا۔ وہ چلتی ہوئی سڑک تھی اور اس پر گدھا گاڑیاں بھی چل رہی تھیں لیکن زائرین کی کو اسی مقام سے ننگے پاؤں ہی جانا تھا۔ بہر حال ہم روضے کے مرکزی ہال میں پہنچے، ہال کے درمیان میں قلندر صاحب کی قبر انور ہے۔ لیکن اس کے چاروں طرف ایک کٹہرا (جنگلا ) ہے۔
اس کے اندر عام زائر نہیں جاسکتا صرف وی۔ آئی۔ پی جاتے ہیں۔ یا پھر وہ زائرین جا سکتے ہیں جن کو وہاں پر موجود پولیس کے ہرکارے یا مجاوروں کا ایک گروہ اجازت دیتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ پولیس والے اور مجاور ڈکیتوں کا ایک جتھا ہے۔ یہ ایسے زائرین کو اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں جو ان کی نظر میں پیسے والی اسامی ہو سکتے ہیں، اندر موجود مجاوروں کا ٹولہ چند لمحات میں ان زائرین سے کئی ہزار روپے نذرانہ زبردستی اینٹھ لیتا ہے۔
افسوس کا مقام ہے وہ برگزیدہ ہستیاں جو اس خطہ میں سینکڑوں سال پہلے عام انسانوں کے لیے محبتوں کا پیغام لے کر آئیں تھیں اور مظلوم انسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف رہتی تھیں ان کے ہی آستانوں کو لوٹ مار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہر حال ہم شام کو کراچی واپس آ گئے۔
کراچی آ کر ہمارے لاہوری احباب نے کہا کہ ہمیں واپس جانے سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی سلامی دینی ہے۔ دوسرے دن مزار قائد پر حاضری دینے پہنچے تو پتہ چلا کہ مزار قائد کی عمارت کے اطراف میں واقع وسیع و عریض چبوترے کی پہلی سیڑھی پر بھی قدم نہیں رکھ سکتے۔ قبر کے تعویز تک صرف وی۔ آئی۔ پی شخصیات تک کی رسائی ہے، یعنی ہر جگہ وی۔ آئی۔ پی کلچر خوب پھل پھول رہا ہے۔
میں اپنی ساٹھ سال سے زیادہ زندگی میں بارہا مزار قائد پر حاضری دے چکا ہوں۔ ماضی میں تو ایسا کچھ نہیں تھا۔ پتہ چلا کے کووڈ کے زمانے میں یہ پابندی لگی تھی جو ابھی تک نافذ العمل ہے۔
یہ دیکھ کر میرا دل چاہا کہ گلا پھاڑ کر با آواز بلند یہ نعرہ مستانہ بلند کروں کہ ”خدارا! قلندر اور قائد کو آزاد کردو“ ۔

