عبداللّٰہ حسین اور آج کا ڈیلیما : حصہ سوم


” یہ لمبی بات میں نے اس لیے آپ کے آگے کی ہے کہ آپ اس کے پاسدار رہیں۔ اور اگر پاسداری کرنے میں کچھ تکلیفیں آئیں جو آپ کی قوت برداشت سے باہر ہوں تو پھر آپ کم از کم ایک گواہ کی حیثیت سے تو زندہ رہیں گے“ ۔

” جی بالکل، درست فرمایا“ چند آوازیں اٹھیں۔
” یہ بھی کافی ہے“ اعجاز نے کہا۔
” صرف گواہ کی حیثیت سے کیوں جناب، ہم سب کچھ کریں گے“ ایک منچلا بولا۔

خواجہ معراج کے حلیے سے اب بے چینی ظاہر ہونے لگی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ حرکت میں تھے۔ کبھی وہ سامنے میز پر رکھے کاغذات کو الٹتا پلٹتا، کبھی جیب سے کوئی پرزہ نکال کر اسے پڑھتا اور دوبارہ جیب میں رکھ لیتا۔ پھر چشمہ اتار کر اسے منہ کی بھاپ دیتا اور شیشے صاف کرتا، اس کے بعد اپنی چائے کی پیالی میں بے وجہ چمچہ ہلانے لگتا۔ وہ بیتابی سے اعجاز کی بات ختم ہونے کے انتظار میں تھا اور بار بار اس کی جانب دیکھتا، اور پھر کلائی کی گھڑی پہ نگاہ ڈالتا جا رہا تھا، جیسے کہ اس کی دانست میں اعجاز اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہو۔ مگر وہ سامعین کی گہری دلچسپی کے باعث اعجاز کو روکنے سے قاصر تھا۔

” ابھی تک میں نے آگہی کے بارے میں زبانی کلامی بات کی ہے“ اعجاز نے بولنا شروع کیا۔

” آگہی شاگہی چھوڑو ملک جی“ سب سے پیچھے زمین پہ بیٹھا ہوا ایک شخص سر اٹھا کے بولا۔ ”سیدھی بات کرو کہ حکومتیں سچی سچی بات بتایا کریں“ ۔

اعجاز نے ایک لمحے کو رک کر اسے دیکھا۔ وہ اس نوجوان سے واقف تھا جو نور پور کا رہنے والا تھا اور ہر پندرہواڑے ایک بڑے سے کاغذ کی شیٹ پر ہاتھ سے لکھ کر اور پھر پچاس ساٹھ فوٹو کاپیاں بنوا کر، ”نور پور گزٹ“ کے نام سے تقسیم کیا کرتا تھا، جس میں چھوٹی مو ٹی مقامی مقدمے بازیوں، پانی کے تنازعوں، شادی بیاہ اور فوتیدگیوں اور دیہی حکام کے دوروں کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ اس کا نام فرخ غوری تھا۔ اس کی تعلیم شاید میٹرک بھی نہ تھی جو اس کی غلط سلط تحریر سے ظاہر ہوتی تھی۔

مگر اس کے شعور کی سطح اس کی رسمی تعلیم سے اونچی تھی۔ ماضی میں ایک آدھ بار اعجاز نے سوچا بھی تھا کہ اگر وہ ٹریڈ یونین کے پیشے میں لگا رہتا تو فرخ غوری تنظیم کے کام میں مفید ثابت ہو سکتا تھا۔ اس وقت فرخ غوری کی بات سن کر اعجاز کے اندر احساس کی ایک نئی تہہ نمودار ہوئی۔ کہ وہ بات تو عام غریب اور نادار لوگوں کی قوم کے بارے میں کر رہا تھا، مگر الفاظ مخاطبین کی سطح کے برابر استعمال کرتا جا رہا تھا۔ اس دوئی نے اعجاز کے اندر ہلچل سی پیدا کر دی۔

چند لمحوں کے لیے رک کر اس نے دوبارہ بات کرنے کو اپنے خیالات مجتمع کیے۔ ”فرخ“ وہ بولا ”تم درست کہتے ہو۔ آخر آگہی کا مطلب ایک ہی تو ہے، یعنی سچی بات۔ اب میں تمھیں ایک سچی بات سناتا ہوں۔ ہمارے ملک پر ایک انتہائی تباہ کن حادثہ گزر چکا ہے۔ مجھے اس کا نام لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ سب کو اس کا علم ہے۔ اس کے بارے میں ایک چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری ہوئی تھی جس کی ہزاروں صفحوں پر مشتمل رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ مگر ہمیشہ کی طرح اسے بھی باہر کی ہوا لگنے نہیں دی گئی۔ میں اس میں سے ایک چھوٹا سا حصہ پڑھ کر آپ کو سنانا چاہتا ہوں، جو مجھے بھی فقط حادثاتی طور پر دستیاب ہوا ہے۔ میں جب آپ کے روبرو اسے پڑھوں گا تو آپ کو خود بخود علم ہو جائے گا کہ یہ کس واقعہ کے بارے میں ہے“ ۔

سامعین میں اچانک آوازوں اور بدنوں کی حرکت پیدا ہوئی۔ کمرے میں بھنبھناہٹ پھیل گئی۔ پھر فوراً ہی یکسر خاموشی چھا گئی اور تمام رپورٹر اپنے قلم روک کر سننے کو تیار بیٹھ گئے۔ خواجہ معراج دین اب اعجاز کو ایسی نظروں سے ایک تار دیکھے جا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو، یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اعجاز اس کی نظروں سے بے خبر جیب سے ایک فل اسکیپ کاغذ نکال کر پڑھنے لگا۔ ابھی اس نے ایک دو لفظ ہی بولے تھے کہ خواجہ معراج کا صبر جواب دے گیا۔

وہ اچک کر اپنی کرسی سے اٹھا اور اعجاز کے ہاتھ سے کاغذ چھیننے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا جیسے سارا خون نچڑ گیا ہو۔ اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ اس کے منہ سے کوئی بات نہ نکل رہی تھی، صرف اس کے ہاتھ چل رہے تھے۔ کمرے میں جتنے لوگ تھے سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ سب کم وبیش نوجوان رپورٹر تھے، مگر ان کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ وہ خاموش کھڑے خواجہ معراج اور اعجاز کی ہاتھا پائی کو دیکھ رہے تھے۔ صرف بیچ بیچ میں آوازیں اٹھ رہی تھیں

” ارے، ارے، بھئی کیا، یہ کیا، جناب، بات کریں، چھوڑیں۔“ ۔

اعجاز نے پہلے بازو لمبا کر کے اپنا کاغذ خواجہ معراج کی پہنچ سے دور ہٹایا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔ جب وہ نہ رکا تو اعجاز نے دوسرے ہاتھ کے ساتھ سختی سے اسے پرے کیا۔ خواجہ معراج دھپ سے کرسی پہ یوں گرا کہ جیسے قاعدے سے بیٹھ گیا ہو۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ میکانکی طور پر اٹھا اور اپنی کارروائی دوبارہ شروع ہی کرنے والا تھا کہ ناکامی کے امکان کو دیکھ کر رک گیا۔ اس نے جھک کر میز سے اپنا کاغذ اٹھایا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا :۔

” آپ صاحبان کو یہ فالتو باتیں سنانے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اصل مقصد یہ اعلان کرنا تھا جو میں اب اس ادارے کے لیگل ایڈوائزر کی حیثیت سے کرتا ہوں۔ اور یہ نوٹ کیجئے،“ وہ ہوا میں انگلی اٹھا کر بولا، ”کہ میں اپنی اس حیثیت میں ادارے کی جانب سے یہ اعلان کرنے کا مکمل حقدار ہوں۔“ وہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کی تحریر پڑھنے لگا۔ ”ادارہ بنام رحمانیہ پبلیکیشنز اور اس کے زیر اہتمام و ملکیت چھپنے والے ہفت روزہ اخبار بنام بانگ دہل، ناگزیر وجوہات کی بنا پر، جن میں ادارے کے ایڈیٹر و پروپرائٹر کی ناگہانی وفات شامل ہے، ہر کاروباری و اشاعتی مقصد کے ضمن میں حتمی طور پر بند کیا جاتا ہے۔

ادارے کے ٹائیٹل میں وہ بنک اکاؤنٹ ہیں جن کے اندر معمولی رقم کی تفصیل ادارے کے اکاؤنٹنٹ کے پاس موجود ہے۔ اس بارے میں ملکی قوانین کے مطابق بقیہ اور مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ اخبار کے ڈیکلیریشن کے رکھنے، بیچنے یا سرنڈر کرنے کے بارے میں فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔ میں ادارے کی جانب سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اخبار“ بہ بانگ دہل ”کے دور اشاعت میں اگر کسی شائع شدہ مواد سے کسی شخص یا ادارے کو شکایت کا موقع ملا ہے تو ادارہ اس کے لیے معذرت خواہ ہے۔“ ۔

اعلان ختم کر کے خواجہ معراج نے کاغذ تہہ کر کے جیب میں رکھ لیا۔
” آپ لوگوں کی آمد کا بہت بہت شکریہ“ وہ بولا ”اب آپ لوگ ہماری جانب سے فارغ ہیں“ ۔

کوئی رپورٹر اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ وہ سب آنکھیں پھاڑے خواجہ معراج کو دیکھ رہے تھے۔ خواجہ معراج ٹکٹکی باندھے انھیں دیکھتا رہا۔ ”خدا حافظ“ اس نے چند لمحوں کے بعد کہا، گویا انھیں اپنی نظروں سے زیر کر کے پسپا ہونے پر مجبور کر رہا ہو۔

چند لمحے مزید خاموشی رہی پھر سامعین میں سے ایک بولا ”خدا حافظ“ ۔
سب اپنی اپنی جگہ پہ بیٹھے رہے۔ خواجہ معراج صورتحال کو تاڑ گیا۔

” تو ٹھیک ہے“ وہ بولا ”جو جی چاہے کرو۔ مگر میں یہ علانیہ کہتا ہوں کہ جو بیان میں نے پڑھ کر سنایا ہے اس کے علاوہ کسی معاملے سے میرا کسی قسم کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہاں پہ جو کچھ کارروائی ہوئی ہے، یا ہو گی، اس سے میں اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار دیتا ہوں اور اس کے بارے میں ہر کسی ذمہ داری سے، گواہوں کی موجودگی میں، دستبردار ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ مہربانی فرما کر یہ لکھ لیں“ ۔ خواجہ معراج پلٹا اور شیخ سلیم کو اشارہ کر کے بولا ”چلو“ ۔

شیخ سلیم اٹھ کر اس کے پیچھے ہو لیا۔ ہجوم کے بیچ پھنس پھنسا کر گزرتے ہوئے وہ دونوں دروازے تک پہنچے۔ وہاں پہ خواجہ معراج ایک بار پھر پلٹ کر بولا ”درحقیقت اب آپ میں سے کسی کو بھی یہاں موجود رہنے کا حق نہیں۔ میں چاہوں تو اس دفتر کو سیل کروا سکتا ہوں“ ۔

” جاؤ جی وکیل صاحب“ فرخ غوری بولا ”سیل کروانے کا بندوبست کرو۔ اتنی دیر میں ہم ملک اعجاز کی بات سن لیں گے“ ۔

چند لوگ ہنس پڑے۔ خواجہ معراج غصے کی حالت میں دہلیز پار کرتے ہوئے پیر اٹکنے سے لڑکھڑا گیا۔ شیخ سلیم نے اسے دونوں جانب سے پکڑ کر سہارا دیا۔ دونوں سیڑھیاں اتر گئے۔

اعجاز کچھ دیر تک اپنا کاغذ ہاتھ میں لیے خاموش کھڑا رہا۔ پھر عقب سے فرخ غوری کی آواز آئی۔
” چلو جی وکیل صاب سے تو خلاصی ہوئی۔ ملک اعجاز، اب اگلی بات سناؤ“ ۔
” اس سے پہلے“ ایک اور آواز آئی ”کہ دفتر سیل کرنے کے لیے داروغہ جی آ جائیں“ ۔
سب ہنس پڑے۔ ماحول کا سکوت کچھ ٹوٹا تو اعجاز اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور کاغذ سامنے رکھ کر پڑھنے لگا۔

” پاکستان کے دو ٹکڑے کیونکر ہوئے؟ وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی بنا پر پاکستانی فوج کو مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دینے پڑے؟“ ۔

( جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments