پرامن احتجاج ہمارے کاروبار کا دشمن ہے


پرامن احتجاج کوئی منافع بخش انڈسٹری نہیں ہے اس لیے اس سے ڈیل کرنا ہمیں وارے میں ہی نہیں۔ چونکہ یہ ہمیں وارے میں نہیں تو ہم نے یہ ہنر سیکھا بھی نہیں۔ ہمارا یہ تجربہ ہے نہ شوق۔ یہ ہمارے مقاصد کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے ماما قدیر کے پر امن لانگ مارچ ہوں، بلوچ عورتوں کا احتجاج ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ کے بڑے بڑے پرامن جلسے ہوں، ہمیں ان سے ڈیل نہیں کرنا نہیں آتا کیونکہ وہ پر امن ہیں۔

پرامن احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرنا اپنے آپ کو غلط ثابت کرنے کے برابر ہے۔ اس کا تو سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ ہمارا نظریہ اور ہماری پالیسی درست نہیں ہے۔ اس لیے جب تک وہ پر امن احتجاج کر رہے ہیں تب تک وہ ہمارے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتے ہے۔ ہم ان سے خوف زدہ رہیں گے۔ وہ ہمیں اور ہماری پالیسیوں کو غلط ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تو ہم نے اس صورت حال کو بدلنا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کو امن کے دائرے سے نکالنا ہے اور انہیں تشدد پر مجبور کرنا ہے تاکہ ہم برابری پر آ سکیں اور پھر ہم ان کے ساتھ ڈیل کر سکیں۔

جب تک وہ پر امن احتجاج کے راستے پر ہیں تو ہم خوف زدہ ہیں اس لیے ہم نے اس خبر کو چھپانا ہے۔ ہمارا سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی ٹی وی چینل یا اخبار ان کے پرامن احتجاج کی خبر نشر نہ کرے۔ یہ ہمارے خوف زدہ ہونے کی خبر ہے۔ یہ ہمارے نظریے اور ہماری پالیسیوں کے غلط ہونے کی خبر ہے۔ یہ خبر دینے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ ہم ایسی خبریں دینے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں جن سے ہماری اہمیت کم ہو۔

اب دیکھیں ناں ٹی ایل پی والے جب بھی نکلتے ہیں تو خوف پھیلاتے ہیں۔ راستے بند کر دیتے ہیں۔ ملک تک کو بند کرنے کی دھمکیاں لگاتے ہیں۔ گالی گلوچ ہوتی ہے، ڈنڈے اور پتھر ہوتے ہیں حتی کہ قتل کی دھمکیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے ان سے ہم بالکل نہیں گھبراتے اور نہ ہی خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ان کے پر تشدد احتجاج تو سارا سارا دن ٹی وی پر لائیو چلتے تھے۔ ہم تو خود پیمرا کو فون کر کے کہتے تھے کہ لائیو ٹیلی کاسٹ کو مت روکو۔

عوام دیکھیں اور سوچیں کہ کوئی مسیحا آئے۔ اور پھر ہم آتے ہیں۔ یہ صورت حال ہمارے لیے منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ جانی پہچانی بھی ہوتی ہے۔ ان کے پرتشدد احتجاج یا حملوں سے ہماری پالیسیوں کے درست ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ ہمارا اثر و رسوخ اور بھی بڑھتا ہے۔ یہ سب ہمارے کاروبار کے لیے اچھا ہے۔ ہم آگے بڑھ کر ان سے مذاکرات کرتے ہیں اور ڈیل تو کیا ڈیلیں کرتے ہیں۔ ان کی ہر بات مان لیتے ہیں۔ اس میں فتح اور شکست دونوں ہوتے ہیں۔ مطلب فتح ہماری اور پرتشدد احتجاج کرنے والوں کی اور شکست کا حساب آپ خود لگا لیں۔

یا پھر ٹی ٹی پی کو دیکھ لیں۔ وہ تو احتجاج بھی نہیں کرتے سیدھے سیدھے حملے اور دھماکے ہی کرتے ہیں۔ قتل عام کرتے ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ خوف اور تشدد ایک انڈسٹری ہے۔ بہت منافع بخش انڈسٹری۔ یہ ہمارے وارے میں ہے۔ اسی لیے ہم ہمیشہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ اور جب بھی، جتنے بھی وہ راضی ہوں، ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں اور ڈیل بھی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ تو ہم کتنی ہی ڈیلیں کر چکے ہیں۔ ہم نے سوات تک ان کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے ہمارے ستر اسی ہزار لوگ قتل کر دیے۔ حساس ترین جگہوں تک کو نہیں چھوڑا اس لیے ہم ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اب بھی ہم انہیں افغانستان سے پاکستان لے آئے ہیں تاکہ وہ تشدد پھیلائیں اور ہم ان سے مذاکرات کر سکیں۔

اس لیے ہم سے مذاکرات کرنا چاہتے ہو اور کوئی رعایت چاہتے ہو تو گالی دو، ڈنڈے اٹھاؤ، پتھر پھینکو، جلاؤ اور گھیراؤ کرو، گولی چلاؤ اور بم پھوڑو۔ ان سب کاموں کا تعلق ہماری انڈسٹری سے ہے۔ ہم مذاکرات کریں گے اور ڈیل بھی کریں گے۔ ایسے پرامن احتجاج کر کے ہمیں خوف زدہ نہ کرو۔ ہمارے غلط ثابت ہونے کا ڈر ہمیں کھا جائے گا۔ ہمارے کاروبار بند ہو جائیں گے اور ہم بے روزگار ہو جائیں گے۔ ایسے تو ہمارا گزارا نہیں ہے نا۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik