گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ
سیوک: کیا ہوا۔
بالک: کچھ نہیں
سیوک: (مسکراتے ہوئے ) لیکن پریشان تو دکھ رہے ہو، بتاؤ کیا بیتی، کیا پتا تمہارے مسئلے کا کوئی حل مل جائے
بالک: کیا مسئلے باتوں سے حل ہو جاتے ہیں
سیوک: نہیں بالک، باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے لیکن بات کرنے سے من کا بوجھ ضرور ہلکا ہو جاتا ہے اور انہی باتوں کے دوران مسئلے کا حل بھی رب دل میں ڈال دیتا ہے
بالک: کیا حل خود سے نہیں ڈھونڈا جا سکتا
سیوک: خود کا اختیار تو بس ایک پاؤں اٹھانے تک ہے۔ جب دوسرا پاؤں اٹھانے کا اختیار ہی نہیں تو مسائل کا حل کیسے اکیلے کھوج سکتے ہیں۔ بھیتر کیا جنگ چل رہی ہے؟ کچھ اپنے من کی بتاؤ
بالک: کیا بتاؤں، بات بڑی ہے، کہنے کو لفظ نہیں ملتے
سیوک: بات میں سے درد نکال دو، الفاظ مل جائیں گے
بالک: درد کیوں ہوتا ہے؟
سیوک: درد تو زندگی کی علامت ہے۔ بے جان کو کیسا درد
بالک: درد بھی تو بے جان کر دیتا ہے
سیوک: درد کو جان لو، بے جان نہیں رہو گے
بالک: کیسے جانوں
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے
بالک: یہ تو سر کے اوپر سے گزر گئی
سیوک: سر (قد) اونچا کرو، باتیں بدھی میں خود ہی آ جائیں گی
بالک: (پنجوں کے بل کھڑا ہوتے ہوئے ) کتنا اونچا
سیوک: کیا اپنے سائے سے باہر نکل نکل سکتے ہو
بالک: سایہ تو میرے پیچھے چلتا ہے
سیوک: نہیں، وہ روشنی کا سامنا نہیں کرتا۔ جس دن وہ منور ہو گیا تم اپنے سائے سے نکل جاؤ گے
بالک: سایہ کیسے منور ہو گا
سیوک: جب خود کو چار اطراف کی روشنی میں پاؤ گے
بالک: وہ کہاں ملے گی
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے
بالک: لیکن میری جستجو کچھ اور ہے
سیوک: سبھی راہیں اسی ایک منزل کو جاتی ہیں
بالک: منزل کب تک مل جائے گی
سیوک: راہ پہ چلتے جاؤ، ایک سے ایک مقام طے کرو، جس مقام پہ تھک کے رک گئے، وہی مقام تمہاری منزل بن جائے گا
بالک: راہ کی تلاش کیسے ہو گی
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے
بالک: میں بھی تو جاننا چاہتا ہوں
سیوک: کیا جاننا چاہتے ہو
بالک: اس کائنات کے بیان کو، حقیقت کے گیان کو
سیوک: (مسکراتے ہوئے ) جان جاؤ گے
بالک: کوئی آسان طریقہ ہے
سیوک: ہے۔ خود کو جان جاؤ، اسی میں سب راز پنہاں ہیں
بالک: خود کو کیسے جانوں لیکن
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے
بالک: سنجوگ، روگ سے کیسے نکلوں کہ دھیان لگاؤں، کچھ گیان پاؤں
سیوک: نکالنا ہے تو سنجوگ سے جوگ، روگ، لوبھ، رعب اور سوگ نکال دو، ان سے آزاد ہو جاؤ، پاؤ تو بے پر کے پرواز کی طاقت کو پاؤ
بالک: بے پر کی طاقت کون سکھائے
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے
بالک: سب کچھ میں ہی کروں، کوئی مجھے دان کیوں نہیں کر دیتا
سیوک: فکر کرنے والے کو ڈھونڈ لو، کیا پتا وہ نیا پار لگا دے
سیوک: (بالک کو فکرمند دیکھتے ہوئے ) کسی صاحب کمال کی نظر میں رہنا ہی کامیابی ہے، نظر نہ لگاؤ، نظر میں آؤ
بالک: صاحب نظر کو کہاں تلاش کروں
سیوک: کھوجو۔ جیسے گمشدہ چیز کی کھوج لگاتے ہو۔ گھات لگاؤ، کھوج لگاؤ، من کی مراد پا لو گے


