اجتماعی شعور – جرمنی اور پاکستان


میرا کزن جرمنی میں رہتا ہے۔ وہ بتا رہا تھا کہ وہاں ہر چیز کی انشورنس لینا پڑتی ہے۔ گاڑی، صحت، وغیرہ کی انشورنس لازمی ہے۔ اس کے بغیر مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ جرمنی منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ میرا کزن اپنی بیوی بچے کے ساتھ دوسرے شہر گیا۔ وہاں گاڑی سے اترتے ہوئے بے دھیانی میں اس کی بیگم نے دروازہ کھولا جو برابر میں کھڑی گاڑی کے دروازے پر معمولی سا نشان ڈال گیا۔

وہاں آس پاس کوئی نہیں تھا۔ گاڑی والا بھی موجود نہیں تھا۔ میرے کزن نے اپنا رابطہ نمبر ایک پرچہ پر لکھا اور گاڑی کے وائپر میں پھنسا دیا۔ اس پر لکھ دیا کہ ہماری غلطی کی وجہ سے آپ کی گاڑی کے دروازے پر نشان پڑ گیا ہے۔ آپ درج فون نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

کچھ دن بعد دوسرے شہر سے فون آیا۔ گاڑی کے مالک نے پوچھا آپ کے پاس لائبیلیٹی انشورنس ہے؟ ہم اس سے پیسے تلافی کر لیں گے کیونکہ دروازہ پورا پینٹ ہو گا۔ میرے کزن نے کہا کہ میرے پاس یہ سہولت نہیں ہے۔ گاڑی کے مالک نے افسوس کا اظہار کیا اور مشورہ دیا کہ لازمی یہ انشورنس لیجیے۔ اگر آپ کی سائیکل سے بھی کسی کی گاڑی پر نشان پڑ جائے تو نقصان بھرنا پڑ جاتا ہے۔ آپ کے پاس انشورنس نہیں ہے تو رہنے دیجئے، ہم خود پینٹ کا خرچہ برداشت کر لیں گے۔

میرے کزن نے ان سے کہا کہ آپ پینٹ کروائیے، میں پورا خرچہ ادا کروں گا۔ گاڑی کے ایک دروازے پر کلر ہوا اور پاکستانی حساب سے ایک خطیر رقم، یورو میں میرے کزن کو بھرنی پڑی۔
ذرا غور کیجئے، پاکستان میں رہتے ہوئے آپ توقع کر سکتے ہیں کہ آپ کی گاڑی پر کوئی نشان ڈال دے اور پھر اپنا نمبر چھوڑ کر جائے کہ مجھ سے رابطہ کیجیے گا، یہ میری غلطی ہے؟

کچھ ہفتے پہلے ہمارے علاقے کے قریب فلیٹس کے نیچے دکانوں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی جس کو چوبیس گھنٹے میں بجھایا جا سکا۔ دکانیں اور ان میں رکھا سامان اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے اوپر بنے فلیٹس جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ان دکانوں اور فلیٹس والوں نے انشورنس کرا رکھی ہوگی؟

یہاں تو شعور کا یہ حال ہے کہ میرا دوست انجکشن لگوا کر اسپتال سے نکلا، راستے میں غنودگی کی وجہ سے اس نے اپنی کار آگے والی گاڑی سے ٹکرا دی۔ اگلی گاڑی اگرچہ امیر کبیر لوگوں کی تھی مگر انہوں نے بتایا کہ ہم انشورنس نہیں کرواتے۔ یہ جائز نہیں ہے۔ آپ گاڑی بنوا دیں، جو خرچہ آئے وہ ادا کردیجئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذہبی تعلیمات کی وجہ سے بیرون ملک رہنے والے لوگوں کا شعور بلند ہے؟
ستر سال سے مذہب پڑھنے پڑھانے کے باوجود یہاں لوگ نئی گاڑی پر جان بوجھ کر چابی سے نشان ڈال کر چلے جاتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟
بیچ روڈ پر گاڑی کھڑی کردی جاتی ہے چاہے گزرنے والے لوگوں کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

اصل بات یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی شعور ہے جس نے اس ریاست میں جاہل، بے حس اور نکمے لوگوں کے ہاتھوں میں ہماری باگ ڈور تھما دی ہے۔ یہ سب لوگ ہمارے درمیان سے ہی اٹھ کر ایوانوں میں جاکر بیٹھے ہیں۔ ان کا شعور بھی ہماری سوچ جیسا ہے۔ اس وجہ سے ہر کوئی اپنی نبیڑنے میں لگا ہوا ہے۔

آگسٹائن کہتا ہے کہ ”وہ جزو باعث شرم ہے جو کل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے“

اجتماعی خیر کی پذیرائی کرنا اور اسے آگے بڑھانا کسی ایک شخص کے خیر کو تقویت دینے سے زیادہ الوہی اور بہتر ہے۔ آپ لاکھ مسجد میں نماز کے بعد ہزاروں سال پرانے مقدس لوگوں کے قصے عوام کو سنائیں، کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک ان کا شعور بلند نہیں ہو گا۔ آپ لاکھ فتوی دیں، کوئی بے ہودہ کام اس وقت تک آپ کے معاشرے سے ختم نہیں ہو پائے گا جب تک لوگوں کا ذہن اس برے کام کو حقیقت میں برا نہ سمجھنے لگے۔ مرنے کے بعد آپ کا شعور ہی زندہ رہے گا بشرطیکہ آپ نے اس کو بلند کیا ہو اور آنے والی نسلوں کے لیے عقل و خرد کی آبیاری کی ہو۔

نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہے
جنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہے
حقیقتوں سے جو ہوتا ہے آشنا اے دوست
تو اس کے واسطے راہ خطر ضروری ہے
عبیدؔ دوسروں کو کر چکے بہت تلقین
اب اپنے آپ پہ بھی اک نظر ضروری ہے
ابو جون رضا

Facebook Comments HS