بین المذاہب ہم آہنگی


بین المذاہب ہم آہنگی یعنی دنیا بھر میں موجود تمام مذاہب کا مل جل کر ہم آہنگی کے ساتھ رہنا اور پرامن حالات کے لیے کوششیں کرنا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی ہمارے معاشرے کا انتہائی حساس ترین پہلو ہے جسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس موضوع کی حساسیت کو سمجھنے سے گریز کیا جاتا ہے تبھی اس پر بات کرنا اتنا اہم اور ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہمیں قیام پاکستان کے وقت سے ہی تھی جب مسلمانوں کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اور سلوک روا رکھا گیا تھا لیکن ہمارے دشمنوں نے ہمیں سازش کر کے فرقوں میں تقسیم کر کے آپس میں ہی الجھا دیا جس سے ہم ایک مضبوط قوم تشکیل دینے کی بجائے صوبائی اور لسانی تعصب کا شکار ہو کر اپنے ہی پاکستانی بھائیوں کا خون بہاتے رہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اس پر تشدد بے چینی معاشرے میں قوت برداشت کی علامت ہے۔ یہ اس بڑھتے ہوئے معاشی عدم اطمینان میں مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے درمیان ایک پرامن معاشرے کی بحالی کا راستہ ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان کی ترقی کے لیے جہاں دوسرے عوامل بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں دوسری طرف بین المذاہب ہم آہنگی کا ہونا بھی بہت ضروری عمل ہے۔ مختلف مذہبی جماعتیں جو ایک دوسرے سے منحرف ہیں انہیں ساتھ ملانے کی ضرورت ہے اور گزشتہ چند برسوں میں ہونے والے حالات و واقعات نے مذہبی رہنماؤں کو بھی بین المذاہب ہم آہنگی کی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

مذہبی رہنماؤں کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر عالمی امن کے لیے جدوجہد کی جائے اسی میں پاکستان کی بھی بقا و سلامتی اور خوشحالی ہے کیونکہ پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں اور غیر انسانی حملوں نے معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام عقائد کے حامی لوگ رواداری امن، صبر اور بین المذاہب ہم آہنگی کی حکمت عملی پر غور کریں کیونکہ پاکستان ایک کثیر المذاہب ملک ہونے کے علاوہ ایران انڈیا افغانستان اور چین جیسی بہت ہی اہم اقوام کا ہمسایہ ملک بھی ہے۔

اسلام ویسے بھی امن و آشتی کا مذہب ہے جس میں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے حقوق کا بھی بتایا گیا ہے اور پاکستان میں اقلیتی مذاہب کے لوگوں کو ان کے حقوق دینا ریاست پاکستان کی ذمہ داری بھی ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ ہم تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف اور یکساں سلوک کریں۔ کثیر مسلم مذہبی ریاست کی حیثیت سے پاکستان دوسری مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی طرح غیر اخلاقی رویے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے نہ ہمارا دین اسلام ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے۔

ہمیں بحیثیت قوم پاکستان کی تمام اقلیتوں کی تعلیمات کی آگاہی ہونی چاہیے اور ہمیں فرقہ وارانہ، لسانی فسادات کی روک تھام کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ تعلیمی سیمینار یونیورسٹیوں میڈیا ورکشاپس اور جلسوں کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت زور دینا بھی بہت ضروری ہے۔ مذہبی غلط فہمیوں، اقلیتوں کے لیے غیر منصفانہ انتخابی طریقہ کار، جہاد کی غلط بیانی، جزوی اور متعصبانہ مذہبی گفتگو، غیر مسلموں کی پاکستان سے ہجرت، اقلیتوں کے مقدس مقامات کا عدم تحفظ، غیر منصفانہ سماجی و اقتصادی وسائل کی تقسیم، قومی تعلیمی نصاب میں بنیادی اسلامی ماخذ کا شامل نہ ہونا بھی ایک اہم ترین سوال ہے

اور اس سوال پہ کام کیے جانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان مختلف ثقافتی نسلی اور مذہبی پس منظر کے لوگوں کا گھر ہے اس طرح کے تغیرات مختلف گروہوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتا ہے مذہبی اور لسانی تنازعات ایک دوسرے کے عقائد کے بارے میں غلط فہمیوں سے جنم لیتے ہیں جو بڑھ کر شر انگیزیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے اثرات نوجوانوں میں فرقہ وارانہ تشریحات کے فروغ کا عمل بنتے ہیں جس سے مذہبی تعلیمات مسخ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے لوگوں میں اس تنازعے کو ختم کیا جا سکتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کے عقائد کو اچھے سے جانیں اور ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کریں۔

کیونکہ اسلام بھی ہمیں اسی بات کا جو دیتا ہے قائداعظم نے اسلامی اصولوں کے تحت ہی کہا تھا کہ آپ آزاد ہیں مساجد مندروں اور گرجا گھروں میں جانے کے لیے اور بحیثیت قوم ہمارا فرض بھی بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کریں۔ علماء معاشرے میں مذہبی رواداری اور برداشت کا سبق دے سکتے ہیں ہم مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ساتھ ہی معاشرے میں بے بنیاد پروپیگنڈے اور اس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بین المذہبی ہم آہنگی کانفرنس کا مقصد مذہبی اور ملکی اختلافات کی بنیاد پر جو دہشت گردی کی جا رہی ہے اس کی روک تھام کا عمل ہے کیونکہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہے نہ ہی کوئی مسلک دہشت گردی کو فروغ دینے کی تعلیم دیتا ہے لیکن کچھ شر پسند لوگ ان عوامل کو بہانہ بنا کر اپنے گھناؤنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے نائن الیون والے واقعے کے بعد ہوا تھا مسلمانوں نے اس واقعے کے بعد مذہبی دہشتگردی کی انتہا پسندی کو جھیلا ان سب چیزوں کی روک تھام کے لیے تمام عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہے کیونکہ امریکہ اور مغربی ممالک کی پالیسیاں دہشت گردی کے بارے میں جو رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ حالات کو ٹھیک کرنے کی بجائے مزید خرابی کی طرف لے جا رہے ہیں ہمیں مل کر بھائی چارے اور رواداری کا پرچار کرنا ہے جو اسلام کا سبق ہے اور پرامن کوششوں کے ذریعے ان منفی عناصر کا مقابلہ کرنا ہے جو شر انگیزی کو بڑھاوا دیتے ہیں اور نفرت کا پرچار کرتے ہیں کیونکہ مسلک کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی کوئی ذی شعور تائید نہیں کر سکتا۔

بین المذاہب کانفرنس میں دنیا کی طاقتور اقوام کو بھی اپنی مذہبی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ قوموں کو مذاہب کے نام پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنے کی پالیسی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے اور دنیا ایک ایسی بارودی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے جس کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں کہ دہشت گرد مذہبی کارڈ کا استعمال کر کے لوگوں کو استعمال نہ کر سکیں اور اپنے شدت پسند عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں تبھی جا کر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS