تحریک انصاف سیاسی افراتفری سے گریز کرے!
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات نہ ہوئے تو افراتفری پھیلے گی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید وضاحت تو نہیں کی لیکن موجودہ سیاسی صورت حال اور تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز کی روشنی میں تحریک انصاف کے قائدین کو مبہم اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات مسترد کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کو نیا چیئرمین ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے تحریک انصاف کو ’بلا‘ انتخابی نشان کے طور پر دینے سے انکار کیا تھا۔ پارٹی اس فیصلہ پر سراپا احتجاج ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو سازش یا نام نہاد لندن پلان کا حصہ کہا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسی طرح کی بے بنیاد اور بلاجواز الزام تراشی، سیاسی مخالفین کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھنے اور ملکی نظام کے ساتھ چلنے سے انکار کی وجہ سے ہی عمران خان اور تحریک انصاف موجودہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالات کا تقاضا تو یہی تھا کہ پارٹی قیادت ایسے موقع پر غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کرتی کہ اسے ملک اور نظام کے لیے خطرہ یا اندیشہ نہ سمجھا جاتا۔ تاہم بظاہر پارٹی قیادت جارحانہ رویہ اختیار کرنے ہی کو اپنی سب سے موثر طاقت سمجھ رہی ہے۔
اس طریقہ کار سے پارٹی کے نوجوان حامیوں کے جوش و ولولہ میں تو اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ تاثر مستحکم کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے کہ ان کا لیڈر ’ڈٹا‘ ہوا ہے۔ لیکن قائدین کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عمران خان کس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں؟ یا پارٹی اپنی شکایات کی بنیاد پر پورے ملکی نظام کو اسکینڈل میں تبدیل کر کے آخر کون سا مقصد حاصل کر سکتی ہے؟ اس طرز عمل کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ انتخابات میں خواہ کیسی ہی دھاندلی کرلی جائے لیکن تحریک انصاف کو بہت واضح اکثریت حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ شاید عمران خان بھی اس بات پر یقین کرتے ہیں۔ لیکن عمران خان ہمیشہ سے زمینی حقائق سے نابلد رہے ہیں۔ اس وقت تو وہ جیل میں بند ہیں۔ اگرچہ سائفر کیس میں سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت قبول کرلی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں رہا کر دیا جائے گا یا اس کیس پر کارروائی رک جائے گی۔
عمران خان کے اندازے، ان چند وکیلوں کی معلومات اور موقف کی بنیاد پر استوار دکھائی دیتے ہیں جو مسلسل ان سے ملتے ہیں۔ عمران خان کی حراست اور پارٹی لیڈروں کے خلاف وسیع بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر لیڈر یا تو پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور اگر حراست میں نہیں تو روپوش ہیں۔ ان حالات میں تحریک انصاف عملی طور سے غیر فعال ہے۔ ان حالات میں عمران خان سمیت پارٹی قیادت کی اولین ترجیح تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ پارٹی منظم کرنے کی کوشش کریں۔ متبادل قیادت روز مرہ امور کی نگرانی کرنا شروع کرے۔ اور انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کو ایک موثر اور فعال سیاسی قوت کے طور پر سامنے لائے۔ اگر پارٹی لیڈر یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کوئی ادارہ یا ملکی نظام کسی بھی نا انصافی کے باوجود پارٹی کی سیاسی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا تھا۔ انتخابات خواہ سو فیصد شفاف نہ بھی ہوں پھر بھی ایک منظم سیاسی قوت کو میدان سے باہر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی کارکردگی کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
تحریک انصاف اس وقت درحقیقت ان ہی حالات کا سامنا کر رہی ہے جو 2018 میں مسلم لیگ (ن) کو درپیش تھے۔ لیکن پارٹی نے اپنی سرکردہ قیادت کی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود، سیاسی میدان خالی نہیں کیا تھا۔ پارٹی کا ڈھانچہ استوار رہا اور الیکٹ ایبلز اپنی تمام تر مفاد پرستی کے باوجود پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ سال بعد مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر نمایاں سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے برعکس تحریک انصاف پارٹی کی تنظیم کرنے اور اہم لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے، محض قیاس آرائیوں، اندازوں اور دعوؤں کے سہارے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلا کر خود کو مقبول ترین سیاسی جماعت ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ میڈیا میں عام طور سے کہا جاتا ہے کہ عمران خان ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ لیکن کیا ایسے دعوؤں سے کوئی پارٹی کامیاب ہو سکتی ہے یا کوئی لیڈر بڑا لیڈر بن جاتا ہے؟ مناسب ہوتا کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین ٹھنڈے دل و دماغ سے اس معاملہ پر غور کر کے، خوشامدی عناصر کی باتوں میں آنے کی بجائے خود اپنی سوجھ بوجھ اور ملکی حالات کے تناظر میں کوئی ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی بنانے کی کوشش کرتے۔
اس کے برعکس پارٹی کے ترجمان ہی نہیں عمران خان بھی اسی گمان میں مبتلا ہیں کہ وہ اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں اور ملک کا نوجوان ووٹر ان کے ساتھ ہے اور 8 فروری کو جوق در جوق باہر نکل کر تحریک انصاف کو دبانے کی ہر کوشش ناکام بنا دے گا۔ یہ خوش گمانی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی خوشنما تصور کو ہزار بار، ہزار مختلف طریقوں سے کہنے کے باوجود اسے حقیقت حال نہیں کہا جاسکتا۔ اس کا فیصلہ تو بہر صورت انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہو گا۔ البتہ تحریک انصاف انتخابات کا انتظار کیے بغیر اپنی واضح اور بے مثال کامیابی کا اعلان کرنا چاہتی ہے حالانکہ جس امتحان میں کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں اس میں بیٹھنے کی تیاری نہیں کی جا رہی۔ اس نعرے کا انتخابی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ’عمران خان اگر کسی کھمبے کو بھی امیدوار بنا دیں گے تو لوگ اسے ہی کامیاب کروائیں گے اور باقی سب لیڈر منہ تکتے رہ جائیں گے‘ ۔ اگر یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے اور تحریک انصاف کو اس پر ویسا ہی یقین ہے جیسا کہ اس کے پروپیگنڈا گرو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بتایا جائے کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کی طرف سے ’بلے‘ کا نشان نہ ملنے پر کیوں جزبز ہے؟
بیرسٹر گوہر علی خان الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد بتا چکے ہیں کہ ’اگر کسی پارٹی سے اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا جائے تو وہ دو سو سے زائد مخصوص نشستوں میں حصہ حاصل نہیں کر سکے گی اور اس طرح اس پارٹی کے لیے سینیٹ میں اپنے امید وار منتخب کروانے کی امید دم توڑ جائے گی‘ ۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ اور ملکی جمہوری نظام کے حقائق سے مطابقت رکھنے والا موقف ہے۔ دیگر پہلوؤں سے بھی تحریک انصاف کے لیڈروں کو ایسا ہی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن یا کسی عدالت کی طرف سے اپنے خلاف ہر فیصلے کو سازش یا ریاستی جبر قرار دینے سے کوئی پارٹی عملی رکاوٹیں کیوں کر دور کر سکے گی۔
الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس حد تک تو ناجائز کہا جا سکتا ہے کہ کمیشن نے باقی پارٹیوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی سکروٹنی اسی انداز میں نہیں کی۔ البتہ دوسروں کے ساتھ موازنہ کسی عدالت میں دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ تحریک انصاف ’بلا‘ کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے جب کسی بھی عدالت میں جائے گی تو اسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ پارٹی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی پارٹی آئین کا احترام نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو ریلیف دیا ہے اور سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور کرنے کے علاوہ الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کو ’لیول پلینگ فیلڈ‘ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے انتظامی حکام کو ہدایت کی ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔ عدالتی فیصلے اور اداروں کی طرف سے ’انصاف‘ یوں ہی فراہم ہوتا ہے۔ یہی ہمارے ملک کا نظام ہے۔ تحریک انصاف کو اس حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی انتخابی حکمت عملی بنانا ہوگی۔ اگر پارٹی اکا دکا واقعات کو سوشل میڈیا یا خبروں کے ذریعے کوئی قیامت خیز نا انصافی بنا کر پیش کرے گی تو عدالتوں کا صبر بھی جواب دے جائے گا۔
عمران خان خود ملکی نظام کی سرپرستی سے ہی سیاست دان بنے تھے اور گزشتہ انتخابات میں ان کے جیتنے کا اہتمام بھی اسی طریقے سے ہوا تھا جس طریقے سے اب انہیں ہرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس طریقے کو ناکام بنانے کے لیے سب سے پہلے تو ماضی کی غلطیوں کو مان لینا ضروری ہو گا اور مستقبل میں ویسی ہی غلطیوں سے تائب ہونے کا وعدہ کرنا ہو گا۔ لیکن احتجاج اور اداروں کو دھمکانے کے بین السطور تحریک انصاف کے لیڈروں کی بات چیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ درحقیقت انہی اداروں کی سرپرستی کا ’مطالبہ‘ کر رہے ہیں جن سے ٹکر لینے کے بعد اب تحریک انصاف کی حالت دیوار سے سر ٹکرانے جیسی ہو گئی ہے۔ سیاسی کامیابی کے لئے جذباتی نعروں کی بجائے ملکی پارلیمانی نظام کے حقیقتوں کو مان لینے سے ہی عمران خان اپنی سیاست بچا سکتے ہیں۔ لیکن جیل میں ان سے ملنے والے شاید انہیں یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ کم از کم اپنی جگہ چیئرمین کے عہدے کے لیے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر خان کے آج کے بیان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔
گوہر خان نے شفاف انتخاب نہ ہونے کی صورت میں افراتفری کا انتباہ دیا ہے۔ اس سے یہی مراد لی جائے گی کہ تحریک انصاف کو اگر اس کی خواہش کے مطابق ’انتخابی کامیابی‘ نہ ملی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ حالانکہ اسے کہنا چاہیے کہ وہ انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس وقت ملک جن حالات کا سامنا کر رہا ہے، ان کی روشنی میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کون سی پارٹی کتنی سیاسی کامیابی حاصل کرے گی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر ملک کو موجودہ معاشی بحران سے باہر نکالنا ہے تو انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو اطمینان سے کام کرنے کا موقع دینا ہو گا۔ آثار یہی بتا رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد عسکری یا عدالتی قیادت احتجاج کے نام پر ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
ملک 2024 میں داخل ہو رہا ہے۔ اب 2014 یا 2019 کا طریقہ دہرانا ممکن نہیں ہو گا۔ ملک کی سب سیاسی قوتوں کو حالات کی اس نزاکت کو سمجھتے ہوئے طرزعمل اختیار کرنا چاہیے۔


