کوا چلا ہنس کی چال!


ایک پرانا محاورہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔ کچھ یہی محاورہ اُن لوگوں پر منطبق ہوتا ہے جو جھوٹی نمود و نمائش میں پڑ جاتے ہیں۔ مغرب میں جانوروں کو سجانے اور بظاہر عام سی نظر آنے والی اشیاء جیسے کسی خاص کرکٹ مقابلے میں استعمال ہونے والے گیند بلے، یا کسی خاص مصور کی تصویر یا اپنے پالتو جانوروں کی دیکھ بھال پر بے تحاشا رقم خرچ کرنے کا رواج ہے تو ہمارے لوگوں نے بھی اُسے اپنانے کی کوشش کی ہے لیکن نقل را چہ عقل کے مصداق ویسا نہیں کرسکے ہیں جیسے مغرب والے کرتے ہیں۔

مثلاً لوگ اپنے قربانی کے جانور کو بے تحاشا کھلاتے اور سجاتے ہیں۔ ہزاروں کے جانور لاکھوں میں خریدتے ہیں۔ ان کی صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھا جاتا ہے، رنگ لگائے جاتے ہیں، اچھی خوراک کھلائی جاتی ہے۔ پڑوسیوں، رشتہ داروں میں اور ذرائع ابلاغ پر اُن کی فخریہ نمائش کی جاتی ہے پھر جب عید کے موقع پر اسے قربان کرتے ہیں تو چونکہ انہوں نے اس پر بے تحاشا اخراجات صرف کیے ہوتے ہیں تو ان کا دل اس کا گوشت بانٹنے کو نہیں چاہتا۔ ایسے لوگوں کے زیادہ تر رشتہ دار بھی قربانی کرتے ہیں تو انہیں تو دوسرے کے گوشت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن غریبوں کے حصے کو بانٹتے ہوئے ان کا دل نہیں چاہتا چنانچہ وہ غریبوں ناداروں میں ہڈیاں اور چھیچھڑے تقسیم کرتے ہیں اور باقی گوشت اپنے پاس فریزر میں رکھ لیتے ہیں۔ اسی لیے تو عید قربان سے قبل فریج و فریزر کے دام بڑھ جاتے ہیں۔

چونکہ لوگوں نے بے تحاشا اخراجات کیے ہوتے ہیں تو گوشت بانٹنے کے موقع پر اُن کا رویہ پنجابی و سرائیکی زبان کے اس محاورے کے مطابق ہوتا ہے کہ ”پیر منانا تے آپ کھانا۔“ اس محاورے کی تشریح یہ ہے کہ اپنے پیر کی منت مانی جائے اور منت پوری ہونے پر اس کے مزار یا گھر پر اپنے رشتہ داروں کو ساتھ لے کر چیز اُن میں بانٹ دی جائے جو ظاہر ہے عام غریبوں کے حصے میں نہیں آتی۔ اس لیے اب معاملہ کچھ یوں بھی ہو گیا ہے کہ امیر لوگ دوسرے امیروں کو اس تہوار کے موقع پر جانور جیسے دنبہ وغیرہ دیتے ہیں۔ حالانکہ قربانی کا اصل حکم تو یہ ہے کہ اپنی حق حلال کی کمائی سے جانور لیا جائے۔ پہلے ایک گھرانے کا ایک آدھ فرد ہی قربانی کرتا تھا، اب ایک گھر کے کئی کئی افراد قربانی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اب عام دنوں میں بھی جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے گوشت کی قیمت بھی آسمان کو پہنچ گئی ہے۔ یوں گوشت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو کچھ عرصے میں گوشت کی قیمتیں بھی چلغوزے کی قیمت کے برابر پہنچ جائیں گی۔ ہمارے بچپن میں چلغوزے ڈیڑھ سو سے دو سو روپے فی کلو ملتے تھے۔ جب تک آٹھ نو سو روپے کلو تک تھے توہم خریدتے رہے لیکن جب ان کی قیمت دو ہزار سے آٹھ دس ہزار تک پہنچ گئی تو ہم بے اکبر الہ آبادی کے شعر کے مطابق ”استعفا مرا با حسرت و یاس“ دے دیا۔ ایسے لوگ جو گوشت اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں اس طرح سے بڑھواتے ہیں، پھر شام کو ایک وقت کا کھانا غریبوں کو کھلا کر ضمیر کو مطمئن کر دیتے ہیں کہ بس انہوں نے جنت کما لی۔ لیکن دوسری طرف ان کی اس بے جا نمود و نمائش کے نتیجے میں جانوروں کے دام بڑھنے سے کتنے ہی لوگ گوشت اور دیگر اچھی چیزوں کی حسرت دل میں لیے جاتے ہیں، اس گناہ کی کسی کو پروا نہیں ہوتی۔

اسی طرح اب چند مہینوں بعد رمضان کا مہینہ آنے والا ہے۔ تو رمضان کے روزے کی اصل حکمت تو یہ تھی کہ امیر لوگ بھوکے رہیں تاکہ ان کو غریبوں کی بھوک کا اندازہ ہو سکے اور ان میں غرور کی بجائے انکساری آ سکے۔ لیکن لوگوں نے اسے بھی نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اب لوگ سحری کے وقت قسم ہا قسم کے اتنے کھانے کھا لیتے ہیں کہ اُن سے اُٹھا ہی نہیں جاتا۔ اپنے کام کا دورانیہ بھی کم کر لیتے ہیں اور کام کے دوران بھی دوسروں پر رعب جماتے ہیں کہ ہمارا روزہ ہے، دن بھر اسی فکر اور سوچ میں مبتلا رہتے ہیں کہ شام کو افطاری پر کیا کیا کھائیں گے۔ اسی وجہ سے تو رمضان کے دوران مختلف اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ حالانکہ اگر رمضان کی اصل روح یعنی انکساری اور سادگی پر عمل کیا جاتا تو منڈی میں طلب و رسد کے نظام کی منطق کی رو سے آبادی کے ایک بڑے حصے کی جانب سے دوپہر کا کھانا نہ کھانے کے باعث اشیاء کی قیمتیں گر جانی چاہیے تھیں لیکن لوگ اپنے دوپہر کے کھانے کی کمی کو سحری اور افطاری میں اس طرح سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عام دنوں سے بھی زیادہ کھا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ رمضان کے دوران دام بڑھ جاتے ہیں۔

ہمیں یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ اگر نمود و نمائش کرنی ہے تو پھر روزے کی ضرورت کیا ہے۔ لوگ رمضان کے دنوں میں بڑی بڑی تسبیحیں لیے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی بڑی بڑی تسبیحوں کو دیکھ کر بابا بُلے شاہ کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے کہ ”لوکاں دیاں جپالڑیاں تے بابے دا جپال اے، چھینڑاں ہن چھڑیں دار یارائے، وجے اللہ والی تار، وجے مولا والی تار“ یعنی دوسروں کی تو چھوٹی سی تسبیح ہوتی ہیں لیکن بابے کی بڑی تسبیح ہے۔ چھینہ (جانوروں کا چارہ اور اناج چھاننے والی بڑی سی چھلنی) سے اسی طرح چھانا جاتا ہے۔ اسی طرح عیدین کے موقع پر پہلے کوئی مشکل سے ایک نیا لباس بنواتا تھا اور وہ بھی کئی کئی عیدین تک چلتا تھا۔ اب لوگ عید پر کئی لباس بنواتے ہیں جس کی وجہ سے کپڑوں اور درزیوں کے دام بڑھ جاتے ہیں۔ لوگوں کو یہ پروا نہیں ہوتی کہ غریب ان کے اتنے کپڑے دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے۔ غریب چاہے گھٹ گھٹ کر مرتا رہے، اُن کی بلاء سے، انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ پی ٹی وی کے مشہور ڈرامے ”استانی راحت کی کہانی“ میں یہی کچھ تو بیان کیا گیا تھا لیکن اب معاملہ اس سے بھی کئی گنا خرابی کی طرف بڑھ گیا ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا لوگ بے تحاشا کھاتے ہیں پھر اُس کھانے کو ہضم کرنے اور موٹاپے کو دور کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے جم جاتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں تاکہ دل کے دورے سے بچ سکیں۔ اس پر بھی ہمیں بابا بلھے شاہ کا یہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ ”میری بکل دے وچ چور“ یعنی اپنی بغل میں ہی چور ہے۔ اگر لوگ دوسروں کا حق مار کر زیادہ نہ کھائیں اور پیٹ کو ضرورت سے زیادہ نہ بھریں تو انہیں ورزش اور دواؤں پر اتنے اخراجات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اگر زیادہ دولت ہے تو غریبوں میں بانٹیں، ان کے لیے کوئی کام کریں جیسے بل گیٹس نے اپنی ذاتی دولت غریبوں کے لیے وقف کر دی ہے اور اسی وجہ سے اب بھی دبلے پتلے اور صحت مند ہیں کہ ضرورت سے زیادہ نہیں کھاتے اور مطمئن رہتے ہیں۔

بے تحاشا دولت ہوتی ہے تو لوگ اس کو سنبھالنے کی پریشانی میں بھی مبتلاء رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں پی ٹی وی کا ایک مشہور ڈرامہ یاد آ گیا جس میں فاروق ضمیر مرحوم کا باس اس کے پاس دس لاکھ روپے کا بریف کیس رکھوا دیتا ہے اور اُن بے چاروں کو ساری رات چوری کے خوف سے نیند نہیں آتی ہے۔

Facebook Comments HS