جنرل عاصم منیر کا دورہ امریکہ


پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات مستقل طور پر قائم رہتے ہیں اور اگر کہی پاکستان کی سویلین حکومت اور امریکہ کے مابین کوئی مسئلہ بھی درپیش ہو جائے تو تب بھی دونوں ممالک کے درمیان جی ایچ کیو اور پینٹاگون بہرحال اپنے روابط پر اس کا اثر نہیں پڑنے دیتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے سیکورٹی کے معاملات پر تعلقات بہت گہرے ہیں اور کوئی بھی ان میں کسی تعطل کو اپنے مفاد میں نہیں گردانتا ہے۔

جنرل عاصم منیر ان حالات میں اپنے پہلے دورہ امریکہ پر بطور آرمی چیف گئے جب دونوں ممالک کے مابین تعلقات تو بحال ہیں مگر ان تعلقات کے لئے مستقبل کا کیا منظر نامہ ہو گا واضح نہیں ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان عشروں سے تعلقات کا محور افغانستان کی صورت حال رہی مگر اب امریکہ کی افغانستان سے فوجی روانگی کے بعد یہ بنیاد سردست اپنا اثر کھو چکی ہے اور پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ اب دوبارہ یہ بنیاد پر کوئی عمارت تعمیر بھی مت ہو اور امریکہ بھی پاکستان سے اپنے تعلقات کو اب صرف سیکورٹی کے نکتہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس میں غالب عنصر کاروباری تعلقات کو رکھنا چاہتا ہے اور آرمی چیف کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کے معاشی معاملات پر گفتگو کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

آرمی چیف وطن عزیز کی معاشی ترقی کے لئے براہ راست دل چسپی لے رہے ہیں اس لئے ان سے ان موضوعات پر بات ہونا توقع کے عین مطابق ہے۔ گزشتہ پانچ چھے برسوں میں پاکستان کی معیشت جس زبوں حالی کا شکار ہوئی اس کے ازالہ کے لئے بائیڈن انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کی پالیسی کو اپنانا چاہتی ہے مگر پاکستانی معیشت کے غیر یقینی حالات کی وجہ سے وہ ایک تذبذب کا بھی شکار ہے۔ خبریں ہے کہ امریکی حکام نے آرمی چیف کے سامنے اس بات پر امریکی موقف دوہرایا کہ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان کو چین کی جانب سے زبردست تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ پاکستان میں دولت کی کمی اسی سبب سے ہو رہی ہے کہ سرمایہ کاروباری عدم توازن کے سبب سے چین منتقل ہو رہا ہے اور چین کی جانب سے اس عدم توازن کو پاکستان کے ساتھ ختم کرنے میں کوئی کوشش بھی نہیں کی جا رہی ہے۔

بی آر آئی کے فلیگ شپ منصوبہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان چین کے لئے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا ہوا ہے حالاں کہ بی آر آئی ویسے کامیابی کے جھنڈے بھی نہیں گاڑ سکا ہے جیسے کہ چین کو توقع تھی۔ امریکی حکام نے اس کو بھی دوہرایا کہ پاکستان کی تنہا اپنی کل ایکسپورٹس میں سے اکیس فیصد امریکہ کو ہوتی ہے اور اس حجم کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ مستقل طور پر افغانستان کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا کرنا ہے۔ امریکہ اور پاکستان دونوں دہشت گردی کے عفریت ہونے کے حوالے سے ایک مشترکہ اصولی نکتہ نظر رکھتے ہیں مگر افغانستان کے داخلی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے دونوں کے نکتہ نظر یا یوں کہہ لیجیے کے مفادات میں ایک فرق واضح طور پر موجود ہے۔ پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشت گردی سے سخت پریشان ہے اور جائز طور پر سمجھتا ہے کہ افغان طالبان اس حوالے سے پاکستانی مفادات کو، پریشانی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کو امریکی حمایت درکار ہے مگر امریکہ کا مسئلہ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اس کی کارروائیوں سے کوئی پریشانی ہے۔

امریکہ کا افغانستان میں مسئلہ ”دولت اسلامیہ ولایت خراسان“ سے ہے جس کو ہم داعش خراسان کے نام سے جانتے ہیں اور امریکی انتظامیہ میں یہ تصور تیزی سے راسخ ہوتا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت داعش خراسان کے خلاف بہت موثر کارروائی کر رہی ہے اور افغان طالبان حکومت امریکہ کو کوئی شکایت کا موقع فراہم نہیں ہونے دے رہی ہے پاکستان کے لئے صورت حال اس سے بالکل برعکس ہے ہماری شکایات پر کابل میں کوئی کان دھرنے کو سرے سے تیار ہی نہیں دکھائی دیتا ہے ان کا ازالہ تو بہت دور کی بات ہے اور اس دورہ میں یہ آرمی چیف اس حوالے سے مشترکہ مفادات جو مشترکہ حکمت عملی سے حاصل کیے جائے کی کوشش کرتے وہاں محسوس ہوئے۔

امریکہ کو پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی واپس روانگی کی حکمت عملی سے بھی اختلاف ہے۔ امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ افغان طالبان کوئی جمہوری طور پر منتخب ہو کر نہیں آئے ہے جو ان پر ایسی حکمت عملی اختیار کرنے سے کوئی عوامی دباؤ ہو گا دوئم جن افغان شہریوں نے امریکہ کی مدد کی تھی ان پر اس ”افغانستان واپسی“ حکمت عملی کا اثر نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے دنیا میں یہ تاثر قائم ہو گا کہ امریکہ اپنے دوستوں کا تحفظ نہیں کر سکا ہے۔

خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ”کچھ معاملات“ پر دوبارہ سے مدد کرنے کی پیش کش کی ہے اور اس کی اس پیش کش کو قبول کرنے کے کیا اثرات پاکستان میں مقامی سطح پر ہو سکتے ہیں اس کا پاکستانی حکام کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فلسطین کے تازہ المیہ میں پاکستان کا ایک اصولی موقف ہے اور پاکستان اس حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی کا بھی بنظر غائر جائزہ لے رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارتی رویہ کی وجہ سے بھی پریشان ہے اور پاکستان کا یہ خیال ہے کہ اس مے اس کو امریکی حمایت حاصل ہے اور اس رویہ پر امریکہ کو نظر ثانی کرنی چاہیے کیوں کہ اس میں صرف پاکستان کے لئے مسائل نہیں ہے بلکہ ایک ہی ٹوکری میں تمام انڈے رکھنے کا تصور کسی وقت بھی کسی نقصان کا باعث کسی کے لئے بھی بن سکتا ہے اب امریکی یہ سب سمجھ سکے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والے وقت میں ان کا رویہ کرے گا۔

Facebook Comments HS