سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات


پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا جائزہ لیں تو سیاسی جماعتوں کی سطح پر ان کا داخلی جمہوری نظام ہمیشہ سے نہ صرف متنازعہ رہا ہے بلکہ یہ نظام سیاسی اور جمہوری اصولوں کے برعکس بھی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جمہوری ساکھ پر سوال بھی اٹھائے جاتے ہیں اور ان پر کڑی تنقید بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک منطق اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو مختلف غیر سیاسی ادوار میں یا اسٹیبلیشمنٹ کی جانب سے مختلف قسم کی غیر جمہوری معاملات یا ان کی مداخلتوں کی وجہ سے کام کرنے کا زیادہ موقع نہیں مل سکا۔

لیکن یہ ایک ادھورا سچ ہے۔ مکمل سچ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی ترجیحات میں سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت کے معاملات کو کبھی بھی سیاسی بالادستی نہیں مل سکی۔ اس کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں میں شخصیت پرستی، خاندانی اجارہ داری یا موروثی سیاست کو ہی غلبہ حاصل رہا اور سیاسی سطح پر ان جماعتوں کی اکثریت نے داخلی جمہوری نظام کو موثر اور شفاف بنانے میں کوئی مثالی کردار ادا نہیں کیا۔

سیاسی جماعتوں کی ملکی سیاست میں جو کمزوری کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں یا ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھائے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ بھی سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت سے جڑے کمزور پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کا ایک سوال ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کی ساکھ کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ انتخابات متنازعہ بھی ہیں اور عدم شفافیت سے جڑے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین جن میں اکبر ایس بابر بھی شامل ہیں پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کو چیلنج کر رہے ہیں اور ان کے بقول الیکشن کمیشن ان انتخابات کو کالعدم بھی قرار دے اور ان کو قومی انتخاب میں بلے کا انتخابی نشان نہ دیا جائے۔ پاکستان میں عمران خان کے سیاسی مخالفین چاہے وہ سیاست کے میدان میں ہوں یا صحافت کے میدان میں سب ہی پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کو چیلنج کرتے ہیں، اچھی بات ہے کہ ان انتخابات کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا داخلی سیاسی جماعتوں کے انتخابات کی شفافیت محض تحریک انصاف تک محدود ہیں۔ کیا باقی سیاسی جماعتوں کے داخلی جماعتی انتخابات کا طریقہ کار شفافیت پر مبنی ہے اور کیا جو داخلی انتخابات کے طریقے دیگر جماعتوں نے اختیار کیے وہ شفاف تھے۔ کیا اس سے قبل الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات کو اس انداز میں چیلنج کیا یا کسی اور میڈیا یا سول سوسائٹی کی جانب سے اس کو چیلنج کر کے قانونی راستہ اختیار کیا گیا تو جواب نفی میں ہی ہو گا۔

پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کی جھلک وہی ہے جو ہمارے سیاسی نظام میں دیگر جماعتوں کے اختیار کی ہوئی ہے۔ ماسوائے جماعت اسلامی کے باقی سب سیاسی جماعتوں کا داخلی انتخابی نظام سیاسی اور جمہوری یا آئینی و قانونی اصولوں کے برعکس ہے۔ لیکن کیونکہ یہاں اس وقت داخلی سیاسی جماعتوں کے انتخابات کو موضوع بنا کر ایک جماعت پی ٹی آئی کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور مسئلہ، آئینی یا قانونی یا شفافیت کا نہیں بلکہ خالص بنیادوں پر یہ مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور ایک جماعت کو انتخابات سے پہلے سیاسی دباؤ میں لانا، انتخابی نشان سے محروم کرنا یا ان کو کسی بھی صورت انتخابی ماحول میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینا ہے۔

اس وقت سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات کے تناظر میں چار پہلو اہم ہیں ان میں اول سیاسی جماعتیں موروثی یا خاندانی نظام کے گرد گھوم رہی ہیں اور ان ہی کو بنیاد بنا کر یہ خاندان سیاسی حق سمجھتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی اور کو ان کی جماعت کی قیادت کا حق نہیں۔ اگر کبھی کسی سیاسی جماعت کی قیادت پر برا وقت آیا تو انتظامی بنیادوں پر قیادت کی تبدیلی کی گئی وہ بھی ان کی مرضی اور خواہش سے جڑی ہوتی ہے اور یہ مصنوعی قیادت بھی اصل قیادت کے ماتحت ہوتی ہے اور اصل قیادت کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

دوئم اب سیاسی جماعتوں میں موجود بڑے خاندان اس بات کی بھی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی بھی ان کے خلاف یا ان کے نامزد کردہ افراد کے خلاف انتخاب لڑیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات ہمیں بڑی مضبوطی کی بنیاد پر ”بلامقابلہ انتخابات کا رجحان“ غالب ہے۔ جو لوگ بھی اس موجودہ نظام یعنی بلامقابلہ کو چیلنج کرتے ہیں یا آواز اٹھاتے ہیں ان کو عملی طور پر پارٹی کی اہم فیصلہ سازی سے محروم کر دیا جاتا ہے یا پارٹی سے ان کو علیحدگی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

سوئم الیکشن کمیشن یا سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر موجود قانون ”پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ“ کی موجودگی کے باوجود نہ تو الیکشن کمیشن ان انتخابات کو چیلنج کرتا ہے اور نہ ہی ان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی قسم کے موثر انتظامی یا قانونی اقدامات کا سہارا لیتا ہے۔ چہارم سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر نگرانی کرنے والے اہم سول سوسائٹی کے ادارے یا میڈیا میں بھی اس پر کوئی بڑی علمی یا فکری بحث موجود نہیں بلکہ یہ ہی منطق دی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ابھی بھی ارتقائی عمل سے گزر رہی ہیں اور ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور یہ ہی سیاسی حقائق ہیں۔

پی ٹی آئی کے داخلی انتخابات کو جس انداز سے چیلنج کیا گیا اور جس انداز میں اب اکبر ایس بابر ان انتخابات کی بنیاد پر اس کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو ان کے انتخابی نشان سے محروم کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ہر بار اکبر ایس بابر ہی یہ سب کچھ کیوں کرتے ہیں اور کون ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ ماسوائے ان کے پوری پارٹی میں سے کوئی اور اس داخلی نظام کو چیلنج کیوں نہیں کرتا اور اب بھی اکبر ایس بابر کے پیچھے کون ہے۔

اس طرز کی سیاست ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے اور بڑی جماعتوں کی قیادتوں کو دباؤ میں لانے کی یہ کوشش نئی نہیں، لیکن اس طرح کے تجربے ماضی میں بھی کارگر نہیں ہو سکے تھے اور نہ اب یہ بہتر نتائج دے سکیں گے۔ اگر واقعی ہمیں داخلی انتخابات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کے نظام کو درست کرنا ہے تو اس کے لیے درست طریقہ کار ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔ جب تک خود الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات کی شفافیت کا کوئی موثر نظام نہیں بنائے گا اور اس کی شفافیت پر مبنی نگرانی اور جوابدہی کا نظام نہیں ہو گا معاملات درست سمت آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

اسی طرح پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں بھی بنیادی ترامیم کی ضرورت ہے کہ وہاں بھی ایسی ترامیم کی جائیں جو سیاسی جماعتوں کے انتخابات کی شفافیت کو موثر بنا سکے۔ یہ جو پسند و ناپسند یا کسی کی حمایت یا مخالفت یا کسی کے دباؤ پر سیاسی جماعتوں کے انتخابات کو چیلنج کرنے کے کھیل سے گریز کیا جانا چاہیے۔ پہلے بھی الیکشن کمیشن کی شفافیت پر بہت سے سوالات ہیں اور اس میں مزید بگاڑ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ خود سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کو بھی سمجھنا ہو گا کہ اب حالات وہ نہیں جو کبھی ماضی میں ہوتے تھے۔ اب حالات بدل رہے ہیں اور ان بدلتے ہوئے حالات میں خود سیاسی جماعتوں کے بھی آگے بڑھ کر اپنے داخلی انتخابات کو شفاف بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔

سیاسی جماعتیں خارجی جمہوریت پر تو بہت زور دیتی ہیں مگر داخلی جمہوریت سے انحراف کی پالیسی کا عمل خود سیاسی و جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ادارے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے جہاں افراد کے مقابلے میں تنظیم یا ادارے کی اہمیت کو زیادہ اہمیت ہونی چاہیے۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی یا ادارے کی داخلی جمہوریت اور جوابدہی کے عمل کی مضبوطی ہی سیاسی قیادت کو بھی کسی نہ کسی صورت میں سیاسی جماعتوں کے سامنے جوابدہ بناتی ہے۔

مگر اس کے برعکس اوپر سے لے کر نیچے تک نامزدگی اور بلامقابلہ کا طریقہ کار داخلی جمہوریت کے عمل کو کمزور کر رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے سیاسی و جمہوری نظام میں جہاں سیاسی اور جمہوری اصلاحات درکار ہیں وہیں ہمیں کچھ انتظامی اور قانونی پالیسیوں، قانون سازی اور عملی اقدامات کی صورت میں معاملات کو درست سمت دینی چاہیے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ قومی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں کی مدد سے بڑے سیاسی فریم ورک کی صورت میں بحث ہونی چاہیے تاکہ اس اہم موضوع پر نئے سرے سے بحث ہو اور کچھ اتفاق رائے بھی سامنے آئے۔ یہ اتفاق رائے اور اس پر پھر عملدرآمد کا نظام ہی ملک میں داخلی سیاسی جمہوریت کے عمل کو مضبوط بنا سکتا ہے جو ہم سب کی ضرورت بھی بنتا ہے۔

Facebook Comments HS