گھر واپسی – افسانہ
اب میں واپس کیسے جاؤں؟
لیکن میں واپس کیوں جاؤں! میں اپنی مرضی سے گھر کو چھوڑ کر آیا تھا۔ میرا ایک مقصد تھا، ایسا مقصد جس کے حصول کے لئے ہر راستہ کو جائز سمجھا، ہر جاندار شے کو مٹانے کے قابل سمجھا، جو راستے میں جان بوجھ کر یا اتفاقاً آ جائے اس کو ہٹانا ضروری جانا، جو نہیں جھکا اس کو زبردستی جھکا دیا۔
وہ کتنا بڑا نصب العین تھا! ہمیں یہی بتایا گیا کئی سالوں سے۔ جو اس سے اتفاق نہیں کرتا اس کو دشمن سمجھو، اس کو کمتر جانو، اس کو زمین پہ بوجھ سمجھو، اس کی املاک پر قبضہ کر لو، اس کی کمسن بچیؤں کو جنسی غلام بنا لو۔
اور میں ایسا ہی کرتا رہا۔ نجانے کتنوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، کتنوں کو عمر بھر کے لئے مفلوج کر دیا، کتنی عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، کتنی املاک کو لوٹ لیا، جو باقی بچا ان سب کو جلا دیا۔ مرنے والوں کی چیخیں میرے دل کو نہ چیر سکیں، رونے والے کی آہ و بکا سے میرے کان پہ چیونٹی بھی نہ رینگی، عورتوں کی آہوں کو میں نے جنسی کھیل کا حصہ جانا۔
اور روز میں اپنے کارناموں پہ خوش ہوتا۔ میں ہی نہیں میرے اور بھی ساتھی دیر تک بیٹھے ایسے باتیں کرتے جیسے ہم کمپیوٹر پہ کوئی ویڈیو گیم کھیل کے آئے ہیں۔
لیکن ایک دن میں بھونچال میں پھنس گیا۔
کیسا بھونچال جو میرا سکون، میری نیند، میری بھوک، میری پیاس، سب کچھ اڑا لے گیا!
میرے اندر کسی نے ایک طوفان برپا کر دیا۔ اس طوفان کی آنکھ میرے اندر سما گئی جس نے مجھے ناکارہ کر دیا۔ میرا نشانہ جو کبھی خطا نہیں جاتا تھا، اب وہی نشانہ چونک جاتا ہے۔ اب میں نہ قتل کر رہا ہوں، نہ جنسی زیادتی کرنے کے قابل رہا ہوں، نہ ہی لوٹ مار میں مزہ آتا ہے۔ مجھے پتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ وہ لڑکی جو میری ہوس کا نشانہ بننے والی تھی، جس کے لئے میں انسان کے درجے سے گر کر گدھ بننے والا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ بھی اسی عظیم مقصد کے لئے کام کرنے آئی تھی، اپنی جان تک اس منزل کو حاصل کرنے کے لئے داؤ پہ لگا نا چاہتی تھی۔
ایک معمولی شکل و صورت کی مگر فولاد سے گوندھی ہوئی نیّرہ۔
نیّرہ کے کچھ طور طریقے ہم سے مختلف تھے اور یہ شاید ہم برداشت کر لیتے۔ لیکن اس کا ایک اپنا ذہن تھا، اپنی متحرؔک سوچ تھی، اس کے سوالات عجب تھے اور جوابات بھی منفرد۔ اس کی باتیں ہمارے ذہنوں میں تعمیر شدہ عمارت کی بنیادیں ہلا رہیں تھی۔
لیکن پھر بھی ہم صحیح تھے وہ غلط تھی۔
اس کو کئی مرتبہ وارننگ دی گئی لیکن ہر وارننگ کے بعد اس کے روّیے میں اور شدّت آجاتی، وہ چنگاری سے شعلہ بن جاتی۔ اپنے ہی گروپ کے لوگوں سے بحث شروع کر دیتی۔ کتنی دلیل تھی کتنا وزن تھا اس کی باتوں میں۔ لیکن گروپ کے سربراہ سے یہ برداشت نہ ہو سکا۔ اس کو راہ راست پر لانا ضروری تھا۔ اس کے مضطرب دماغ کو سلانا لازم تھا۔ اس کو ہمیشہ کے لئے توڑنا فرض تھا۔
اس کو مشورہ دیا گیا کہ وہ رات کی تاریکی میں بھاگ جائے۔ اور جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہی لوگوں نے اس کو پکڑ لیا۔
اسکے لئے سزا تجویز کی گئی، ایسی سزا، غدّاری کرنے کی سزا جو سب کے لئے عبرت بن جائے۔
نیّرہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ اس پہ جسمانی تشدد کے لئے باریاں لگا دی گئیں۔
جب میری باری آئی تو میں اس کی گہری آنکھوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی نفرت کی تاب نہ لا سکا۔ اس کی نگاہوں سے نکلتے ہوئے شعلوں نے مجھے زندہ جی جلا کے راکھ کر دیا۔ میں جل رہا تھا اور پسینے کی دھاریں اس آگ کو نہیں بجھا سکیں۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ مجھے کیا ہو گیا تھا۔
جب مجھے ہوش آیا تو میں فرش پہ لیٹا ہوا تھا۔ وہی نیرہ پانی کا ایک ڈونگا ہاتھ میں لئے میرے سر کو سہلا رہی تھی۔ میں حیرت سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے ایک تیر ہمیشہ کے لئے میری روح میں پیوست کر دیا۔ مجھے ہمیشہ کے لئے زخمی کر دیا۔ مجھے جیتے جی مار دیا۔
’ مجھے تم سے شدید نفرت ہے لیکن تمہیں مرنے سے بچانا میرا فرض ہے۔ ‘


