ظالم نظروں سے!
سنہ نوے کی دہائی بھی کیا یاد گار دہائی تھی۔
اس دہائی کی ابتداء میں بہت سے نئے گلوکار سامنے آئے، جن میں سے ایک علی حیدر بھی تھے۔ جن کا ایک گانا پشتو گانے کی دھن پر تھا۔
ظالم نظروں سے تم نہ مجھ کو دیکھو، مرجاؤں گا او جان جاناں مر جاؤں گا
یہ گانا تو تھا ہی زبردست جس کی دھن میں موقع محل کے اعتبار سے رباب کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا گیا تھا لیکن جب سنہ 1995 میں اس کی ویڈیو سامنے آئی تو اس نے اور دھوم مچا دی۔ وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا، اسی کے لیے کہا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں علی حیدر اور ماڈل لڑکی کی اداکاری خوب تھی۔ جس اطمینان اور کھلنڈرے انداز میں علی حیدر نے پیانو اور رباب بجاتے ہوئے سمندر کنارے اداکاری کی اور پھر لڑکی کی آمد، اس کی خوبصورت آنکھوں پر گانے کے بولوں کی وجہ سے خصوصی توجہ اور پھر اس ویڈیو کی عکاسی کرنے والے عکاس اور ہدایت کار نے بہت عمدگی سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ عکاسی کے بعد ویڈیو کی تدوین بھی بہت اچھے انداز میں کی گئی تھی اور چھانٹ چھانٹ کر بہترین مناظر شامل کیے گئے۔ اپنے زمانے کے اعلی کمپیوٹر گرافکس کا نہایت عمدگی سے استعمال کیا گیا تھا۔
لڑکی کے ہاتھ میں روایتی کشیدہ کاری اور شیشے سے سجے خوش نما ہاتھ کے پنکھے کو بھی بہت اچھے طریقے سے شامل کیا گیا۔
یہ گانا کچھ اس طرح کا ہے کہ اگر آپ بے زار ہو رہے ہوں تو اسے سن کر مزاج اچھے ہو جاتے ہیں۔ خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اور علی حیدر کو جھومتا دیکھ کر دیکھنے والے کا دل بھی جھومنے کو چاہنے لگتا ہے۔
کچھ چیزیں بس ایک خاص وقت میں اچھی بن جاتی ہیں، بعد میں دوبارہ ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ خود علی حیدر بھی اس گانے کو اب اس طرح نہیں گا سکیں گے اور نہ ویسی اداکاری کر سکیں گے۔ انہوں نے اپنے بعد کے البم میں ٹرانس ری ورب وغیرہ کے تاثرات کے ساتھ پرانے گانے جن میں یہ گانا بھی شامل تھا، کو دوبارہ سے گانے کی کوشش کی تو بری طرح سے ناکام رہے۔
کچھ اسی طرح عابدہ پروین کا معاملہ بھی ہے۔ وہ سندھی لہجے میں ایسا عارفانہ کلام گاتی ہیں اور اپنی گائیکی میں ڈوب جاتی ہیں کہ دیکھنے سننے والے پر بھی انہی کی طرح وجد طاری ہوجاتا ہے اور اس کا بھی بے خود ہونے کو جی چاہتا ہے۔ ”جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے“ آپ کو کسی اور دنیا میں لے جاتا ہے
اسی طرح غلام علی بھی اپنی گلوکاری سے خود لطف اٹھاتے ہوئے ایسے تاثرات چہرے پر دیتے ہیں کہ کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ خواہ وہ ”چپکے چپکے رات دن“ ہویا ”میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں“ ہو۔
فریدہ خانم بھی کچھ اسی طرح کی گلوکاری کرتی ہیں۔ ”میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں، پھر صدا کیوں آ رہی ہے، چھنن چھن“ میں ان کے بالوں کے گجرے، ساڑھی کا انداز اور ویڈیو کو عکس بند کرنے کا انداز ایسا ہے کہ دیکھنے والے کا دل بھی خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے۔
اسی طرح فریحہ پرویز کے گانے ”پتنگ باز سجنا“ نے اس دور میں خوب دھوم مچائی تھی۔ آج بھی ان کا یہ گانا پتنگ اڑانے والوں کے لیے ایک ٹانک کا کام دیتا ہے۔ جو پتنگ نہیں اڑاتے وہ بھی اسے سن کر جھوم اٹھتے ہیں۔
پاپ گلوکار ہارون کا گانا ”جی کے دیکھا مر کے دیکھا“ دیکھیے، وہ گاتے ہوئے ایسے زبردست تاثرات دیتے ہیں کہ آپ بھی ان کے ساتھ گانے لگتے ہیں۔
اسی طرح منی بیگم کی گائی غزل ”اک بار مسکرا دو“ سنیے اور دیکھیے تو آپ کا دل بھی مسکرا کو چاہنے لگتا ہے۔
ناشناس پشتو اور افغان گائیکی کا بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے جس طرح علامہ اقبال کی غزل لکھی غزل ”گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ“ گائی ہے، اور شعیب منصور نے جس طرح سے اس کی ہدایت کاری کی ہے اور ویڈیو میں مٹی کے دیے کا استعمال کیا گیا ہے، وہ دیکھنے والے کو بھی بے گانہ کر دیتا ہے۔ خاص طور پر کتنی معصومیت سے وہ جب کہتے ہیں ”مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ“
معروف پشتو گلوکار سردار علی ٹکر خواہ غزل گائیں یا پشتو ٹپے، وہ اتنی اونچی اور لمبی تان اٹھاتے ہیں اور خود بھی خوشی سے ایسا گاتے ہیں کہ سننے والے کا دل بھی باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ”زموخ کلے جانان نا، لہ قربان شہ مالاتانہ، مہ مت جلہ جانان، یا قربان“ اور پھر کتنی سادگی سے کہتے ہیں ”آخر پشم دیوانہ“ ۔ اسی طرح ان کے پشتو ٹپے ”در کویے درکویے“ سنیے۔ اس عارفانہ کلام میں بھی کیا زبردست تان اٹھاتے ہیں۔

