شب یلدا اور پاکستان
رات گیارہ بجے ہی سو گئی شاید دوا میں نیند تھی لیکن دو گھنٹے بعد ہی آنکھ کھل گئی، سیل فون اٹھا کر وقت دیکھا ارے ابھی تو صرف ایک بجا ہے دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن کروٹیں بدلنے سے نیند اچٹ گئی چلو فیس بک دیکھتے ہیں۔
دو تین پوسٹس اسکرول کیں دوستوں نے شب یلدا کا ذکر کیا ہوا تھا، کسی نے شب یلدا پہ نظم اور کسی نے شب یلدا کے بارے میں معلومات لکھیں تھیں، آج اکیس اور بائیس دسمبر کی رات جسے سال کی طویل ترین رات بھی کہتے ہیں اس کے گزرنے کے بعد دن کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے، یونہی فیس بک پر وقت گزاری ہو رہی تھی کہ ڈھائی بجے بجے لائٹ چلی گئی اب تو بستر سے اٹھنا ہی پڑا کیونکہ یوپی ایس پر جو لائٹ تھی وہ جلائی، میں مکمل اندھیرے میں نہیں رہ سکتی، عجب وحشت ہوتی ہے کافی دیر ہو گئی واقعی شب یلدا تو رینگ رینگ کر گزر رہی ہے۔
اپنے ارد گرد کے حالات اور زندگی کی کشا کش پر غور کیا تو یوں محسوس ہوا کہ شب یلدا تو ٹھہر گئی ہے اور اس کی تاریکی میں ہم سب گم ہوچکے ہیں۔ ملکی حالات بھی اس طویل رات کی طرح بدلنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ ایک بے یقینی سی بے یقینی ہے، کوئی سمت نہیں کوئی راہ نہیں۔ معاشی، معاشرتی، زرعی، صنعتی کوئی شعبہ مستحکم نہیں۔ لیپا پوتی سے سب اچھا ہے کا تاثر دیا جا رہا ہے، ہر ایک الیکشن ہونے کا منتظر ہے کہ اس کے بعد حالات بہتر ہوں گے کاروبار چلنے لگے گا، پراپرٹی اٹھ جائے گی، روزگار کے مواقع نکل آئیں گے۔ وہی پرانے نعرے، پرانے وعدے، پرانی قسمیں نئے لبادے میں پیش کی جا رہی ہیں۔ عوام یقینی اور بے یقینی کے پلڑوں میں جھول رہے ہیں، امید ہے سب بہتر ہو لیکن
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
جیسے یہ الیکشن جادو کی چھڑی کی طرح سارا سیٹ اپ بدل دیں گے۔ سیاست دان شاید بہت بھولے ہیں یا پھر بہت کائیاں ہیں کہ اڑتی چڑیا کہ پر گن کر ہمیشہ کی طرح عوام کو بے وقوف بنانے آ گئے ہیں، یہ معاملات ہی کچھ اور ہیں، پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا اور چلانے والے چلاتے رہیں گے۔ مداری بندر نچا نچا کر معصوم بچوں کو خوش کرتا ہے ایسے ہی عوام بہل جائیں گے جبکہ شکنجہ اتنا کسا جا رہا ہے کہ روٹی پانی کے سوا کچھ نہیں سوجھے گا۔
خالی پیٹ اور ننگے بدن، ان پڑھ بچے ہمیں نظر نہیں آتے یا ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے آنکھوں پر خوش فہمی کا پردہ جو پڑا ہوا ہے۔ ہر جماعت اسی رسا کشی میں لگ گئی ہے جو ہمیشہ سے الیکشن کے موقع پر ان کا وتیرہ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے بھاشن دیے جا رہے ہیں مایوسی کفر ہے، ہم معیشت کا پہیہ چلا دیں گے، ہر ایک اپنی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے لیکن دیکھنے والوں کو چاروں طرف اندھیرا نظر آ رہا ہے گھپ اندھیرا۔ پاکستان کے لیے تو اتنا بڑا یو پی ایس بھی نہیں بنایا جاسکتا کہ کچھ روشنی ہو سکے کیونکہ یوپی ایس کو پہلے چارجنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے پاس وافر بجلی ہی نہیں۔ شب یلدا کے بعد تاریکی کا دورانیہ کم ہونے لگتا ہے اور روشن دن بڑے ہونے لگتے ہیں لیکن پاکستان میں شب یلدا آئی اور آ کر ٹھہر گئی۔


