ڈیجیٹل ایجوکیشن اور حکومتی ترجیحات
مارچ 2020 میں، دنیا بھر کی طرح وبائی امراض کی وجہ سے اسکول بند ہونے سے پاکستان میں تقریباً 50 ملین بچے اور صوبہ پنجاب میں 12 ملین بچے اسکولوں سے باہر رہ گئے تھے۔ جو وزارت تعلیم اور صوبائی سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی چیلنج تھا کہ ان بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے میں کیسے مدد کی جا سکے، کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام اتنا مضبوط نہیں ہے کہ جس سے بڑی توقعات لگا لیں۔ آن لائن ایجوکیشن اس لیے مشکل تھی کہ سکولوں سے باہر والے بچوں میں سے چند کے پاس آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل آلات تک رسائی ہے مگر اکثر و بیشتر انٹرنیٹ سے بھی محروم تھے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی 36 فیصد ہے۔ اسمارٹ فون کی ملکیت رکھنے والے تقریباً 32 فیصد ہیں، جبکہ کمپیوٹر/لیپ ٹاپ کی ملکیت رکھنے والے تقریباً 27 فیصد ہیں۔ پاکستان اور پنجاب بھر میں ٹی وی کی رسائی کو دیکھتے ہوئے، زیادہ تر طلباء کے لیے تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ٹیلی ویژن کی تعلیم کو ایک مناسب طریقے کے طور پر چنا گیا تھا۔ طلباء کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹی وی پروگرامنگ کو تیزی سے تعینات کرنے کے لیے، ٹیلی اسکول اور تعلیم گھر نے اپنے ٹی وی پروگرام شروع کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقہ اختیار کیا تھا۔
ابتدائی طور پر ، اسے دو ہفتوں کے لیے مخصوص مضامین اور درجات کے لیے شروع کیا گیا تھا (جیسے پنجاب نے اسے ابتدائی طور پر گریڈ 1۔ 8 کے لیے شروع کیا تھا) ۔ ابتدائی لانچ کے بعد ، دونوں نے بعد کے دو ہفتوں کے مراحل میں مزید مواد جاری کیا جبکہ بعد میں شروع ہونے والے مزید پروگرامز کو اندرونی طور پر تیار کرنے کا کام جاری رکھا۔ پاکستان نے کووڈ۔ 19 اسکولوں کی بندش کے دوران ریموٹ لرننگ ٹولز کے طور پر ڈیجیٹل تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس مقصد کے لیے دو تعلیمی ٹیلی ویژن (ٹی وی) چینل متعارف کروائے تھے۔
جسے پاکستان کی وزارت برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت (MoFEPT) نے ٹیلی سکول کے نام سے ایک تعلیمی ٹی وی شروع کیا تھا اور علاقائی سطح پر متعارف کروانے اور اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے ، صوبہ پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SED) کی خدمات لی جنہوں نے مقامی اقدام کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب میں طلباء کی تعلیمی خد مات کا آغاز کیا اور تعلیم گھر جیسے چینل کے ذریعے تعلیم کو ممکن بنایا۔ اپریل 2020 میں، ٹیلی سکول اور تعلیم گھر چینل نے ریموٹ لرننگ کو سپورٹ کرنے کے لیے پورے پاکستان خصوصاً صوبہ پنجاب میں ٹی وی پر اپنے تعلیمی پروگرام نشر کرنا شروع کر دیے تھے۔
دونوں ٹی وی پروگراموں کے اسباق طلباء کی مانگ کے مطابق دستیاب ہیں۔ سال 2023 میں سابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین کو خصوصی ٹاسک دیا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل ایجوکیشن کو متعارف کروایا جائے اور سکول کی سطح پر بچوں کی رہنمائی کی جائے اور اس طرح وفاقی وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے نشریاتی ٹی وی چینلز اور یو ٹیوب چینلز کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشنز کا بھی آغاز کیا جہاں پہلی کلاس سے بارہویں کلاس تک تمام مضامین پر مشتمل ویڈیو مواد موجود ہے جہاں سے نہ صرف طالبعلم بلکہ اساتذہ کرام بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی (ریاستی) حکومتوں نے تعلیم کو عام کرنے کے لیے تعلیمی ٹی وی پروگرامنگ کو ریموٹ لرننگ ٹول کے طور پر متعارف کروا دیا ہے اور ان دونوں اقدامات میں موجودہ تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ وسائل کا بھی فائدہ اٹھایا ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں کہ اسکول بند ہونے کے دوران طلبہ کی تعلیم جاری رہے۔ وفاقی وزارت تعلیم نے نجی تعلیمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا جنہوں نے ہنگامی طور پر ٹی وی پروگرامنگ کے لیے اپنا موجودہ تعلیمی مواد قومی مفاد کی خاطر مفت میں پیش کیا۔
اگرچہ کچھ پہلے سے موجود وسائل کو متحرک کیا جا سکتا تھا، مگر صوبہ پنجاب کے پاس صحت کے بحران سے پہلے مکمل طور پر کام کرنے والا تعلیمی ٹیلی ویژن پروگرام نہیں تھا۔ پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پہلے صوبائی حکومت کی طرف سے اساتذہ کی تربیت کے لیے بنائے گئے تعلیمی مواد کا فائدہ اٹھایا اور اسے طلبہ کے لیے تعلیمی ٹی وی پروگرامنگ کے لیے ڈھال لیا۔ ٹیلی سکول نے گریڈ (کلاس) 1۔ 12 کے لیے پروگرامنگ نشر کی ہے، جبکہ تعلیم گھر نے گریڈ 1۔10 کے لیے پروگرامنگ کی ہے۔ ٹیلی اسکول کا آغاز ریاضی، انگریزی، اردو اور سائنس کے اسباق سے ہوا جبکہ تعلیم گھر نے سائنس پر مبنی مضامین، ریاضی اور جنرل نالج سے آغاز کیا اور مستقبل قریب میں اردو اور انگریزی کو شامل کرنے پر زور دیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ٹیلی ویژن کی رسائی پاکستان بھر کی آبادی کا تقریباً 95 % اور صوبہ پنجاب میں تقریباً 90 % ہے، جو کہ ملک کے کسی بھی دوسرے ذرائع ابلاغ کی پہنچ سے کہیں زیادہ ہے، جو ٹی وی کو ریموٹ تعلیم سیکھنے کے لیے ایک قابل عمل آپشن بناتا ہے۔
ٹیلی سکول اور تعلیم گھر پروگرامنگ دونوں قومی اور صوبائی نصاب کے مطابق ہیں، سکول لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں لاکھوں بچوں کے لیے مساوی طور پر جاری ریموٹ تعلیم سیکھنے میں آسانی پیدا کرتے رہے ہیں۔ تعلیم گھر کی ٹیم ویب سائٹ کے استعمال، موبائل ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈز اور پنجاب میں پروگرام نشر کرنے والے کیبل ٹی وی نیٹ ورکس کی تعداد کو ٹریک کر رہی ہے اور ان کی نگرانی کے لیے ایک آن لائن ڈیش بورڈ قائم کیا ہے۔
پہلے مہینے میں، تعلیم گھر موبائل ایپ کو 72,000 بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا اور پنجاب بھر کے 95 فیصد سے زیادہ کیبل ٹی وی آپریٹرز ( 890 کیبل ٹی وی آپریٹرز میں سے تقریباً 850 ) پر ٹی وی مواد نشر کیا جا رہا تھا۔ تعلیم گھر ویب سائٹ کو لانچ کرنے کے بعد سے اب تک 500,000 سے زیادہ مرتبہ ویب سائٹ پر رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔ اگر پاکستان میں پہلے سے ہی بنیادی سطح کا ، کام کرنے والا اور قابل رسائی تعلیمی نظام موجود ہوتا تو ایسے اقدامات معنی خیز ہوتے، مگر یہاں یہ رواج عام ہے کہ حکومتوں کے اتار چڑھاؤ میں قربانی صرف قوم کو دینی پڑتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت بچوں کی تعلیم و تربیت سے اکتا گئی ہے اور ڈیجیٹل ایجوکیشن کا نظام ٹھپ کر دیا ہے، حکومت کا خیال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، قابل اساتذہ اور اسکولوں سے باہر بچوں کی ایک قابل ذکر آبادی کا فقدان ہے، وہاں اس طرح کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔
اگر طالب علم بنیادی سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو مختلف ایپس اور لیپ ٹاپ کے ذریعے بہت کام کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں سکولوں کی شدید کمی ہے، جن علاقوں میں سکول تعمیر ہو چکے ہیں وہاں کی خستہ حال عمارتیں، پڑھانے کے لیے درکار آلات کی کمی اور اہل اساتذہ کی بھی شدید کمی ہے۔ اساتذہ کی تربیت کے پروگراموں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری آلات اور راستے قائم کیے گئے ہیں کہ کم از کم پرائمری اور سیکنڈری سطح تک تعلیم سب کے لیے قابل رسائی ہو۔
اس کے پیش نظر، ڈیجیٹلائزیشن مہم پر توجہ مرکوز کرنا بیکار لگتا ہے۔ اس کے بجائے اسی فنڈز اور مہم کو تعلیمی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی طرف موڑ دیا جائے۔ درکار انفراسٹرکچر کا قیام عمل میں لایا جائے، ڈیجیٹل ایجوکیشن کی بجائے سکولوں کی لیب میں آلات کی فراہمی کی جائے، اساتذہ کی تربیت، فیسوں میں کمی اور والدین کو اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی ترغیب دینا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔


