زندگی گزارنے کا سب سے آزمودہ نسخہ
کہانی تو کل کی ہے۔ سنا آج رہی ہوں۔ کیوں سنا رہی ہوں؟ ایسے سوال نہ پوچھا کریں پلیز۔ بس آج سنا رہی ہوں تو آج سنا رہی ہوں۔ اب مجھے اور کام بھی تو کرنے ہوتے ہیں۔ شاید زندگی میں کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم صرف سمندر کو تکیں گے اور روز ایک نئی کہانی سنائیں گے۔ فی الحال۔ ۔ ۔ ہنوز دلی دور است۔ چلیے، اپنی چائے کو کیتلی سے چینی کے کپ میں ڈال لیجیے کہ گھنٹہ کہانی شروع ہوا چاہتا ہے۔ پی تو مگ میں بھی سکتے ہیں لیکن کیریکٹر میں آنے کے لیے نیلے پھولوں والا چینی کا کپ ہی چلے گا۔ اگر آتش دان کے پاس بیٹھ جائیں تو کہانی کا لطف دوبالا ہو سکتا ہے۔
کیا؟ آپ ایسے ہی ٹھیک ہیں؟ چلیے جیسے آپ کی منشا۔ ناٹ مائی پرابلم!
اب آتے ہیں کہانی کی طرف۔ ہماری دادی کہا کرتی تھیں کہ کچھ کہانیاں جگ بیتی ہوتی ہیں اور کچھ ہڈ بیتی۔ یہ ہڈ بیٹی ہے۔ قصہ ہے ہفتے کی ایک دوپہر کا جب ہمارے پاس وقت اور بوریت دونوں کی بہتات تھی۔ نیند بھی پوری تھی اور بھوک بھی نہیں لگ رہی تھی۔ بلاوجہ بے سبب فون میں پرانی تصویریں دیکھنی شروع کر دیں۔ بے تکی بے مقصد تصویریں، ٹرین اسٹیشن کی داہنی طرف جھکا ہوا درخت، اتوار بازار میں اس صبح دکھنے والا کالے گلابوں کا گلدستہ، صبح فٹ پاتھ پر پڑا پلاسٹک کا گلاس جس میں اب بھی ذرا سی سرخ شراب تھی، ہماری سہیلی لیزا کا ننھا سا کتا چیوئی جو ہر وقت سوتا رہتا ہے۔ اچھا سوری۔ سب تصاویر کا احوال سنایا تو آپ بھی اتنے ہی بور ہو جائیں گے جتنے ہم اس وقت تھے۔
اب آتے ہیں اس تصویر کی طرف جو اس کہانی کا مرکزی کردار تھی۔ پچیس مئی 2022 کو لی گئی یہ تصویر ہماری سہیلی انعم نے کھینچی تھی۔ اسی کے گھر کا ٹی وی لاؤنج تھا جدھر ایک طرف کتابوں کی شیلف ہے اور دوسری طرف پڑوس کے گھر کو گھورتی کھڑکی۔ اس شیلف کی بائیں طرف ایک ایک نیلی مخملیں کرسی ہے جس پر نہ بیٹھا جا سکتا ہے نہ بیٹھا جا سکتا ہے۔ البتہ تصویریں ضرور لی جا سکتی ہیں۔ تو بھلا ہم کیوں چوکتے؟
اس تصویر میں ہم اس نیلے صوفے پر یوں براجمان ہیں کہ جیسے بس ابھی دنیا مسخر کرنے کو ہیں۔ آنکھوں میں کاجل اور چمک، چہرے پر فاونڈیشن اور ہنسی۔ گہری رسٹ بنارسی ساڑھی جس کا رنگ نیلے صوفے کی وجہ سے مزید اٹھ رہا تھا، اور شانوں کو چھوتے چاندی کے جھمکے جن کا رنگ کالا پڑ گیا تھا۔
جا سمرن جی لے اپنی زندگی۔
ہر تصویر کی طرح اس تصویر کی بھی ایک کہانی تھی۔ ہماری زندگی کی بہت سی دیگر قیمتی دوستیوں کی طرح اس رشتے کی بنیاد بھی ایک مشترکہ دکھ پر تھی۔ ہماری سب سہیلیوں کی طرح انعم کو بھی ہر تکلیف میں کوئی خوشی کا لمحہ ڈھونڈ لینے کی عادت تھی۔ بھلے زندگی میں جو بھی کہرام برپا ہوتا، یہ جھٹ سے کہتی
’چلو، لال لپ اسٹک لگاتے ہیں۔ ‘
یہ دن بھی ایسا ہی تھا۔ ہم دونوں کے دل کی دنیا اندھیر تھی۔ ہم دونوں کا کاجل پھیل چکا تھا۔ ہم دونوں ملگجے سفید ململ کے کرتے پہنے بوئے تھیں۔ ہم دونوں کھڑکی سے پڑوس کا گھر تک رہی تھیں کہ جیسے وہیں ہمارے دکھ کا مداوا ہو۔ ہم دونوں زندگی کے ڈیڈ اینڈ پر کھڑے تھے کہ آگے بس ایک پلستر اکھڑی دیوار تھی۔ کمرے میں مرنے سے پہلے ہونے والی موت کا سناٹا تھا۔
اس سناٹے کو انعم نے اپنی اپنی سردیوں کی دھوپ جیسی نرم گرم آواز سے چیرا اور بولی،
’چلو اٹھو، ساڑھیاں پہنتے ہیں جیسے ہم ٹی پارٹی پر جا رہے ہوں۔ ‘
فیض صاحب ویرانے کی جس بہار کی امید دلاتے ہیں شاید وہ یہی تھی۔ ہم دونوں ایک دم سے اٹھے۔ انعم کی ساڑھیاں ٹٹولنے لگے۔ ہم نے اپنے لیے گہری رسٹ ساڑھی نکالی اور انعم نے آتشی گلابی۔ زندگی اپنے بس میں نہیں تھی لیکن کپڑوں کی الماری تو اپنی دسترس میں تھی نا۔
اور یوں اس تصویر نے جنم لیا جس کی کہانی آپ پچھلے پانچ منٹ سے پڑھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ناحق اتوار برباد کیا۔ اس سے اچھا تھا آنگن میں گرے سوکھے پتے صاف کر لیتے۔ انسٹاگرام پر دعا اور زینب کے پاپا کی ریل دیکھ لیتے۔ یا کچھ بھی نہ کرتے۔
لیکن پتہ ہے کیا؟ ہمیں یہ کہانی عزیز ہے۔ ہمیں اس تصویر سے بھی بڑا پیار ہے کہ یہ آج بھی دل میں امید جگاتی ہے۔ خوشی صرف بھلے وقت کا اعجاز نہیں ہوتی۔ محبت کی طرح خوشی بھی اسم نہیں، فعل ہے۔ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس پر آپ تب بھی قائم رہتے ہیں جب زندگی ہر طرف سے تھپیڑے مار رہی ہو۔ کبھی یہ ایک کینسر کے مریض کی آنکھوں میں ہوتی ہے جب اس کے سر پر کیمو کے بعد ہلکے سے بال آنا شروع ہوں۔ کبھی یہ ایک طویل تھکا دینے والی فلائٹ پر کھڑکی سے نظر آنے والے طلوع سحر کے منظر میں ہوتی ہے۔ کبھی یہ گھاس پر لیٹ کر درختوں کو تکنے میں ہوتی ہے۔ کبھی یہ شب غم گزارنے کے بعد صبح کی کافی کی مہک میں ہوتی ہے۔ کبھی یہ لیزا کے کتے چیوئی کی بڑی بڑی آنکھوں میں سارے دن کی نکلی رات کو گھر پہنچی لیزا کو دیکھ کر ہوتی ہے۔
ہم سب بس سروائیول کی جنگ میں کسی کولہو کے بیل کی طرح جتے ہوئے ہیں۔ مکمل مس فٹ۔ ہمیں یوں تو بچپن سے ہی حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا درس دیا جاتا ہے لیکن رات کے اندھیرے میں جگنو کی طرح ٹمٹمانا نہیں سکھایا جاتا۔ زندگی کے کٹھن لمحات میں چھپی مبہم سی کرنوں کو کھوجنا نہیں سکھایا جاتا۔
ہم سے پوچھیں تو زندگی گزارنے کا سب سے آزمودہ نسخہ یہی ہے۔ خیالوں میں جیسی چاہیں کہانی بنا لیجیے۔ اور اگر دل نا امید ہو تو انعم کی گہری رسٹ ساڑھی پہن لیجیے۔ نیلے صوفے پر بیٹھ کو پوز کیجئے اور ڈیڑھ سال بعد اس کی کہانی لکھیے۔
لیکن سچ، آپ کے پاس تو انعم جیسی سہیلی بھی نہیں ہے۔ جائیے اسے کھوجیے۔ نہ ملے تو اپنی انعم اپنے اندر ہی پیدا کر لیجیے۔ جو باہر نہ ملے وہ بھیتر چھپا ہوتا ہے۔
جا سمرن جی لے اپنی زندگی۔ نسخہ تو مل ہی گیا ہے۔



Comments are closed.