COP 28
موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن ممالک کی، 23 نومبر سے 12 دسمبر تک، دبئی میں ہونے والی کوپ اٹھائیس نامی یو این عالمی کلائمیٹ کانفرنس کا بالآخر اختتامی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، تقریباً ایک سو سے زائد ممالک کے، فوسل ایندھن کے استعمال کے مکمل خاتمے یعنی ”فیز آؤٹ“ مطالبے کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور کانفرنس کو ایک دن مزید جاری رکھنا پڑا۔
حتمی اعلان کے مطابق پہلی دفعہ فوسل ایندھن کے استعمال کے خاتمے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اگرچہ فوسل توانائیوں یعنی تیل، کوئلے اور گیس کے استعمال کے مکمل خاتمے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
1992 سے شروع ہونے والی، گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لئے یہ کوپ، کانفرنس آف پارٹیز، کی اٹھائیسویں کانفرنس تھی۔ دو سو ممالک سے ستر ہزار شرکاء کے علاوہ ان گنت ماحولیاتی اور ترقیاتی نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز نے اس میں حصہ لیا۔ صرف جرمن ڈیلیگیشن دو سو افراد پر مشتمل تھا۔
کانفرنس کے صدر، یو اے ای کے حکمران، سلطان احمد الجابر نے حتمی اعلان، جس میں فوسل ایندھن کے استعمال سے کنارہ کشی کی جائے گی، پڑھ کر سنایا۔ لیکن اس اعلامیے میں فوسل ایندھن کے استعمال کے فورا خاتمے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی کلائی میٹ رپورٹ کے مطابق، مستقبل قریب میں گلوبل وارمنگ کو دو درجے سے نیچے اور زیادہ سے زیادہ 1,5 درجے تک رکھنا ضروری ہے۔ فوسل ایندھن کے استعمال کی بندشوں کے بغیر، گلوبل وارمنگ 2,9 درجے تک پہنچ سکتی ہے۔
سلطان احمد الجابر نے گلوبل وارمنگ کے 1,5 درجے تک کی مقصدیت کو ممکنہ بنانے کے لئے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ اس مضبوط ایکشن پلان میں اجتماعی مفادات، انفرادی مفادات پر حاوی ہوئے ہیں۔
حتمی اعلان 21 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں تمام ممالک کو 2030 تک، اپنی انرجی پالیسیوں میں، فوسل ایندھن کے استعمال سے اجتناب، قابل تجدید صلاحیتیوں کو تین گنا جبکہ توانائی کی کارکردگیوں کو دگنا کرنے پر پابند کیا گیا ہے ۔
اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری، انتونیو گٹرس نے کانفرنس کے اختتام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی 1,5 درجہ محدودیت کے لئے فوسل ایندھن کے استعمال کا خاتمہ ضروری ہے۔ فوسل ایندھن کا دورانیہ ختم ہونا چاہیے اور اس کو بھی انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے کلائمیٹ چیف مسٹر سائمن سٹیل نے اس فیصلے کو صرف ایک درست سمت قرار دیا کیونکہ اس پر اعلامیہ کی تحریر کے لئے، ایک ایک لفظ، کومہ اور فل اسٹاپ پر، دو ہفتوں کی بحث و مباحثہ کی محنت شامل ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تاکہ سبھی ممالک اس حتمی اعلامیے کے مسودہ پر متفق ہو سکیں۔
جرمن وزیر خارجہ، مسز انالینا بئیر بوک اور جرمن وفد کے اراکین نے حتمی اعلامیے کی توثیق کرتے ہوئے فوسل ایندھن کے ممکنہ ”فیز آؤٹ“ کی شروعات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یورپین یونین کے آب و ہوا کمشنر، مسٹر وپکے ہکاسڑرا نے بھی اعلامیے کے ٹیکسٹ کو مانتے ہوئے لیکن ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیس سالوں میں پہلی دفعہ فوسل ایندھن کے استعمال کی بندشوں کی شروعات ہونے جا رہی ہے۔
فرانس کی توانائی کی منتقلی کی وزیر مسز اگنیز پائینر روناچر نے اس کانفرنس کے کثیر الجہتی مذاکرات اور کلائمیٹ ڈپلومیسی کو سراہا۔
یو ایس اے کے کلائمیٹ نمائندہ خصوصی، سابقہ صدارتی امیدوار جان کیری نے بھی اس فیصلے کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریر میں لیکن فوسل ایندھن کے متعلق واضح الفاظ کی کمی ہے۔


