اردو زبان کا احیا


کسی بھی زبان کا براہ راست تعلق جذبات اور احساسات سے ہوتا ہے۔ زبان کسی بھی معاشرے میں تہذیب اور معاشرت کی مضبوط اساس ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کی قومی زبان اس کی پہچان ہوتی ہے اور اس کی ترقی کے لئے ناگزیر بھی۔ ہر ملک کی قومی زبان اس ملک کے معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنا نظام تعلیم اپنی قومی و علاقائی زبانوں میں ترتیب دیا جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اردو پاکستان کی قومی زبان ہے جس کا شمار جنوبی ایشیاء کی اہم قومی زبانوں میں ہوتا ہے۔ اردو صدیوں سے برصغیر کے لوگوں کی مشترکہ تہذیب کا خوب صورت مظہر اور معتبر ترجمان ہے۔ اردو کو برصغیر میں آباد مختلف قوموں کے مابین رابطہ زبان کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مختلف حصوں اتر پردیش، بہار، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی کثرت سے بولی جاتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے متصل ملکوں مثلاً افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔

آزادی سے قبل اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے اردو ہندی تنازعات سیاسی اہمیت اختیار کر گئے۔ اردو کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی اہمیت سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کے بعد یہ ہمارے مجموعی معاشرتی اقدار کا حصہ بن گئی۔ مذہبی گفتگو، باہمی رواداری، علم سے محبت، انسانوں سے دوستی، باہمی احترام، حب الوطنی، شرافت اور نفاست، بھائی چارہ، ایک دوسرے کا لحاظ، ادب و احترام اور شائستگی و شگفتگی جیسی قدریں اردو زبان کی زینت بن گئیں۔

یہ پاکستان کی قومی اور علاقائی رابطے کی زبان کا درجہ رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود تعلیمی نظام اور انتظامی امور میں نافذ نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں، انتظامی دفاتر اور عوامی ذرائع ابلاغ میں اس کا عام استعمال ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کی ترقی اور احیا کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے۔ موجودہ دور میں اردو ایک رابطے کی زبان کی حد تک رہ گئی ہے۔

اس میں تحقیق کا پہلو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ گو کہ ہندوستان میں مختلف تنظیمیں اردو کے احیا میں مصروف عمل ہیں تاہم اس کے لئے جدید بنیادوں پر تحقیق ناگزیر اور اس میں بہتری کا مسلسل عمل ضروری ہے۔ دنیا میں رائج اور ترقی کرتی ہوئی مختلف زبانوں میں انگلش سر فہرست ہے جس میں بہتری اور تخلیق کا عمل مستقل بنیادوں پر قائم ہے۔ گلوبل لینگویج مانیٹر کے مطابق، انگلش میں ہر سال تقریباً 5,400 نئے الفاظ تخلیق ہوتے اور 1,000 یا اس سے کچھ زیادہ بڑے پیمانے پر شائع کیے جاتے ہیں۔

یہ الفاظ کیسے ایجاد ہوتے ہیں، کن اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور کون ایجاد کرتا ہے؟ اس کے لئے کوئی واضح اصول و ضوابط متعین نہیں ہیں تاہم نئے الفاظ کا تعارف یا استعمال یا موجودہ الفاظ کو نئی جہت دینے کا علم نیولوجزم کہلاتا ہے اور اس علم کا ماہر کونیولوجسٹ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح لنگیوسٹک یا لسانیات کسی بھی زبان کا سائنسی مطالعہ ہے اور ماہر لسانیات وہ سائنسدان ہیں جو زبان کی نوعیت اور اس بارے میں سوالات پر سائنسی طریقہ کار کا اطلاق کرتے ہیں۔

لسانیات جدید دور کا سائنسی مطالعہ ہے جو زبان کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتا ہے۔ لسانیات میں پریگمیٹکس اس بات کا مطالعہ ہے کہ مضمون کے سیاق و سباق کو معنی اور مفہوم میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لسانیات کا یہ شعبہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ سماجی رابطوں میں انسانی زبان کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، نیز ترجمان اور ترجمان کے درمیان تعلق کس بنیاد پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیمنٹکس ایسا شعبہ ہے جو تحقیق، حوالہ، معنی، مفہوم یا حقیقت کا مطالعہ ہے۔

اس اصطلاح کو فلسفہ، لسانیات اور کمپیوٹر سائنس سمیت کئی الگ الگ مضامین کے ذیلی شعبوں میں حوالہ یا ریفرنس دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اردو زبان کی ترویج اور احیا کو سائنسی بنیادوں پر کیوں استوار نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے یہ ترقی کرتی ہوئی زبانوں کے مقابلے میں تنزلی کا شکار ہے۔ میری رائے میں لسانیات کے درج بالا شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا دور حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے تاکہ اردو کو بطور زبان ترقی اور احیا کے راستے پر ڈالا جا سکے۔ اس کی ترقی و احیا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کا نفاذ اور استعمال ہی آنے والی نسلوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور دور حاضر کے ابھرتے ہوئے مضامین میں تحقیقی مطالعہ کو فروغ ملے گا اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

Facebook Comments HS