صدر پاکستان کے ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان میں خطاب کے فکر انگیز پہلو


عارف علوی صاحب کو جب بھی سنتا ہوں تو پرانے عہد کے وہ سیاست دان یاد آ جاتے ہیں جو یہ جانتے تھے کہ کس مجلس میں کیا بولنا ہے۔ صبح انٹرنیٹ کھولا تو ورچوئل یونیورسٹی کے صفحے پر جناب صدر کا وہ خطاب موجود تھا جو انہوں نے ورچوئل یونیورسٹی کے تیرہویں جلسہ عطائے اسناد کے موقع پر بروز انیس دسمبر کو کیا۔ یہ تو میں جانتا ہوں کہ جن اداروں کے صدر چانسلر ہیں ان میں سب سے زیادہ وہ ورچوئل یونیورسٹی کو اس کے طریقہ تعلیم کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ ان کی یہ پسندیدگی بے وجہ نہیں ہے کیوں کہ جتنی بڑی ہماری تعلیمی ضرورت ہے اسے کم وقت اور وسائل کے ساتھ بس فاصلاتی نظام تعلیم ہی پورا کر سکتا ہے۔

خطاب میں رسمی باتوں کے علاوہ بہت کچھ تھا مگر چار باتیں ایسی ہیں جن پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ پہلی بات یہ کہ جدت و ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ سمجھنا کہ فاصلاتی یا ورچوئل طریقہ تعلیم کسی طرح بھی کم تر ہے یہ بات خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی کے تجربے اور بین اقوامی سطح پر ٹیکنالوجی پر چلنے والے فاصلاتی نظام تعلیم کی کامیابی اب اس بات کی گواہ ہے کہ یہ نظام تعلیم کسی سے کم نہیں۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ معاشرہ اس طرز تعلیم کے بارے میں پائے جانے والے تعصب سے نجات حاصل کرے۔

دوسری بات یہ کہ پاکستان میں کالج کی تعلیم کے بعد صرف نو فیصد لوگ اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں یا اس تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ ہمسایہ ممالک میں یہ شرح پچیس فیصد سے زیادہ ہے۔ سوچنا چاہیے کہ ہمارے بچوں کا کیا گناہ ہے۔ تیسری بات یہ کہ دو کروڑ سے زیادہ پاکستانی بچے سکولوں سے باہر ہیں، سوچیں یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ اب اگر ہم کم وسائل اور تھوڑے وقت میں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیں تو حل صرف ورچوئل طریقہ تعلیم میں نظر آتا ہے۔ صدر صاحب کہنے لگے کہ ورچوئل یونیورسٹی نے اپنی پہنچ کو پہلے سے بڑھایا ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مجھے لگا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ورچوئل یونیورسٹی اپنی پہنچ کو کئی گنا بڑھائے۔

چوتھی بات کا تعلق ان خواتین کے ساتھ تھا جو پڑھ لکھ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ صدر کہنے لگے کہ بچیوں کو اپنی تعلیم کو بہتر استعمال میں لاتے ہوئے معاشرے اور معیشت کی مدد کریں۔ میرے خیال میں خواتین تعلیم ضرور حاصل کریں چاہے گھر سے نکلیں یا نہیں کیوں کہ اب تو گھر بیٹھ کر بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، کم از کم نی نسل کی تربیت کی جا سکتی ہے۔

خطاب کا آخری حصہ میں صدر صاحب نے بجا طور پر فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو گفتگو اور رابطہ کرنے کے بہتر سے بہتر طریقہ استعمال کا مشورہ دیا، خاص طور پر اس زمانے میں جہاں کچھ ہی وقت میں بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔

Facebook Comments HS