پیر پگاڑا اور سیاست


پیر سید شاہ مردان شاہ دوئم عرف پیر پگاڑا، 22 نومبر، 1928 کو پیر جو گوٹھ، سندھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید سکندر شاہ تھا۔

پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی (سورہیہ بادشاہ) کی شہادت کے بعد برطانوی راج نے وقت کے کلیکٹر حیدر آباد محمد بخش کے ذریعے اپنے کسی حامی کو سجادہ نشین بنانے کے لیے سیاسی انجنیئرنگ کی ناکام کوشش کی، کہا جاتا ہے کہ وہ شخص پیر علی محمد راشدی تھے۔ پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان مسلمانوں نے نہیں بلکہ انگریزوں نے پاکستان بنایا۔ میری معلومات (شاہ مردان شاہ دوئم) یہی ہے کہ برطانوی حکومت قرارداد لاہور سے پہلے ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی اور پیر پگاڑا صاحب نے دو قومی نظریہ کے بارے میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ؛ایک قوم ہندو ہے جو گائے کو پوجتے ہیں دوسری قوم مسلمان ہے جو گائے کو کھاتی ہیں تو دونوں قومیں تو الگ ہیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔ پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ کی سیاست ابتداء میں اسٹیبلشمنٹ مخالف تھی۔ پیر پگاڑا صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ فوج کے خلاف کیوں نہیں بولتے؟ پیر پگاڑا صاحب کہنے لگے ”فوج کی کتاب میں تحریر ہے کہ سندھ والے نان مارشل ہیں اور سچ بھی یہ ہے۔”

1965 کے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مخالف اور قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے حامی تھے۔ جب ایوب خان نے فاطمہ جناح کو انتخاب میں دھاندلی کے ذریعے شکست دی تب فاطمہ جناح نے ”مسلم لیگ فنکشنل“ کی بنیاد رکھی اور پیر پگاڑا کو اس کا سربراہ مقرر کیا۔ اس دن سے لے کر اپنی زندگی کے آخری دن تک آپ فنکشنل لیگ کے ساتھ وابستہ رہے۔

کہیں پڑھا ہے کہ بھٹو کو اقتداری سیاست میں اوپر لانے میں پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے بھٹو کو پہلی بار ایوب خان کی حکومت میں وزیر بنوایا، مگر جب بھٹو اقتدار میں آیا تو اس نے ایک بار پھر پیر پگاڑا کو دھمکی آمیز فون کال کر کے کہا تھا کہ وہ اسے اس کے گھر کے سامنے والے درخت پر لٹکائے گا۔ اس فون کال کے بعد بھٹو اور پیر پگاڑا کی کبھی آپس میں نہیں بنی۔ پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ اور بھٹو صاحب کی سیاسی مخالفت کی تاریخ بہت بڑی پرانی ہے۔ ستر کی دہائی کے شروع میں بھٹو صاحب پر سانگھڑ میں قاتلانہ حملہ اور بعد میں بھٹو کے دور میں سات حروں کے شہید کرنے کا واقعہ پیش آیا اور ان میں میرے گاؤں کا ایک بہادر سپوت چیف خلیفہ شہید فقیر امین تھے، جس نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حر فورس کے سپہ سالار کے طور پر اپنا کام سرانجام دیا۔

اور یوں یہ مخالفت پیر پگاڑا شاہ مردان شاہ اور بھٹو صاحب کے درمیان بڑھتی گئی۔ 1970 کے تاریخی انتخابات میں پگاڑا نے مسلم لیگ قیوم کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ پیر پگاڑا صاحب نے مشرقی پاکستان سے جیتنے والے شیخ مجیب کی عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی لیکن جیسے ہی مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا وہ اس سے الگ ہو گئے۔

جنرل ضیا کے دور میں سندھ میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے دوران پیر پگارا نے خود کو اس سے دور رکھا اور 1985 میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو پیر پگارا کے ہی نامزد امیدوار محمد خان جونیجو کو وزارت عظمیٰ ملی۔

پیر پگارا کے سیاسی عروج کا دور 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد شروع ہوا اور وہ حقیقی طور پر کنگ میکر بن گئے۔ ان کی جاذب نظر شخصیت اور کامیاب سیاسی حکمت عملی سے ان کے مرید محمد خان جونیجو وزیر اعظم نامزد ہوئے، اور پیر پگارا کو حکومت سازی اور جوڑ توڑ میں تاریخی حیثیت حاصل ہو گئی۔ 1988 کے عام انتخابات میں پیر پگارا نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید پرویز علی شاہ صاحب سے شکست کھائی اور پھر کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ 2008 میں فنکشنل لیگ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئی مگر 2012 میں کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں علیحدہ بلدیاتی نظام کا مسودہ پیش کیے جانے کے خلاف حکومت سے علیحدہ ہو گئی۔

Facebook Comments HS