عدالتی میوزیکل چیئر
پاکستان میں جمہوریت اور عدالتی سہولت کاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کس کی گُڈی اونچی اڑے گی اور کون نا اہل قرار پائے گا یہ فیصلے کسی گناہ کی بنیاد پہ نہیں بلکہ آپ کی کسی غلط ”ادا“ کی سزا کے طور پر سنائے جاتے ہیں۔
کل کے نا اہل آج کے بری یافتہ اور کل کے ہی یاروں کے یار آج کے قیدی نمبر آٹھ سو چار۔ بنی گالہ سے اڈیالہ کا سفر ہو یا ایون فیلڈ سے کورٹ کے میدان کا، یہ سارے کھیل قسمت کے نہیں، قدرت کے بھی نہیں بلکہ طاقت کے دربار میں طے کیے جاتے ہیں۔
نہ کل کوئی نا اہل تھا نہ آج کوئی مجرم۔ بس آپ اپنی اداؤں پہ غور فرمائیں، ہم اگر عرض کریں گے تو 9 مئی یاد آ جائے گی۔
شاید مظہر عباس درست ہی فرماتے ہیں کہ ”جس طرح نواز شریف کی سزا متنازع رہی اسی طرح ان کی بریت بھی متنازع رہے گی“
اب تو کسی کو بھی سزا یافتہ ہونے کے باوجود مجرم سمجھنا بڑا بے اعتبار سا لگتا ہے کہ جب وقت کی گردش کے ساتھ ٹیبل گھومے گی تو کہیں کوئی اور کینگرو عدالت کے اجتماعی فیصلے سے وہی مجرم وکٹری کا نشان بنا کر نکلتا دکھائی نہ دے رہا ہو۔
ابھی کچھ ہی سال قبل ایک مقبول وزیر اعظم کو ایک آمر نے پھانسی پہ لٹکایا تھا۔ ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔ اب اسی پھانسی کی سزا کو آج ایک عدالتی قتل قرار دیے جانے کی تیاری ہے۔
ہم وقت کی ایک ایسی چکی میں گھوم رہے ہیں جس میں قاضی اپنے آقا کے اشارے پر فیصلے صادر کرتا ہے جسے آنے والا دور غلط ثابت کر دیتا ہے۔ تو کیوں نہ ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دیں نہ کہ کسی آقا کی رضا اور ڈاکٹرائن پر۔
نواز شریف کے ساتھ جو ماضی میں ججز نے کیا اس پر معروف تجزیہ نگار محترم انیق ناجی نے کیا خوب قلمبند کیا ہے کہ ”جب ہر دروازہ بند تھا، فرعونت عروج پر تھی اور غصیلے سانپ چاروں جانب پھنکار رہے تھے۔ تب جبر کا دہکتا سورج سوا نیزے پر تھا اور سنگ دل مگر مچھ قہقہے لگاتے تھے کہ نواز شریف ماضی بن چکا۔ اس وقت اس شخص نے آسمان کو دیکھا اور چپ ہو گیا، آج وہ تمام درندے چپ ہیں اور وہ شخص مسکرا رہا ہے“
اس عدالتی میوزیکل چئیر کے باعث تاریخ کے کچھ درست فیصلے بھی مشکوک دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اب چاہے وہ پاکستان کو مردہ باد کہنے والا نعرہ ہو یا 9 مئی کی ریڈ لائن کراس کرنے کا واقعہ ہو۔
پچھتر سالہ تاریخ میں ہم نے بارہا جرنیلوں کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ بھاری مراعات لینے والے یہ سب ججز کیوں احتساب سے بالاتر ہیں اور آج تک کسی کو مثالِ عبرت کیوں نہیں بنایا گیا۔
بس یہی وہ سوال ہے جو وقت کی چکی میں گھوم پھر کر ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور ہم سب بے بسی کی مثال بنے گونگے بن جاتے ہیں اور اگلے ”گناہگار“ کی گرفتاری پر تالیاں بجا کر بچہ جمہورا کا تماشا دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔


