فیتھ پویلین اور کاپ 28


متحدہ عرب امارات میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس آف پارٹیز (COP 28 ) دو ہفتے جاری رہنے کے بعد 13 دسمبر کو اپنے اختتام کو پہنچی۔ کانفرنس کا اختتام ایک ایسے عہد پر ہوا جو کہ مستقبل میں ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے جس میں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیز، منصفانہ اور مساوی منتقلی کے ذریعے معدنی ایندھن (Fossil Fuel) یعنی کوئلہ، تیل، گیس وغیرہ پر انحصار ختم کیا جائے گا۔

1995 میں برلن، جرمنی سے شروع ہونے والی COP، اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے تحت ہر سال منعقد ہوتی ہے۔ ہر سال منعقد ہونے والیCOP عالمی ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کے نمائندوں کو اکٹھا کرتی ہے، COP نے پیرس کے تاریخی معاہدے سے لے کر بعد کی کانفرنسوں تک امتیازی اہداف کے تعین اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سال COP 28 میں تمام 199 فریقین کی جانب سے شرکت دیکھی گئی، جس میں 197 ممالک شامل ہوئے اور یورپی یونین کو الگ شمار کیا گیا۔ مزید برآں، متعدد مبصر تنظیمیں، بشمول این جی اوز، کاروباری ادارے، اور مذہبی کمیونٹیز نے بھی کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔ تمام فریقین اس فیصلے پر متفق ہوئے کہ موجودہ دہائی کے اختتام سے پہلے زمینی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2019 کے مقابلے میں 2030 تک 43 فیصد کمی ضروری ہے۔

COP 28 کی خاص بات مختلف پویلینز (Pavilions) کے پلیٹ فارمز پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بحث مباحثہ اور گفت و شنید کے ذریعے متنوع نقطہ نظر اور اقدامات کو ظاہر کرنا تھا۔ دو سو سے زائد پویلینز کو پانچ اہم کیٹگریز (Country، Thematic، Partner، Youth and Faith) میں تقسیم کیا گیا تھا۔

اس سال منعقد ہونے والی COP 28 اس لحاظ سے بھی امتیازی حیثیت رکھتی ہے کہ اس میں اس مرتبہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں گرما گرم بحث مباحثے اور گفت و شنید کے مابین فیتھ پویلین (Faith Pavilion) نے امتیازی اور انوکھی جگہ بنائی ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا قدم ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو کہ ہمارے وقت کے سب سے اہم ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں مذہبی کمیونٹیز کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

عالمی موسمیاتی کانفرنس میں پہلی مرتبہ فیتھ پویلین کی میزبانی مسلم کونسل آف ایلڈرز نے COP 28 پریذیڈنسی، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور عالمی شراکت داروں کے متنوع اتحاد کے تعاون سے کی جس میں 50 سے زائد مذہبی تنظیموں سمیت بین المذاہب مرکز برائے پائیدار ترقی (the International Partnership on Religion and Sustainable

Development) شامل ہیں۔ پوپ فرانسس نے ایک ویڈیو خطاب کے ذریعے فیتھ پویلین کا افتتاح کیا۔

اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں آج بھی دنیا میں زیادہ تر انسانوں کی زندگیاں مذہبی عقائد سے جڑی ہیں۔ زندگی گزارنے کے اصول آج بھی مذہبی عقائد سے وضع کیے جاتے ہیں۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فیتھ پویلین کی اہمیت کانفرنس کی حدود سے وسیع ہے کیونکہ مذہبی کمیونٹیز موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے میں نہ صرف باقی ذمہ دار اداروں کی شراکت دار ہیں بلکہ پائدار مستقبل کی جدوجہد میں تعاون، علم کی شراکت اور پالیسی لیول پر وکالت کرنے جیسی اہم ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہیں۔

فیتھ پویلین کا اولین مقصد انسانی اعمال کے نتیجے میں جنم لینے والے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات بشمول مذہبی، روحانی اور مقامی روایات میں بین الضابطہ تعاون اور کوششوں کو تیز کرنا اور موثر بنانا ہے۔ رہنماؤں، سیاست دانوں، این جی اوز، کاروباری اداروں، خواتین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ تعاون کی اہم ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، فیتھ پویلین ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے مزید موثر، جامع اور منصفانہ کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔

عبادت گاہوں سے لے کر کمیونٹی سینٹرز تک، مذہبی کمیونٹیز ماحولیاتی ذمہ داری کے پیغامات کے ساتھ اپنی وسیع رسائی، مضبوط اقدار اور سماجی نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تمام مذاہب بالخصوص اسلام اور مسیحیت اس عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کیا ہے اور یہ حضرت انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے عطا کردہ قدرتی وسائل کا ذمہ داری سے استعمال کرے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنائے۔ لیکن صنعتی انقلاب کے بعد اقوام نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر معدنی وسائل خاص کر کوئلے، تیل اور گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے نسل انسانی آج گلوبل وارمنگ جیسے گمبھیر مسلے کا شکار ہے۔

مذہبی تعلیمات انسان کے ایسے انفرادی منفی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہیں جو ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں جیسا کہ اشیا کی بلا ضرورت خریداری جو کہ تھوڑے سے استعمال کے بعد کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی جاتی ہیں، سہل پسندی جس کی وجہ سے ہم چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی موٹرسائیکل یا گاڑی کا استعمال کرتے ہیں اور ماحول میں کاربن کے اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ٹھوس فضلے کا مناسب انتظام کرنے کی بجائے اسے آگ لگاتے ہیں یا ندی، نالے یا دریا میں پھینک دیتے ہیں۔ اپنی لالچ کے لیے جنگلات کاٹتے ہیں اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے فصلوں پر سوچے سمجھے بنا خطرناک سپرے کرتے اور زمینوں میں بے دریغ کھاد کا استعمال کرتے ہیں۔ سادہ زندگی کو ترک کر کے پر آسائش زندگی اپناتے ہیں اور دولت کے دکھاوے کے لیے توانائی کا ضیاع کرتے ہیں۔

مذہب ہمیں سادہ اور منصفانہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے اور سادہ زندگی ماحول دوست ہے۔ مذہب دوسرے انسانوں کا استحصال کرنے سے منع کرتا ہے اس لیے وسائل پر قابض ہو کر نادار اور کمزور طبقات کا استحصال کرنا گناہ گردانا جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں معاشروں میں تنازعات اور بدامنی کو فروغ دینے کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ ایسی صورت میں مذہبی تعلیمات امن، یکجہتی اور ہم آہنگی کا درس دیتی ہیں۔ کم ہوتے وسائل اور بڑھتی غربت کے تناظر میں مذہبی کمیونٹیز روحانی مدد فراہم کرتے ہوئے امید اور مساوات کے جذبے کو زندہ رکھتی ہیں اور کمیونیٹیز کو ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، پاکستان اس وقت دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا شکار ملک ہے، جہاں 1999 سے 2018 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباً دس ہزار جانیں ضائع ہوئیں اور 3.8 بلین امریکی ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ کاربن کے نسبتاً کم اخراج کے باوجود، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان متواتر سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔

پاکستان میں مذہبی ادارے اور کمیونٹیز فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں مگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور اداروں کا کردار ابھی مضبوط نہیں ہوا۔ اس کی بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے منفی اثرات سے نبرد آزما ہونے کا نظریہ پاکستان کے لیے ابھی نیا ہے اور مذہبی حلقوں میں اس سلسلے میں ابھی مزید شعور و آگہی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

عقائد اور ایمان سے جڑی روایات ایک قطب نما کے طور پر اخلاقی رہنمائی مہیا کرتی ہیں جو افراد کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے اور خدا کی مخلوق کی دیکھ بھال کرنے پر زور دیتی ہیں۔ مذہبی عقائد لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں، جو انہیں زندگی گزارنے کے ماحول دوست اور پائیدار طریقوں کو اپنانے اور ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں کی وکالت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

مذہبی کمیونٹیز دنیا بھر کے معاشروں میں گہرے طور پر سرایت کرتی ہیں اسی لیے عبادت گاہوں، اسکولوں اور سماجی تنظیموں کے وسیع نیٹ ورکس کے ساتھ یہ رسائی انہیں لاکھوں افراد کو متحرک کرنے اور کمیونٹیز کی سطح پر موسمیاتی بحران سے متعلق آگہی اور شعور دینے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے عقیدے پر مبنی تحریکیں یا کاروائیاں کوئی جادوئی حل پیش نہیں کرتیں تاہم یہ موسمیاتی بحران کے گمبھیر طور پر الجھے ہوئے دھاگوں کا ایک سرا ضرور ہے۔

حکومت پاکستان مذہبی کمیونٹیز، رہنماؤں اور فیتھ بیسڈ آرگنائزیشنز کی منفرد صلاحیتوں اور شراکتوں کو تسلیم کر کے ایک پائیدار مستقبل کی جانب مزید جامع اور موثر تحریک اور منصوبہ تشکیل دے سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عقیدے پر مبنی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں :

موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک مسائل پر بین المذاہب مکالمے اور تعاون کی حمایت کریں اور انہیں فروغ دیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک پروگرامز اور پراجیکٹس پر موثر طور پر کام کرنے کے لیے مذہبی کمیونٹیز کو وسائل اور تربیت فراہم کریں۔

موسمیاتی تبدیلی کے حل کے لیے قومی اور عالمی سطح پر وکالت کرنے والے مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹیز کی آواز کو مضبوط کریں اور وسعت دیں۔

ماحولیاتی تحفظ میں مذہبی کمیونٹیز کے تعاون کو تسلیم کریں اور قومی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

Facebook Comments HS