ایم ڈی بیت المال عامر فدا پراچہ۔ ایک روشن عہد جو تمام ہوا!


پاکستان میں غربت کے عفریت سے نبرد آزما ہونے کے لئے پاکستان بیت المال اپنے محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح و بہبود اور مستحقین کو ریلیف پہنچانے کے لئے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یوں تو ادارے کے ہر سربراہ نے اپنے اپنے وقت میں ادارے کی خدمت کی ہے لیکن جس طرح حال ہی میں عامر فدا پراچہ نے بطور منیجنگ ڈائریکٹر اپنے ایک سال کے مختصر عرصے میں ادارے کے ملازمین اور اس سے اعانت حاصل کرنے والے غریب و نادار لوگوں کے لئے اقدام اٹھائے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

قطعی طور پر ان اقدامات اور اصلاحات کی بدولت اس عوامی بہبود کے ادارے میں آئندہ مستقل بنیادوں پر شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنا مختصر عرصہ عزت، وقار اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کرتے ہوئے گزارا اور ہزاروں غریب و نادار لوگوں کی دعائیں سمیٹیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین، صاحب بصیرت، مردم شناس، شائستہ اور میرٹ پر یقین رکھنے والے شخص ہیں اور بجا طور پر یہ عہدہ آپ کے شایان شان تھا اور آپ نے اس عہدے کے وقار پر آنچ نہیں آنے دی۔

روایت سے ہٹ کر انھوں نے ہمیشہ اپنے دروازے غریب و نادار افراد کے لئے کھلے رکھے اور وہ ذاتی طور پر سائلین کے مسائل سننے اور انھیں حل کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کی خدمات کا اگر اجمالاً جائزہ لیا جائے تو آپ بجا طور پر داد و تحسین کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ گو اب وہ استعفیٰ دے کر رخصت ہو چکے ہیں لیکن انھوں نے اپنے پیچھے اچھے نقوش اور مثالیں چھوڑی ہیں جو یقینی طور پر آنے والے سربراہان کے لئے مشعل راہ بنیں گی۔

پاکستان بیت المال میں 1992 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک مینوئل طریقے سے کام ہو رہا تھا۔ پراچہ صاحب نے مستحقین کی اہلیت کو جانچنے اور ادارہ جاتی سطح پر سروسز کی فراہمی کے بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کے لئے ورلڈ بینک کے طے شدہ پی ایم ٹی ڈیزائن کو ادارے میں متعارف کرایا۔ انھوں نے پاکستان بیت المال میں روایتی سرخ فیتے کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ایسا پیپر لیس سسٹم بنانے میں پیش پیش رہے جس سے میڈیکل، تعلیمی وظائف، سپیشل فرینڈز، کو کلیئر امپلانٹ، انفرادی مالی امداد اور دیگر مد میں موصول ہونے والی درخواستوں کو ای فائلنگ کے ذریعے تیزی سے نمٹایا جا سکے گا۔

ان کی زیر قیادت ادارے میں جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈیجیٹل سسٹم اور آٹو میشن کے فروغ سے بینیفشریز مینجمنٹ میں بہت بہتری آئی۔ انھوں نے ڈونیشن مینجمنٹ کے لئے ادارے میں ایک نئے ڈائریکٹوریٹ کا اضافہ کیا۔ پاکستان بیت المال ایکٹ کے تحت یہ ادارہ فنڈ ریزنگ کے لئے قانونی طور پر کام کر سکتا ہے اور اس سے قبل اس حوالے سے کوئی موثر و قابل عمل اقدامات نہیں اٹھائے گئے تھے جبکہ ہم عامر فدا پراچہ نے مکمل مینڈیٹ کے ساتھ اس ڈائریکٹوریٹ کو تشکیل دیا تاکہ ڈونر ایجنسیوں اور مخیر حضرات کے ساتھ مل کر شراکت داری کو فروغ ملے اور جاری معاشی مسائل کے پیش نظر گورنمنٹ آف پاکستان پر بیت المال کو سالانہ بجٹ کی فراہمی کے لئے زیادہ دباؤ نہ پڑے۔

اس کے ساتھ بیت المال میں ایک اور نئے ڈائریکٹوریٹ پی اینڈ آئی کو بھی تشکیل دیا گیا ہے جو مرکزی سطح پر ملک بھر کے تمام دفاتر میں ہونے والے بولی یا ٹینڈرز کے عمل کو جلد از جلد بنیادوں پر نمٹا سکے گا اور اس عمل میں مزید شفافیت لائے گا۔ انھوں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور فنڈز اور پینشن سسٹم میں بہتری لانے کے لئے محکمے میں آٹو میشن کا آغاز کیا ہے جس سے روایتی رکاوٹوں کو دور کرنے میں بہت مدد ملی ہے اور اب ملازمین اپنے جی پی فنڈ اور ایڈوانس وغیرہ کے لئے ایم آئی ایس سسٹم کے ذریعے آسان رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ تمام پراجیکٹس کی موثر مانیٹرنگ کے لئے ادارے کے پراجیکٹس خاص طور پر پاکستان سویٹ ہومز میں ڈیجیٹل کیمروں سے نگرانی کا عمل شروع کروایا جس سے یتیم بچوں کے نظم و ضبط اور ان کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پاکستان سویٹ ہومز میں چار ہزار چار سو سات بچے اب تک مفت قیام و طعام اور تعلیم کی سہولت حاصل کر چکے ہیں اور سویٹ ہومز میں داخل اسی فیصد یتیم بچے میٹرک کا امتحان پاس کر چکے ہیں اور ادارہ یونیسف کے تعاون سے او ڈبلیو ایس پی پروگرام کے تحت ان یتیم بچوں کی مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے امداد کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

پہلے سویٹ ہومز میں میٹرک تک مفت تعلیم و دیگر سہولیات فراہم کی جاتی تھیں جب کہ آپ نے ان سہولیات کا دائرہ کار انٹرمیڈیٹ تک بڑھایا۔ مزید براں ان کی زیر قیادت پاکستان بیت المال کے تحت چلنے والے تمام پراجیکٹس بشمول ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز، چائلڈ لیبر بحالی مراکز اور پاکستان سویٹ ہومز کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل کر دیا گیا اور اب انھیں بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے ادائیگی کی جا رہی ہے۔ پاکستان بیت المال چائلڈ لیبر سکولوں میں پہلے پرائمری تک تعلیم دی جاتی تھی جبکہ اب ان کی ہدایات پر پائلٹ بنیادوں پر کئی اداروں کو مرحلہ وار مڈل تک اپ گریڈ کیا جا چکا ہے جبکہ اسلامک ریلیف جیسے ادارے کے ساتھ اشتراک عمل کرتے ہوئے خواتین کو ہنرمند بنانے کے پراجیکٹ کا آغاز بھی ان کی ایک اہم کاوش ہے۔

پہلی مرتبہ ایک بین الاقوامی ادارے نے بیت المال کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے سماعت سے محروم بچوں کو کوکلئر امپلانٹ لگانے اور ان کے علاج کے لئے گرانٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ جاتی سطح پر محکمے میں جینڈر، وسل بلوئنگ اور کانفلکٹ آف انٹرسٹ پالیسیز کا عملی نفاذ بھی ان کے دور میں کیا گیا۔ ان کا ایک اور اور اہم قدم تعلیمی اداروں کو تحقیقی سہولیات کے لئے عملی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ تمام جاری پراجیکٹس کی تھرڈ پارٹی جانچ کے لئے پاکستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے بات چیت کا عمل شروع کروایا اور اب ان یونیورسٹیوں کے طلبا ء سے تمام پراجیکٹس پر ریسرچ کے لئے خدمات لی جا رہی ہیں۔ ان سے پہلے پاکستان بیت المال کے پاس مستحقین کی جانچ پڑتال کا کوئی فول پروف سسٹم موجود نہیں تھا لیکن پراچہ صاحب کی کاوشوں سے بینیفشری ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم کو مزید بہتر اور آسان بنانے کے لئے انھوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ باہمی یاداشت کے معاہدے پر دستخط کیے جن کے پاس غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کا جامع ڈیٹا موجود تھا۔

حال ہی میں محکمے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام پراجیکٹس اور پاکستان بیت المال کے کام اور کارکردگی کو ڈونرز کے سامنے بھر پور طریقے سے اجاگر کرنے کے لئے انھوں نے اپنی زیر نگرانی ایف نائن پارک میں ایک شاندار نمائش و تقریب کا اہتمام کیا جو بہت سے امدادی اداروں کے لئے ایک سرپرائز سے کم نہیں تھا کیونکہ اس سے پہلے بیت المال کے منصوبوں کو اتنے احسن طریقے سے کبھی عوامی سطح پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا ایک اور خوش آئند کام مالی مشکلات اور دباؤ کے باوجود سابقہ حکومتوں کے فلاحی منصوبوں خاص طور پر شیلٹر ہومز اور فوڈ ٹرکس کو تسلسل دینا تھا۔

اس کے علاوہ کرپشن، اقرباء پروری اور کام چور اہلکاروں کے خلاف ان کے دبنگ ایکشن نے بھی انھیں نیک نامی عطا کی۔ ان تمام اقدامات اور اصلاحات کے نتیجے میں ادارے کی کارکردگی، ساکھ اور نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے اور ڈونر ایجنسیوں اور مخیر حضرات کا سرکاری اداروں پر ٹرسٹ بحال ہو رہا ہے۔ بطور ایم ڈی پاکستان بیت المال سے ان کی رخصتی ایک روشن عہد کے اختتام کی مانند ہے، اس امید کے ساتھ کے وقت انھیں دوبارہ اس ادارے کی خدمت کا موقع عطا کرے اور وہ اپنے ویژن کی مزید تکمیل کر سکیں۔ عامر فدا پراچہ ملک اور اپنی پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی حفظ و امان میں رکھے اور زندگی میں انھیں مزید کامیابیاں و کامرانیاں عطا کرے تاکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو پاکستان اور اس کے عوام کے لئے برؤئے کار لاتے رہیں۔ آمین!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments