انتخابات کا موسم اور سیاسی گٹھ جوڑ
وطن عزیز میں سیاسی بساط بچھنے کو ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اعلامیہ ہی نہیں، انتخابات کے انعقاد کا جدول بھی جاری ہو چکا ہے۔
سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ سیاست دانوں کے عوامی رابطوں میں تیزی کا رجحان ہے جب کہ عوامی رد عمل میں بوجوہ، سرد مہری دکھائی دے رہی ہے۔
قبائلی معاشرت اور گروہی نفسیات میں جینے والی دیہی آبادیوں کے گرد قبائلی زعما نے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ ’مشران‘ قبائل جن کے مفادات باہم مشترک ہوتے ہیں، انتخابات کے موسم میں ایک دوسرے کے خلاف نام نہاد عداوت کے راگ الاپتے اور اپنے اپنے عوام کو چکمہ دینے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔
خوف میں اتحاد کے یہ سوداگر، امن میں بٹوارے کے امین ہوتے ہیں۔ سیاست کی اس منڈی میں عداوت، تفاوت، بغاوت، منافرت، مفارقت، منافقت اور ملامت اشیائے خور و نوش کی طرح ہاتھوں ہاتھ، اونے پونے داموں بکتی ہیں۔ عوام ان کا سودا خریدنے میں دیر نہیں کرتے بلکہ عجلت میں اکثر ضرورت سے بھی زائد خرید لیتے ہیں جس پر بعد ازاں سرقے کا الزام لگنا معمول ہوتا ہے۔ سروں کے سودے، سروں کا شمار بڑھانے کے لیے ضروری خیال کیے جاتے ہیں۔
امیدواروں کا منشور ایک طرف مخالفین کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر مشتمل ہوتا ہے تو دوسری جانب حلقے کی محرومیوں کی ایک لمبی فہرست رکھتا ہے جو فی الواقع ماضی میں انہی کی کارستانیوں اور ناکامیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انتخابی مہم نسلی و لسانی امتیازات، طبقاتی کش مکش اور گروہی مفادات کے دائروں میں گھومتی ہے۔
افہام و تفہیم کی سیاست کو فروغ دینے اور طبقاتی تقسیم کے دوام کے لیے رہبروں کے بیچ کبھی کبار اتحاد و اتفاق کی مثالیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ البتہ، مصلحت کے نام پر کیے گئے ایسے میثاق، اکثر شاخ نازک پہ آشیانہ ثابت ہوتے ہیں جن سے بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت روگردانی کوئی اچنبھے کی بات نہیں سمجھی جاتی۔
انتخابی عمل کے دوران طبقاتی سماج میں سیاسی اخلاقیات عروج پر جب کہ مذہبی اخلاقیات داؤ پر لگی ہوتی ہیں۔ کہیں سیاسی سمجھوتوں کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا نام دیا جاتا ہے اور کہیں قومی، صوبائی و بلدیاتی نشستوں کی بندر بانٹ کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اقتدار کی اس ہوس میں ثقافتی، معاشرتی، مذہبی و اخلاقی اقدار بری طرح پامال کی جاتی ہیں۔ عوام کے سروں کے سودے بند کمروں اور رات کی تاریکیوں میں بھیڑ بکریوں کی مانند کیے جاتے ہیں۔
بادشاہتوں کا دور ختم ہو چکا ہے لیکن ان کی باقیات؛ چہلگان، نورتنے اور شاہانہ روایتوں کا تسلسل برقرار ہے۔ جمہور کا جمہوری حق رائے دہی، نمائندوں کے انتخاب کے لیے نہیں، اپنے اپنے قبائلی فرمانرواؤں کی دستار بندی تک محدود رکھا جاتا ہے۔
عوام کے پے در پے دھوکے کھانے کی بڑی وجوہات میں سے ایک لوگوں کی معاشی و معاشرتی مجبوری ہوتی ہے۔ چونکہ وسائل پر قابض طبقے کے نمائندہ افراد عوامی مسائل کے حل پر بھی قدرت رکھتے ہیں اس لیے لوگ انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے ووٹ، سپورٹ اور بقدر استطاعت نوٹ بھی دینے میں تامل نہیں کرتے۔ دلی میں قیام کی خواہش اور حقیقت حال کی ترجمانی میں غالب گویا ہوئے، ”ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں پر کھائیں گے کیا“
یہ وہ سوال ہے جو ہر باغی کو بغاوت سے گریز کا راستہ اپنانے پر آمادہ کرتا ہے اور ہر قصیدہ گو کو مدح سرائی پر اکساتا ہے۔
اس پس منظر میں سیاست نہ نظری ہوتی ہے اور نہ نظریاتی۔ شخصی حصار میں محصور اور قلعہ بند عوام اشرافیہ کے لیے سہولت کار بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں کمزور اور سیاسی شخصیات طاقتور ہیں۔
حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کو آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی شمولیت کی منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یوں ہر نئی حکومت اگر اتحادیوں کی محتاج نہ بھی ٹھہرے، آزاد امیدواروں کی امیدوں کو بر لانے میں اولاً مائل اور بعد ازاں گھائل ہو جاتی ہے۔
ہمارے ہاں انتخابی عمل اشرافیہ کے نمائندگان کو سند جواز بخشنے سے بڑھ کر کوئی تبدیلی لانے کے قابل نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کو صرف انتخابات تک ہی محدود نہ رکھا اور سمجھا جائے۔ جمہوریت کو بطور ایک سیاسی نظام کے رواج دینے کی ضرورت ہے جس کے جملہ تقاضوں میں سر فہرست، تعلیم کا فروغ اور معاشی پسماندگی و معاشرتی ناہمواریوں کا خاتمہ ضروری ہے۔


