خاموشی جو میرے اندر ٹھہر گئی


خاموشی ہو فاصلے لامحدود ہوں بے بسی ہو تو پھر۔
تو پھر کیا تنہائی ہے؟
کتنا قبیح سوال ہے ”آپ کو تنہائی محسوس نہیں ہوتی؟“
راقم ناگفتہ حالات سے گزرتے ہوئے زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے کہ ایک طرف کھائی ہے دوسری طرف آگ۔

نا چاہتے ہوئے راہ سے کتنے سنگ اپنی جھولی میں جمع کرلئے اب جھولی پھٹنے والی ہے اور سنگ ہیں کہ درد بن گئے ہیں انہیں جسم سے دور کریں بھی تو کیسے؟

ہر خواہش کو گناہ کا درجہ دے کر گلا گھونٹنا بھی مناسب ہے کیا؟ پھر بھی نہ جانے کتنی خواہشیں جسم کے اندر مری پڑی ہیں۔ فطرت کی طلب اور ہے وقت کی طلب اور وقت نے رشتوں میں ایسا قید کر دیا کہ آزادی پناہ مانگتی ہے۔

ٹھہرو نا اے وقت! یوں مت گزرو ابھی تو اپنے کرم کا پھل لینا ہے جسے صبر نے دور بہت دور کر دیا۔ ابھی وہ زخم بھرنے ہیں جو خاردار راہوں نے تلووں پہ ڈالیں ہیں۔

نیلگوں آسمان پر بادل کے ایک ٹکڑے نے سورج کو ڈھانپ رکھا ہے۔ پر کرنیں منعکش ہیں پھر بھی۔ ہاں ایسا ہی تو ہوا تھا جیون میں میرے۔ میرے ہنسے بستے گھر کو گرہن لگا کروہ یہ سمجھے کہ ڈوب گیا سورج پھر وقت کی چکی میں پستے پستے ہم ایسے ملائم ہو گئے کہ جس دھارا پہ چھوڑ دو اسی سمت بہ جائیں گے۔

اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سوا سال کی بچی جس نے ابھی اپنے باپ کے لمس کو صحیح سے ازبر نہیں کیا اور اسے جدا کر دیا گیا جب اس نے چلنا سیکھا تو لڑکھڑاتے قدموں پر کوئی سنبھالنے والا تھا ہی نہیں اسکول کا پہلا دن تھا الوداع کہنے کو باپ موجود نہیں تھا۔ دن گزرتے رہے بچے بڑے ہوتے گئے اور میں سہاگ کے ہوتے ہوئے بھی بیوہ بن کر رہ گئی۔ اپنے تو نام کے اپنے تھے کب کے سرک لئے ہاں کچھ ایسے لوگ تھے جواب بھی ساتھ نبھاتے ہیں۔

بہت وقت ہو گیا اب چہرے پہ جھریاں آ رہی ہیں جو جو بنپہ تھی جوانی وقت سے پہلے ڈھلنا شروع ہو گئی کیونکہ شوہر کا ساتھ نہیں تھا۔

جی ہاں جہاں معاشی مسائل دو گنا ہو جاتے ہیں وہاں جسمانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا کی چبھتی نظریں جسم کے آرپار ہوجاتی ہے جب دودھ پیتی بچی کو گھر چھوڑ کر سارا سارا دن در در کی خاک چھاننا پڑے تو بچی کی بھوک کپڑوں پر جھلک پڑتی تھی پھر اپنا آپ چھپانا اور ضروری ہوجاتا تھا وہ درد بھی درد کاہی حصہ تھا سہنا تو تھا۔ تھک کر گھر لوٹنا بچوں کا جسم سے چپکنا مامتا کا لمس محسوس کرنے کے لئے کتنا مختصر وقت ملتا تھا ان معصوم بچوں کو ۔

کبھی ایلے میلے پولیس والوں کی چھپتی نگاہیں واہیات سوالات کا بوجھ اپنے جسم پہ لئے کسی ایک وکیل کے پاس تو کبھی دوسرے وکیل کے پاس۔ رال ٹپکاتے وکیلوں سے فراغت ملتی تو کھڑوس قسم کے رینجرز سے واسطہ پڑتا پھر کبھی خدا بنے ججز سے فیصلوں کو سننے کے لئے ایک بھیڑ میں اپنے جسم کو دھکوں سے بچاتی کمرہ عدالت میں کھڑی اپنے خلاف فیصلہ سن کر اپنے جسم کورنگ برنگی ہاتھوں کی ضرب سے بچاتی باہر نکلتی۔

کہاں کہاں گھائل نہیں ہوا یہ جسم!

رات اندھیری تھی پر اسے وقت کی مار نے بہت خوفناک بنا دیا تھا۔ ایسے موقع پر صبر جیسا تین حرفی لفظ اپنے سینے پہ رکھ سو جانا۔ یہ بھی جسم کو ریزہ ریزہ کرنے کو کافی تھا۔

ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا پیاس یاس میں بدل گئی وقت کا پہیا گھومتا رہا بچے اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے لگے۔ اس کے بالوں میں چاندنی جھلکنے لگی۔ مصائب جھیلتے جھیلتے جسم نے بیماریاں پال لی اور وہ بھی اپنے سب دکھ درد بھول گیا۔

وقت نے سکھایا وقت کا سامنا کرنا زمانے کے سارے تیر اپنے جسم میں پیوست کرنا اور پھر ان تیروں کو اپنے وجود سے نکال کر اپنی ترکش میں سمیٹ رکھنا۔ اور جب منزل اپنی بہت دور ہے میں اتنے تیر جمع کرچکی تو اے وقت تو مجھے مہلت تو دے کہ اب بھی صبر کا پھل پکا نہیں!

چنانچہ اب میں نے بہتے آنسو پینا سیکھ لیا اب لوگوں کی تیکھی نگاہیں میرے وجود کو گھائل نہیں کرتی اب شاید میں نے دنیا کو اپنے کھینچے حصار کے اندر آنے کی اجازت دے دی ہے اور اب کہیں جا کر مجھے اندازہ ہوا کہ حد کہاں سے شروع ہونی چاہیے۔

Facebook Comments HS

One thought on “خاموشی جو میرے اندر ٹھہر گئی

  • 20/12/2023 at 10:09 شام
    Permalink

    Sadia I can understand every single word ,because I have gone through this kind of circumstances, my husband was missing for
    seven years, shukar Alhamdolilhah he has come back in July 2023,i really pray for you and your family, May Allah soon reunited you all
    with safe and sound, rgds Uroosa. s

Comments are closed.