بڑودا کے گائیکواڈ حکمران مہاراجہ کھنڈراؤ، سیاسی رہنما بی آر امبیدکر اور کولمبیا یونیورسٹی


1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

رات نو بجے کے قریب ہماری ٹرین بروڈ ترا ریلوے سٹیشن پر پہنچی۔ سب لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے لیکن میں اس شہر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پلیٹ فارم پر اترا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں ایک خاص وضع قطع والے بہت سے لوگ موجود تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ کسی مندر میں پوجا کر کے آئے ہیں۔ مجھے ایک دلچسپ منظر اب بھی یاد ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک بیس بائیس سال کا نوجوان ایک دکاندار سے بحث کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک بڑی عمر کے صاحب بھی آ گئے جو اس نوجوان کے ساتھی تھے اور وہ بھی بحث میں شریک ہو گئے۔ جب بات آگے بڑھنے لگی تو بڑی عمر کے صاحب نے دکان دار سے کہا کہ دیکھو ہم فلاں مندر میں بھگوان کے درشن کر کے آئے ہیں اسی لیے ہم آپ سے غلط بیانی نہیں کر رہے اور نہ ہی آپ سے کوئی جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ اتنا سن کر دکان دار نے معذرت کی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ہمارے ہاں کوئی کہے کہ میں حج کر کے آیا ہوں اور غلط بات نہیں کروں گا۔ کوئی بھی ہو ہندو یا مسلمان مذہب ہم سب کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بروڈ ترا ریلوے سٹیشن گجرات کا مرکزی سٹیشن ہے۔ ٹرینوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ ہندوستان کا نواں مصروف ترین ریلوے سٹیشن ہے۔ یہ سٹیشن 1861 ء میں بنایا گیا جس کی تعمیر کا سہرا اس وقت کے گائیکواڈ حکمران مہاراجہ کھنڈراؤ کے سر ہے۔ اب تک میں نے جو بھی سٹیشن دیکھے ہیں ان میں یہ واحد سٹیشن ہے جس سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اسے مقامی راجہ نے بنوایا تھا۔ ہم آئندہ صفحات میں مزید جان سکیں گے کہ کس طرح راؤ خاندان نے علاقے کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے کام لیے۔

انیرودھ سیٹھی نے اپنی کتاب Royal Family of Baroda: Gaekwad ’sمیں لکھا ہے (باب اول) کہ دوسری صدی عیسوی میں یہاں کے راجپوت راجہ چندن کے نام پر اس شہر کا نام چندن وتی بھی تھا۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بارہویں صدی میں یہ شہر تجارت کا مرکز تھا۔ ان کی لکھی ہوئی تحریر کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

بروڈ ترا جسے پہلے بڑودا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، ریاست گجرات کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بروڈ ترا ضلع کا انتظامی صدر مقام بھی ہے، یہ ریاست گاندھی نگر سے 141 کلومیٹر دور دریائے وشامیتری کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر میں بوہڑ (برگد) کا درخت کثیر تعداد میں پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس شہر کا نام بروڈ ترا ہے۔ اس شہر کو بھارت کا آرٹ کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں واقع لکشمی محل اپنی مثال آپ ہے۔

پیلاجی راؤگائیکواڈ ایک مراٹھا جنرل تھا جسے مراٹھا سلطنت کے گائیکواڈ خاندان کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ خاندان بعد میں بڑودا کا مہاراجہ بن گیا۔ پیلاجی راؤ کا ایک بھائی جو مغل فوج میں جرنیل تھا اور وہ اس علاقے میں مغلوں کا نامزد گورنر بھی تھا وہ ایک جنگ میں مارا گیا۔ بعد ازاں اس کے بیٹے نے دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا اور پیشوا بالاجی راؤ کے ساتھ ایک زبردست جنگ لڑی جس میں اسے شکست ہوئی۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جنگ جیتنے کے باوجود پیشوا نے اسے گجرات میں مراٹھا ریاست کا چیف مقرر کیا۔ اس خاندان نے بڑودا پر اٹھارہویں صدی کے اوائل سے 1947 ء تک حکومت کی۔ انھیں بڑودا کے مہاراجہ گائیکواڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس ریاست نے انگریزوں کے ساتھ الحاق کر لیا اور یوں یہ ریاست انگریزوں کی ایک طفیلی ریاست بن گئی۔ برطانوی دور حکومت میں اس ریاست کا انتظام بڑودا ریذیڈنسی کے پاس تھا۔

ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہ ریاست ہندوستان کی سب سے بڑی اور دولت مند ریاستوں میں سے ایک تھی۔ اس علاقے میں کپاس کے ساتھ ساتھ چاول، گندم اور گنا بھی بڑی مقدار میں پیدا ہوتا تھا۔ اس علاقے کے راؤ خاندان کے حکمرانوں نے کئی مراٹھا سرداروں کے ساتھ مل کر پہلی اینگلو مراٹھا جنگ میں انگریزوں کا مقابلہ کیا، آخر کار اس ریاست کے راجہ نے انگریزوں سے ایک معاہدہ کیا اور اپنی ریاست بچانے میں کامیاب ہوئے۔

ایک اور بات کا ذکر بھی ہمیں کتابوں میں ملتا ہے جس کے اثرات آج تک اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ وہ مہاراجہ سیاجی راؤ سوئم کے دور میں بڑودا کو جدید بنانے کا کام ہے۔ میرے علم کے مطابق ہندوستان کا یہ واحد راجہ ہے جس نے سب کے لیے لازمی پرائمری تعلیم کا حکم دیا۔ وسیع پیمانے پر لائبریری کا نظام بنایا اور مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی آف بڑودا کی بنیاد رکھی۔ ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے انھوں نے ٹیکسٹائل فیکٹریوں کے قیام کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ اسی وجہ سے آج یہ علاقہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے علاقے کی معاشی ترقی میں بے حد اضافہ ہوا۔

اس ریاست نے بھارت کے ایک مشہور سیاسی و سماجی رہنما بی آر امبیڈکر کو کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی امداد بھی دی تھی۔ بروڈ ترا میں واقع یونیورسٹی کی ابتداء 1881 ء میں بڑودا کالج سے ہوئی اس وقت کے بڑودا ریاست کے راجہ نے اسے قائم کیا تھا۔ اس کی تعمیر میں مقامی طرز تعمیر کو اہمیت دی گئی ہے۔ بڑودا کے پرتاپ سنگھ گائیکواڈ جو بڑودا ریاست کے آخری مہاراجہ تھے نے اپنے دادا، مہاراجہ سیاجی راؤ گائیکواڈ کی خواہش پر 1949 ء میں یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ اس ریاست کے راؤ خاندان کی علم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہندوستان کو آزادی ملنے پر بڑودا کے آخری حکمران مہاراجہ پرتاپ سنہاراؤ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ بعد ازاں اسے بمبئی اسٹیٹ میں ضم کر دیا گیا۔ 1960 ء کی دہائی میں بمبئی اسٹیٹ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ اس طرح گجرات اور مہاراشٹرا کی ریاستوں کا وجود عمل میں آیا اور یہ علاقے گجرات کا حصہ بنا دیے گئے۔ گائیکواڈ کا لفظ عام طور پر مراٹھا لوگوں کی کنیت کے طور پر بولا جاتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں پائے جاتے ہیں۔

انیرودھ سیٹھی نے لکھا ہے کہ سلطان محمود نے 1511 ء میں اس شہر کی چاردیواری بنوائی تھی اور اس شہر کا نام دولت آباد رکھا تھا۔ سلطان محمود شاہ عرف پیگاڈا کے ذکر کے بغیر گجرات کے علاقے کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔

سلطان محمود شاہ پندرہویں صدی کے آخر میں گجرات سلطنت کے سب سے ممتاز سلطان تھے۔ اسے کم عمری میں ہی تخت پر بٹھا دیا گیا۔ اس نے اپنے دور میں پاواگڑھ اور جونا گڑھ کے قلعوں کو کامیابی سے فتح کیا جو کہ ایک بڑا کارنامہ تھا۔ اس نے چمپانیر کو دارالحکومت بنایا۔ ہندو اسے دوارکا میں واقع درکدھیش مندر کی تباہی کا ذمہ دار ہی سمجھتے ہیں۔ ان کی ماں کا نام مغلی بی بی تھا۔ میں نے ان سے متعلق جتنا پڑھا اس سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس علاقے کی سیاست پر سندھ کے لوگوں کا بے حد عمل دخل ہے۔ محمود شاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت ہی خوش خوراک تھا۔

سلطان محمود کے متعلق سلیندرا ناتھ شاہ نے اپنی کتاب A Textbook of Medieval Indian History میں لکھا ہے کہ سلطان محمود کو پرتگالیوں کے خلاف بحری جنگ کی قیادت کرنے کے اعتبار سے بھی جانا جاتا ہے۔ پرتگیزیوں کے ساتھ بحری جنگ سلطان محمود شاہ کے دور کا اہم ترین واقعہ ہے۔ پرتگالی اور واسکوڈے گاما 1498 ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان کی طرف گئے۔ انھوں نے 1505 ء میں وہاں اپنی نوآبادیات قائم کیں۔ ان کے سربراہ کو بھی وائسرائے آف انڈیا ہی کہا جاتا تھا۔ جو بھی آیا وائسرائے یا شہنشاہ بن کر ہی ہندوستان آیا۔

پرتگیزی اپنے مفتوحہ علاقوں کو گجرات تک بڑھانا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک ایسا کرنا ہندوستان اور مغرب کے مابین تجارت کے لیے بہت اہم تھا۔ اس کام کے لیے وہ دیو بندرگاہ کو فتح کرنا چاہتے تھے جو سلطان محمود شاہ کے کنٹرول میں تھی۔ سلطان نے ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے مسلمان سربراہوں کو مدد کے لیے بلایا۔ اس کام کے لیے انھوں نے سلطنت عثمانیہ اور مصر کے سلطان سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔

ایسا ہی سلطان ٹیپو نے بھی کیا تھا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں پرتگیزیوں کے لیے کئی ملکوں سے امداد پہنچ گئی۔ ایک سخت جنگ ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں سلطان محمود شاہ کو شکست ہوئی۔ اور یوں ایک اہم بندرگاہ پر غیر ملکیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس جنگ میں مقامی ہندو اور مسلمان ریاستوں کے والیان نے باہمی اختلافات کو فراموش نہ کیا اور سلطان نے تن تنہا جنگ کی اور شکست سے دو چار ہوا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے مسلمان حکمرانوں کے پاس بھی بحری فوج موجود تھی۔

تحریک آزادی ہند میں یہاں کے ایک قبیلہ جس کا نام کولی تھا نے بغاوت میں حصہ لیا۔ اس کا ذکر گجرات گزٹ میں کیا گیا ہے 1۔ اس کی قیادت مقامی دو بھائیوں ناتھاجی اور یاماجی نے کی تھی۔ جنہیں مارنے کے لیے گائیکواڑ آف بڑودہ نے اپنی گھڑ سوار فوج کو بھیجا تھا۔ گائیکواڈ کے گھڑ سواروں کو گولیوں نے مار دیا اور خود کولیس پہاڑیوں میں چلے گئے۔

پھر وہی ہوا جو ہر راجہ نے کیا۔ گائیکواڑ آف بڑودہ نے انگریزوں کی مدد لے کر اس تحریک کو کچل دیا اوران کولیوں کے گاؤں کو جلا کر راکھ دیا اوربے شمار آازدی کے متوالوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

کولی مر تو گئے لیکن امر ہو گئے۔ اب بھی ان کی بہادری کے قصے عام ہیں اور عام رہیں گے!

گجرات کی تاریخ پڑھنے کے لیے ایک کتاب جو جیمز مکنیب کیمپبل نے 1896 ء میں Title: History of Gujarát Gazetteer of the Bombay Presidency، Volume I، Part I۔ کے نام سے لکھی تھی۔ اب یہ کتاب نیٹ پر موجود ہے بے حد مفید ہے۔ اس کتاب سے مجھے یہ پتہ چلا کہ گجرات پر حملہ شاہجہاں سے بھی پہلے 1535 ء ہمایوں نے کیا تھا۔ اس نے یہاں کے راجہ بہادر کو شکست دے کر اس علاقہ پر قبضہ کیا لیکن یہ قبضہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا۔ بعد میں اکبر نے 1573 ء میں گجرات کے پیشتر علاقے اپنے قبضہ میں لے لیے۔

اس علاقے میں ایک نئے نظریہ نے جنم لیا جس کے مطابق مذہب کی کوئی اہمیت نہیں اور اصل چیز صرف روحانیت ہے۔ اس تحریک کا نام اکرم ویگنان تحریک ہے۔ یہ تحریک 1960 ء کی دہائی میں گجرات سے شروع ہوئی۔ بروڈ ترا شہر میں ان کا ایک مندر بھی موجود ہے جسے وہ غیر مذہبی مندر کہتے ہیں۔ اس تحریک کی بنیاد دادا بھگوان نے رکھی جو بعد میں مہاراشٹرا اور گجرات کے کئی علاقوں تک پھیل گئی۔

میں نے ان کے بارے میں جو پڑھا اسکے مطابق دادا بھگوان 1908 ء میں بروڈ ترا میں پیدا ہوئے اور 1988 ء میں ان کی موت ہوتی ہے۔ انھیں دادا شری بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے ان کی گفتگو سنی ہے۔ بے حد متاثر کرنے والی گفتگو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی کتابیں انفرادی اصلاح کے لیے کافی مفید سمجھی جاتی ہیں۔

بروڈ ترا کے ریلوے سٹیشن سے بہت سے لوگ سوار ہوئے جو سومناتھ کے مندر میں پوجا کر کے آئے تھے۔ میں نے ایک دو لوگوں سے سومناتھ کے مندر کے بارے میں چند معلومات حاصل کرنا چاہیں جس کے لیے وہ تیار ہو گئے۔ پاکستان میں ہم محمود غزنوی کی وجہ سے سومناتھ کے مندر سے واقف ہوئے۔ تاریخ میں غزنوی کو سومناتھ کے مندر میں بتوں کو توڑنے والے بت شکن اور ہیرو کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ اس لیے میں اس مندر کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری یہ خواہش پوری ہونے جا رہی ہے۔

 

Facebook Comments HS