کیا نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بن پائیں گے؟


سیاسی حلقوں میں ملین ڈالر مالیت کا سوال ہے۔ کیا کیا نواز شریف مقدر کا سکندر ہے۔ چوتھی بار ہما ان کے سر پر بیٹھے گا؟ اگرچہ کسی سیاسی تجزیہ کار کے پاس کوئی مصدقہ خبر نہیں لیکن قرائن یہ بتاتے ہیں کہ نواز شریف ہی چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے۔ ان کی جلاوطنی ختم ہونے کے دو ماہ کے اندر ہی ان کے پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کی راہ میں رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں جس تیزی سے انہیں 6، 7 سال عدالتی جبر کا نشانہ بنایا گیا اسی تیز رفتاری ان کے خلاف تمام مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں۔

سالوں کچہریوں میں رلنے کے بعد دنوں میں مقدمات میں بری ہو گئے ہیں۔ نواز شریف نے عدالتوں میں جتنی پیشیاں بھگتیں شاید ہی کسی اور سیاست دان کو اتنی ہزیمت اٹھانا پڑی ہو ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت پر کل تک ان کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھانے والوں نے نہ صرف نواز شریف کی بریت پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ انہیں لاڈلا ہونے کا طعنہ دے کر اپنے خبث باطن کا اظہار کر رہے ہیں۔ طعنہ دینے والے نیب سے کوئی ثبوت نہ ہونے پر مقدمات بنانے بارے سوال کرنے کی بجائے بریت حاصل کرنے والے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب نے پبلک پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا ہے کہ ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود نواز شریف کے خلاف ریفرنس تیار کیا گیا جب کہ العزیزیہ ریفرنس بھی سپریم کورٹ کے حکم پر دائر کیا گیا اسی طرح نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے کر اس مقدمہ کو اپنے منطقی انجام کو پہنچا دیا ہے۔ العزیزیہ ریفرنس میں بریت کے بعد نواز شریف کو مسٹر کلین کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا ہے۔ نیب کے مفروضوں پر مبنی مقدمات کے خاتمہ کے بعد نواز شریف کے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔

رہی سہی کسر سپریم کورٹ میں نکل جائے گی۔ جہاں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا رکن بننے کی نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کے لئے لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ اس کیس کا فیصلہ دنوں کی بات ہے۔ بہر حال نواز شریف اب پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل بن گئے ہیں۔ سوال یہ ہے جن قوتوں نے 7 سال قبل نواز شریف کو خود سری پر نشان عبرت بنانے کی سوجھی تھی۔ ان سے کون پوچھے گا کہ ترقی کی منزل کی طرف رواں دواں ملک کو پٹڑی سے کیوں اتارا؟

ان کے اس فعل سے نواز شریف کو لوگوں کے دلوں نکا لا جا سکا اور نہ ہی عمران پراجیکٹ کامیابی ہمکنا ہوا اس پر طرفہ تماشا یہ کہ جن طاقتور لوگوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے روبوٹ تیار کیا تھا۔ وہ خود اپنے خالقوں پر چڑھ دوڑا۔ 9 مئی 2023 ء کا سانحہ ہماری سیاسی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ قومی سلامتی کے ادارے حرکت میں نہ آتے تو پاکستان میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جاتی اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں عمران خان نے خود جیل کا راستہ اختیار کیا ہے جب کہ نواز شریف نے اپنی واپسی کے بعد انتقام کی سیاست کی بجائے مفاہمت کا راستہ اپنایا ہے اگرچہ حالات کے جبر اور تکالیف نے انہیں اپنے غصے پر قابو پانا سکھا دیا ہے لیکن جب انہیں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کی تکلیف یاد آتی ہے تو برملا اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

میں انتقام پر یقین نہیں رکھتا لیکن ان سے حساب کتاب تو بنتا ہے جنہوں نے ان کی زندگی کا بیشتر وقت جیلوں اور جلاوطنی کی زندگی مجبور کرنے کر دیا نواز شریف کو پہلی بار پرویز مشرف نے جیل میں ڈالا پھر ملکی سیاست نکال باہر کرنے کے لئے نواز شریف کو 10 سال تک جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا نواز شریف ایک سخت جان سیاست دان ثابت ہوئے انہوں نے پرویز مشرف کے لگائے زخموں کو بھلایا نہیں جب انہیں تیسری بار اقتدار ملا تو انہوں نے پرویز مشرف کو نشان عبرت بنانے کی کوشش کی تو ان کی راہ میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ حائل ہو گئی پرویز مشرف 11 سال دوبئی میں جلا وطنی کی زندگی بسر کی لیکن ان کی میت ہی پاکستان واپس آئی 2014 ء کو نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش تیار کی گئی لیکن پارلیمنٹ سازش کے خلاف کھڑی ہو گئی فوری طور نواز شریف کا اقتدار تو بچ گیا لیکن نام نہاد پانامہ کیس نواز شریف کو رگڑا دینے کے لئے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان گٹھ جوڑ ہو گیا جنرل راحیل ایکسٹینشن چاہتے تھے۔

اگر نواز شریف ان کو ایکسٹینشن دے دیتے تو ان کی نا اہلی ہوتی او نہ ہی ان کو جیل جانا پڑتا نواز شریف کے خلاف جو کام جنرل راحیل ادھورا چھوڑ گئے تھے۔ اسے جنرل باجوہ نے مکمل کروایا نواز شریف کو ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں مجموعی طور 18 سال قید، کروڑوں ڈالر جرمانے کی سزا دلوائی گئی اشتہاری مجرم قرار دیے جانے پر جائیدادیں ضبط کی گئیں پچھلے سات سال کے دوران نواز شریف کی جس قدر کردار کشی گئی شاید ہی پاکستان میں کسی سیاست دان کو اس قدر ہزیمت اٹھانا پڑی ہو پی ٹی آئی کے سول میڈیا سیل نے نواز شریف کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے کے لئے کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کیے اسے مکافات عمل کہیے کل تک جو لوگ نواز شریف کو بدنام کرنے کی مہم میں پیش پیش تھے۔ وہ آج خود ان ہی الزامات میں جیلوں میں پڑے ہیں بلکہ ان کے خلاف اس سے زیادہ سنگین جرائم میں مقدمات فوجی عدالتوں میں چلنے والے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے۔ 2018 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کو پی ٹی آئی کے مقابلے میں لیول پلیئنگ فیلڈ میسر نہیں تھی بلکہ پورا جنوبی پنجاب، پنجاب کے بالائی علاقے اور کراچی پی ٹی آئی کو دیا گیا اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ آرٹی ایس ہی بیٹھ گیا سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے۔ سیاست دان کے ہاتھ میں رحم کی لکیر نہیں ہوا کرتی لہذا سیاست میں کوئی شخص دوسرے پر رحم نہیں کرتا نواز شریف کو ملکی سیاست میں 40 سال ہونے کو ہیں۔

وہ اس خطے میں سینئر ترین سیاست دان انہوں نے بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ سیاست دان ٹھوکریں کھا کر سنبھلتا ہے۔ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے کے لئے زیادہ وقت نہیں لگا عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے حصول میں 25، 26 سال لگے لیکن اس سے ہاتھ دھونے میں میں چند گھنٹے ہی لگے ہیں۔ لہذا سیاست دانوں کو اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

حکومتیں گرانے کے لئے کسی طاقت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے جب عمران خان کی حکومت میں نواز شریف علاج معالجہ کے لئے لندن میں جا کر بیٹھ گئے ان کی واپسی کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے پھر اللہ تعالی نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی صورت حال پیدا کر دی 16 ماہ تک 2 ووٹ کی اکثریت سے شہباز شریف کی حکومت قائم رہی عمران خان نے اپنی حکمت عملی کے تحت مزید 5 سال اقتدار کا منصوبہ بنا رکھا تھا لیکن اللہ تعالی کو کچھ اور منظور تھا۔

عمران جیل میں ہے جب کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نواز شریف کے سر پر ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کا تاج سجا دیتا ہے تو انہیں عمران خان کی طرح اپنے سیاسی مخالفین سے نبرد آزما ہونے کی بجائے صلح جوئی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کر نا چاہے انہیں اپنے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہیے جن ساتھیوں کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ آج ان میں سے کتنے ساتھی ان کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ وہ ان ساتھیوں کو واپس جماعت میں لائیں جن کی مشاورت انہیں مشکل صورت حال سے نکالتی رہی ہے۔

 

Facebook Comments HS