آپ بھی کوئی ڈیل کر لیں
جن لوگوں کو بھی زمانہ طالب علمی میں سیاسی جماعتوں کے سٹوڈنٹس ونگز، جو باوجود سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی پر سٹوڈنٹس کونسلز کی صورت میں متحرک رہتے آئے ہیں، سے واسطہ پڑا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالج یا یونیورسٹی میں کلچرل شو یا محفل موسیقی کروانا یا تھیٹر کروانا کس قدر صبر آزما اور پر خطر کارروائی ہے
مزاج میں لطف رسک کی طرف جھکاؤ ہمیشہ سے رہا اس لیے یہ تمام خطرات مول لیتی رہی ہوں اور سب سے زیادہ پرمسرت لمحہ میرے اور مجھ جیسوں کے لیے وہ ہوتا تھا جب کسی ناقابل تلافی نقصان کے بغیر اور کلاشنکوف کے درشن کے بغیر ہم اس پرامن مشن میں کامیاب ہو جاتے اور ایک آفٹر پارٹی بھی مفت میں حاصل کرتے
یعنی ایک کامیاب فنڈ رے زر کے بعد میڈیکل کالج میں مختلف حربوں سے ہماری شان میں قصیدہ گوئی ہوتی جس میں نسبتاً کم ناقابل اشاعت ہونے کا امکان کالج کی دیواروں پر آویزاں ان پوسٹرز کا ذکر ہے جن کی بدولت نہ صرف میری پنجابی گالیوں کے ذخیرے میں اضافہ ہوا بلکہ جن سے پتا چلا تھا کہ رنگ رلیاں ’فحاشی‘ آوارگی دراصل موسیقی ’رقص شاعری‘ مزاح ’ادب وغیرہ کے مترادف الفاظ ہیں
اور ہماری ان سرگرمیوں کی وجہ سے مسلم امہ زوال پذیر ہے کہ ہم نے شمشیر و سناں آخر اور طاؤس و رباب اول کر کے کریکٹر سنوارنے کے پروگرام کی ترتیب کا بیڑا غرق کر دیا
نوجوانی میں ان باتوں پر بھی خوشی ہو جاتی ہے بلکہ باقاعدہ ہنسی کا دورہ پر جاتا ہے جس پر ”اصلی حقیقی شعور“ سے ملاقات ہونے کے بعد سکتہ طاری ہونے کا امکان غالب ہوتا ہے اور اچھا بھلا انسان جس میں عورتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں
pragmatism
کا وکٹم بن جاتا ہے
میری یہ تحریر طالب علمی کے اس دور کے احوال محبت اور دہشت کی قلم کشائی نہیں ہے
بلکہ ایک وارننگ ہے ان کے لیے جو کیلنڈر کے ماہ و سال بدلنے کے باوجود بڑے نہ ہو سکے دنیاوی عہدوں سماجی مرتبوں کے لحاظ سے اور اب بھی خواب دیکھتے ہیں جاگتی آنکھوں سے اور توقع کرتے ہیں کہ غالب، اقبال، فیض۔ فراز ’کشور ناہید یا حبیب جالب یا صوفی شعرا کے احتیاط سے انتخاب کے گئے کلام کے استعمال سے یا کسی ڈونر فنڈڈ پروجیکٹ کا سہارا لے کر وہ اس معاشرے میں سماجی انصاف اور برابری قائم کر سکیں گے یہ آنکھیں کھولنے کا وقت ہے
اور تمام کمزور لوگوں کی طرح اس فریب کو تسلیم کر لیں اپنی بقیہ زندگی کو سنبھال لیں وہ کریں جو رائج الوقت خلاقی اور قانونی ہے یعنی چپ رہیں ہر جبر پر ہر نسل کشی پر ہر بددیانتی پر بجلی پانی گیس کے بلز پے کرتیں رہیں ٹی وی پر آزاد میڈیا اور پروفیشنل صحافیوں کو بغور سنیں ملالہ اور انگ سان سوچی کی کہانیاں پڑھیں اپنے بچوں کو بڑے ہو کر بونا بننے کے گر سکھائیں یہی کامیابی ہے
ارون دھتی اور نام چومسکی اور ہو سکے تو ہم سب جیسے پلٹ فورمز سے بھی دور رکھیں
آپ کو شہرت ’دولت‘ غیر ملکی شہریت ’بلو ٹک اور نجانے کیا کیا سہولیات مل سکتی ہیں
لیکن اس تمام سفر میں کہیں پر ڈیول سے ڈیل کرنی ہوتی ہے
آپ بھی کوئی ڈیل کر لیں


