انسان نما سفاک بھیڑیے


کہتے ہیں بھیڑیا شکار کرنے سے پہلے یہ نہیں دیکھتا کہ شکار معصوم ہے، مجبور ہے یا پھر بچہ ہے، بوڑھا ہے اور صنفِ نازک ہے یا صنفِ سخت، اپاہج ہے یا توانا، جو ہے جیسے ہے بھیڑیا صرف اپنے پیٹ کی آگ کا ایندھن تلاش کرتا ہے اور اس کام میں کوئی اسے سفاک کہے، حیوان کہے یا جو جسے اچھا لگے وہ کوئی تمیز خاطر نہیں لاتا۔ پھر اس پہ یہ بھی کہ بھیڑیا بوڑھا بھی ہو جائے تو سفاکیت سے باز نہیں رہتا۔ بھیڑیا اس تاک میں رہتا ہے کہ اسے موقع ملے اور وہ اپنے شکار کو دانتوں میں دبوچ لے۔

لیکن ایک دوسری حقیقت میرے لیے حیران کن تھی کہ بھیڑیے اپنے قبیلے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت مخلص ہوتے ہیں۔ ایلفا وولف اپنے خاندان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے لیکن ان پہ آنچ نہیں آنے دیتا۔ یعنی بھیڑیا جتنا بھی سفاک ہو، کسی نہ کسی اصول کا پابند ضرور ہے۔ اور پھر کوئی بھیڑیا اپنے جیسے دوسرے بھیڑیے کو نہ اس کے خاندان کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اب آپ دیکھیے اپنے ارد گرد موجود انسان نما سفاک بھیڑیے، جو کسی اصول، تمیز، مذہب، قانون یا انسانی وصف کو نہیں مانتے۔ جسے بہن کہتے ہیں موقع ملنے پر سب سے پہلے اسی کو نوچ کھاتے ہیں۔ موقع ملتا جائے تو اپنی ہی منہ بولی بہنوں کے جسم کا گوشت پوست علیحدہ علیحدہ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے سفاکیت کی مثال بنا دیتے ہیں۔ ہیں اور اگر بہن سے رشتہ خونی ہو تو پوری قوت کے ساتھ اس کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر اثاثہ بھیڑیوں کی طرح اپنے دانتوں میں دبوچ رکھتے ہیں۔

یہ انسانی شکل کے بھیڑیے کسی تمیز کے قائل ہیں نہ کسی لحاظ پہ قائم۔ اپنے جیسے دوسرے بھیڑیوں کو بھی نوچ نوچ کر تب تک کھاتے ہیں جب تک ان کے جسم بدبودار نہ ہو جائیں۔ بات یہیں ختم نہیں بلکہ اس سفاکیت کے معیار پر نہ اترنے والے انسانوں کا باقاعدہ ناطقہ بند کر دیا جاتا ہے اور زندگی کے چلے رہنے کی واحد شرط سفاکیت اور بھیڑیا پن ہے۔ یہاں کوئی جتنا اپنے اوصاف میں بھیڑیا ہے یعنی، انسانی حرمت کو نوچ کھانے کا ماہر ہے، انسانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کا علمبردار ہے، وہ اتنا ہی قابلِ قبول اور عزت دار ہے۔ انسانی شکل کے سفاک بھیڑیوں کے معاشرے میں عالی ظرف ہونا بھیڑیا ہونا ہے۔

لوگ اعلیٰ اداروں میں جاب اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنی سفاکیت کے لیے موزوں مواقع تلاش کر سکیں۔ مقابلے کے امتحانات دیتے ہی اس لیے ہیں کہ عالی ظرف بھیڑیوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں۔ اس بدبودار معاشرے میں تعلیم کا مقصد سفاکیت کے وسیع مواقع تلاش کرنا ہے۔ مذہب بھیڑیوں کے دانتوں پہ نقش خون کو مقدس بناتا ہے۔ مدرسے اور جامعات بھیڑیوں کی پرورش کرتے ہیں اور ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں ایک دوسرے کو نوچ کھانے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ ایک ہی ریسرچ لیب میں کام کرنے والے سکالر، ایک دفتر میں کام کرنے والے کولیگ، ایک گھر میں رہنے والے افراد، ایک سوسائٹی میں قیام کیے ہوئے لوگ، ایک مسجد میں نماز پڑھنے والے نمازی، ایک محلے میں بچے پڑھانے والے مولوی صرف اس طاق میں لگے رہتے ہیں کہ انھیں موقع ملے اور وہ اپنے شکار کو دبوچ لیں۔

اگر آپ کسی سرکاری جاب میں ہیں، کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں، کہیں مسجد کے امام ہیں یا کسی خاندان کے سربراہ ہیں، کسی یونین کونسل کے انچارج ہیں اور اپنے سائلین اور ساتھیوں کی معمولی حق تلفی کو اپنا حق سمجھتے ہیں، اپنے فرائض کی بنیادی ادائیگی سے واقف نہیں یا اسے اہم نہیں سمجھتے، اپنے عہدے کا استعمال اپنے جیسے مجبور انسانوں سے ناحق مال بٹوربے اور نیچا دکھانے کے لیے کرتے ہیں تو آپ انسانی شکل کے سفاک بھیڑیے ہیں۔ اگر آپ کی دلیل یہ ہے کہ ہر دوسرا شخص یہاں بھیڑیا ہے اور انسانی گوشت نوچ کھا رہا ہے تو آپ بے شک ایک عادی سفاک بھیڑیے ہیں، اگر آپ کا جواز یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی غربت، محرومی میں گزری ہے اور لوگوں نے آپ کے حقوق کو نوچ نوچ کھایا ہے تو آپ انسانی شکل میں سفاک بھیڑیے ہیں کیونکہ ہر بھیڑیے کی سفاکیت کی دلیل یہی ہے کہ مجھے اپنے پیٹ کا جہنم بھرنا ہے۔ انسانی شکل کے بھیڑیوں کی سفاکیت سے بھری ہوئی یہ بستیاں رحم کے قابل نہیں اور انھیں آگ لگا دینی چاہیے۔

جس انسانی بستی میں انسانیت باقی نہیں اس بستی کو تیزاب میں جھونک دیا جانا چاہیے یا آگ لگا دینی چاہیے۔ بھیڑیے اخلاقیات، تمیز اور تہذیب کے تمام تر معیارات سے ماورا ہوا کرتے ہیں اور ان کی سفاکیت کے خاتمے کا واحد حل ان کا خاتمہ ہے۔ ہمارے معاشرے جہاں ہر پہلا شخص اپنے موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے ایک سفاک بھیڑیا ہے اور اس کام میں نہ صرف فخر محسوس کرتا ہے بلکہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ جہاں کرپشن نہ کرنا بے وقوفی ہے، فرائض کی ادائیگی بے چارگی ہے، حقوق کا تحفظ جہالت ہے اور انسانی حرمت کی پاسداری کم فہمی ہے وہاں واعظ، مذہب، اخلاقیات کے درس اور قانون کے ادنیٰ کاغذ کچھ کارگر نہی ہوا کرتے۔

آپ اپنے ماضی کے آئینے میں اپنے چہرہ دیکھیے اور جانیے کے آپ بھی سفاک بھیڑیے ہو سکتے ہیں۔ یہاں کوئی شخص معصوم نہیں بس موقع کی تلاش میں ہے اور موقع ملے تو سفاک بھیڑیا۔ ایسے انسانی شکل نما سفاک بھیڑیوں کے معاشرے جہاں انسانی حرمت کچھ معنے نہیں رکھتی اور انسان کی شناخت سفاکیت ہو، جہاں جان، مال، آبرو کا تحفظ ایک معمہ بن چکا ہو ایسے معاشرے بھیڑیوں کے معاشروں سے بھی ابتر ہیں اور اپنے موجود رہنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ ایسے معاشروں کی درستی کا واحد حل وہاں موجود ہر ہر بھیڑیے کا عبرت ناک انجام ہے۔ خدا را خود کو اپنی نسلوں کو بھیڑیے ہونے سے بچائے اور اس معاشرے سے کوچ کر جائیے۔

Facebook Comments HS