کرسمس کا تہوار اور نگران حکومت کا مایوس کن رویہ
کرسمس مسیحیوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں یہ بھی یہ تہوار بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے مگر اس سال نگران حکومت کے مایوس کن رویہ کے باعث پاکستان کے مسیحی یہ تہوار پریشانی کے عالم میں منا رہے ہیں۔ ماضی میں کرسمس کے موقع پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کرسمس گفٹ کی صورت میں مسیحیوں کی مالی امداد کی جاتی رہی ہے۔ سیاسی شخصیات یا ضلعی انتظامیہ کے توسط سے مسیحی کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرستیں وفاقی اور صوبائی حکومت کو بھجوائی جاتی تھیں جس کے بعد فی خاندان پانچ ہزار روپے دیے جاتے تھے تاکہ مسیحی اپنے تہوار کو بھرپور انداز میں منا سکیں۔
اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے خصوصی گرانٹ جاری کی جاتی رہی ہے ’تاہم اس سال اس طرح کی کوئی گرانٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔ اگرچہ کرسمس گفٹ کے طور پر ملنے والے یہ پانچ ہزار روپے بہت تھوڑے اور اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تھے مگر اس کے باوجود کرسمس کے موقع پر ملنے والی یہ رقم کسی بھی خاندان کے لئے یہ غیبی امداد سے کم نہیں تھی‘ کیونکہ اس سے بچوں کی کرسمس کی شاپنگ ہو سکتی تھی ’بچوں کو پارک میں لے جایا جا سکتا تھا‘ مگر نگران حکومت کو شاید مسیحیوں کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں پسند نہیں آئیں جس کی وجہ سے اس کرسمس کے موقع پر مسیحیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔
کرسمس کے موقع پر مسیحیوں کو نظر انداز کرنے کی یہ تو نگران حکومت کی ایک مثال ہے مگر اس کرسمس کے موقع پر نگران حکومت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر بھی مسیحیوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے ’فیصل آباد میں ہر سال کرسمس کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تقریبات کے انعقاد کے لئے دو سے تین لاکھ روپے دیے جاتے رہے ہیں‘ جن موسیقی کے مقابلوں سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کروایا جاتا رہا ہے مگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس سال یہ فنڈز جاری نہیں کیے گئے ہیں ’چلیں بات اگر خصوصی فنڈز تک ہی ہوتی تو شاید کچھ بھر رہ جاتا مگر اس کرسمس کے موقع پر مسیحی ملازمین کو ایڈوانس تنخواہ (جس کا کہ خود حکومت نے اعلان کیا ہے ) بھی نہیں مل سکی ہے۔
فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں تین ہزار چھ سو کے لگ بھگ مسیحی ملازمین ہیں جن میں زیادہ تعداد سینٹری ورکرز کی ہے جو شدید سردی میں علی الصبح گلیوں اور بازاروں کی صفائی کرتے ہیں اور ہمارا گند اٹھاتے ہیں‘ تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان ملازمین کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے احتجاج کیا جا رہا تھا مگر اس کے باوجود انہیں ایڈوانس تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں ’میری معلومات کے مطابق گجرانوالہ ضلع میں بھی یہی صورت ہے وہاں پر بھی سینٹری ورکرز اور مسیحی ملازمین کو کرسمس کے موقع پر ایڈوانس تنخواہ نہیں مل سکی ہے۔
میرا تعلق فیصل آباد سے ہے میں دیکھتی رہی ہوں کہ کرسمس کے موقع پر ہر سال میرے شہر میں خاصی گہما گہمی ہوتی ہے‘ گھروں پر چراغاں کیا جاتا ہے ’گلیاں سجائی جاتی ہیں مگر اس کرسمس کے موقع پر ایسا جوش و خروش نظر نہیں آ رہا ہے اس کی وجہ مہنگائی کے ساتھ نگران حکومتوں کی جانب سے کرسمس کے موقع پر مسیحیوں نظر انداز کیا جانا اور مایوس کن رویہ بھی ہے۔


