ایاز میلو اور جیل کی ڈائری


ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی سکھیوں کا ہے شاید ہی کسی اور کا ہو گا۔

ان کا اور ان کی سہیلیوں کا سجایا ہوا ایاز میلو صرف شیخ ایاز کی خدمات کے اعتراف ہی میں نہیں ہے، سندھی ثقافت اور زبان و ادب کا بھی جشن ہے۔ اس میں شرکت میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ ہوتی مگر برا ہو میری ذاتی مجبوریوں کا کہ مجھے کراچی سے واپس ہونا پڑا۔ امر سندھو مجھے مسلسل پروگرام کی تفصیلات واٹس ایپ کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہاں میرے لیے مصروفیات بھی نکال رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ افتتاح بلاول بھٹو نے کرنا ہے اور اس افتتاحی اجلاس میں اصغر ندیم سید، ناصر عباس نیر کے علاوہ دو چار باتیں مجھے بھی کرنا ہوں گی۔

مجھے اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ والے سیشن میں مکالمے کا حصہ بھی ہونا ہے۔ امر سندھو کی محبت اور اخلاص دیکھیے کہ انہوں نے میرے ساتھ وہاں ایک پورا سیشن رکھ دیا اور اس کا فلائر بھی بنوا کر بھیج دیا ہے۔ اسلام آباد سے ایاز میلو میں شرکت کے لیے سندھ کا سفر جب میرے لیے ممکن نہیں رہا تو میں اپنے کتب خانے میں ایک کتاب اٹھا کر بیٹھ گیا ہوں۔

ٹھیک پچپن سال پہلے، یہی دسمبر کے دن تھے اور کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ انہی دنوں میں شیخ ایاز ساہیوال جیل میں تھے۔ ڈاکٹر مبشر اور ممتاز بھٹو رہا ہو گئے تھے اور شیخ ایاز کو اس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا جس میں پہلے ڈاکٹر مبشر کو رکھا گیا تھا۔ اپنی قید کے ان دنوں میں شیخ ایاز نے ڈائری لکھی جس کے اردو ترجمے پر مشتمل کتاب مجھے میرے دوست آصف فرخی نے کئی برس پہلے عطا کی تھی۔ وہی کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے اسے یونہی وسط سے کھول لیا ہے۔ جو صفحہ میرے سامنے ہے اس پر مختصر سی تحریر ہے :

28 دسمبر۔ آج ”منڈا خانے“ میں وہی لڑکا گا رہا ہے :
دل ڈب گیا میرا اے
چن بھانویں نت چڑھدا
سجناں باجھ ہنیرا اے
اے پنجابی زبان تو کتنی میٹھی ہے! تجھے تیری قوم نے کیسے بھلا دیا؟

شیخ ایاز نے جس دردمندی اور اخلاص کے ساتھ یہ سطور لکھی ہیں وہ مجھ تک پہنچتی ہے۔ پنجابی زبان کو ہم نے بھلا دیا ہے۔ ہمارے بچے اب اس زبان میں نہیں پڑھتے جس میں انہوں نے ماں سے لوریاں سنی ہوتی ہیں۔ میں ندامت سے اپنا سر جھکا لیتا ہوں اور حسرت سے سندھ کی سرزمین کی طرف دیکھتا ہوں جنہوں نے اپنی مٹی سے، اپنے سندھو سے اور اپنی زبان سے کچھ اس طرح محبت کی ہے کہ یہ وہاں کے باسیوں کے بدنوں کو بھی مہکا گئی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ماں بولی سے رشتہ ٹوٹ جائے تو ماں جیسی زمین سے بھی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

ہمارا یہ رشتہ، یوں لگتا ہے، کب کا ٹوٹ چکا اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔

میں ادبدا کر کتاب کے اوراق پیچھے کو پلٹ دیتا ہوں۔ 21 دسمبر کو شیخ ایاز کے قلم سے نکلی تحریر میرے سامنے ہے۔ اس میں اول اول کچھ کتابوں کا ذکر ہے جو ان کا ملاقاتی جیل آیا توان کے اپنے ہی کتب خانے سے ان کے پڑھنے کو اٹھا لایا تھا۔ شیخ ایاز کی ڈائری کا یہ حصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ سامنے کھلے دوسرے صفحے کے آخر میں شیخ ایاز کے نام وہ پیغام ہے جو شام کے وقت ایک سنتری کی وساطت سے بھٹو صاحب کی طرف سے انہیں ملا تھا۔ بھٹو نے پیغام میں کہا تھا:

”میں نے پاکستان بدل دیا ہے۔ باہر نکلیں گے تو پاکستان تمہیں پسند آئے گا۔ جیل سے باہر نکلو تو پہلے مجھ سے ملنا۔ اگر میں پہلے رہا ہوا تو میں خود تم سے ملوں گا۔“

شیخ ایاز نے اس کے بعد بھی ایک سطر لکھی ہے اور پاورقی حاشیے میں کچھ وضاحتیں بھی موجود ہیں مگر میرا دھیان عین اس لمحے منٹو کے افسانے ”نیا قانون“ کی جانب چلا گیا ہے اور میری سماعت میں بھٹو صاحب کے ”پاکستان بدل دیا“ والے جملے میں منٹو کے کوچوان منگو کا وہ جملہ گڈمڈ ہو نے لگا ہے جو اس نے گورے صاحب بہادر کو اپنے مکوں کی زد پر رکھتے ہوئے کہا تھا :

”وہی اکڑفوں۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!“
”پاکستان بدل دیا ہے“ :یہ بھٹو نے کہا تھا اور منٹو نے کہا تھا : ”اب ہمارا راج ہے بچہ!“
مگر واقعہ یہ ہے کہ منگو کوچوان بعد میں جیل میں پڑا ہوا تھا: ”نیا قانون“ کہیں نہیں تھا۔

پاکستان بھی نہیں بدلا تھا۔ اس نہ بدلے ہوئے پاکستان میں آنے والے دنوں میں بھٹو کو پھانسی چڑھنا تھا اور جمہوریت کو قید رہنا تھا۔

مجھے یاد آتا ہے یہی دسمبر کا مہینہ تھا ؛جی 27 دسمبر 2007 یعنی پندرہ سال پہلے بے نظیر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام سے رخصت ہوتے ہوئے گولی مار دی گئی تھی۔

دسمبر میں ہمیں لگنے والے زخم بہت گہرے ہیں۔ ہمارا وطن ٹوٹا اور ہم ٹوٹ گئے تھے۔ جنہوں نے اسے توڑا وہ پھر بھی نہ سنبھلے اور ڈالر بٹورنے کو ہمیں ایسی جنگ میں جھونک دیا جو ہماری نہ تھی۔ پہلے ہم مجاہد ہوئے پھر دہشت گرد۔ دہشت گرد بھی ہم اور اس دہشت کا نشانہ بھی ہم۔ دسمبر ہی کے مہینے میں عین اس تاریخ کو کہ جب ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے گئے تھے، پشاور کے ایک سکول میں ہمارے بچے گچھوں کی صورت میں مار ڈالے گئے۔

میں اگلا ورق پلٹتا ہوں۔

میرے وطن کی کتاب سیاست کے ہر ورق پر سقوط ہی سقوط ہے یا پھر ایک معکوس سفر کی کہانی۔ ہم نیچے ہی نیچے لڑھکتے چلے جا رہے ہیں۔

میں اپنا دھیان شیخ ایاز کی جیل ڈائری پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں۔ وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں :

”اب چاند کھولی کے سامنے کھڑے نیم کے درخت کی ٹہنی پر سے گزر رہا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کسی گداگر کا بازو، اچھالی ہوئی اشرفی کو پکڑنے کی کوشش میں، بڑھا ہوا ہے۔ باہر واچ ٹاور پر کھڑے پہرے دار کی للکار، کتوں کی بھونکار سے مل کر رات کی خاموشی کو بڑھا رہی ہے۔ لالٹین پیچھے بھڑک رہی ہے اور انگیٹھی میں انگاروں پر راکھ جم گئی ہے۔ آج تھکاوٹ زیادہ ہو گئی ہے۔“

تھکاوٹ بڑھ رہی ہے۔
منہ زور جذبوں کے دہکتے انگارے بجھ گئے ہیں اور ان پر بے بسی کی راکھ کی تہیں جمنے لگی ہیں۔
واچ ٹاور سے آتی للکار میں کتوں کی بھونکار شامل ہونے سے سماعتیں چھلنے لگی ہیں۔
امید کی لالٹین بھڑبھڑک کر بجھنے کو ہے۔
میں کتاب بند کر دیتا ہوں کہ لگتا ہے جیسے میرا دل بھی بند ہونے کو ہے۔

Facebook Comments HS