طویل تعطل کے بعد نئی شروعات
اٹھارہ اکتوبر 2022 ء کو میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا، گاڑی تباہ ہوئی مگر میں بفضل خدا بچ گیا۔ اٹھارہ اکتوبر 2022 ء کو آخری کالم بھی اسی حادثے کے تناظر میں لکھا اور پھر ایسا تعطل آیا کہ سستی اور تساہل نے قلم اٹھانے ہی نہیں دیا۔ سال بھر کے عرصے میں ملک خداداد پاکستان میں ایک ایسا طوفان آیا کہ بہت کچھ اڑا کر لے گیا۔ رجیم چینج کے اس طوفان کی لپیٹ میں تحریک انصاف کی حکومت آئی، عمران خان کے دورۂ روس نے ایک ایسی ہلچل پیدا کی کہ معاملہ سائفر سے شروع ہوا اور تحریک عدم اعتماد پہ ختم ہوا۔
تحریک انصاف کے بہت سے لوگ توڑ لئے گئے، حکومت ختم ہو گئی مگر عوام اٹھ کھڑی ہوئی۔ مہنگائی کا بہانہ بنا کر اپوزیشن سڑکوں پہ تھی، یہ وہ اپوزیشن تھی جو پہلے ایک دوسرے کے خلاف سر بگریباں رہتی تھی اب ایک عمران خان کے خوف میں اکٹھی ہو گئی اور مہنگائی کے نام پر تحریک عدم اعتماد کی منظم کامیابی کے بعد حکومت میں تھی۔ تیرہ جماعتی اتحاد نے حکومت تو سنبھال لی مگر عوام نے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا، عوام سڑکوں پہ آ گئی، عمران خان نے جارحانہ روپ دھار لیا اور پاکستان کے حالات میں ہر روز گردباد اٹھنے لگے اور طوفانی کیفیات میں اضافہ ہونے لگا۔
عمران خان کی تحریک زور پکڑنے لگی تو اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام طاقتیں اس کے خلاف ہوتی گئی۔ حکومت نے عمران خان کے خلاف کیسز کی بھرمار کر دی اور انہیں ہر حال میں گرفتار کرنے کے در پہ ہو گئی۔ حکومت عمران کو روکنے کے چکر میں تھی تو عوام ا اپنا موڈ چینج کر چکی تھی۔ عمران خان کو رستے سے ہٹانے کا ہر حربہ آزمایا جانے لگا، حتٰی کہ گولیاں بھی چلا دی گئیں۔ عمران خان زخمی تو ہوئے مگر ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے چلے گئے اور عوام کی ان سے محبت بھی بڑھتی چلی گئی۔
زمان پارک مرکز و محور تھا محبان عمران اور تحریک انصاف کے دیوانوں کا۔ زمان پارک میں میلے کا سماں رہنے لگا۔ حکومت بوکھلائی ہوئی تھی اور عمران خان کو رستے سے ہٹانے کا ہر حربہ آزمانے کے در پہ تھی۔ قاتلانہ حملہ بیکار گیا۔ کیسز کی بھرمار کر دی گئی اور گرفتاری کی کوششیں تیز کر دی گئیں مگر عمران کے دیوانے ڈھال بن گئے۔ عمران خان کی گرفتاری کار محال بن کر رہ گئی۔
کیسز بڑھتے گئے، تحریک میں تیزی آتی گئی۔ عمران خان کے ساتھیوں کے خلاف کیسز بنتے گئے، گرفتاریاں ہونے لگیں، شہادتیں شروع ہو گئیں۔ عمران خان کے نظریے کے ساتھ میڈیا بھی کھڑا تھا، عوام بھی کھڑے تھے، علماء بھی کھڑے تھے، بچے، بوڑھے، خواتین سب عمران کے ساتھ تھے۔ رجیم چینج کے بعد وجود میں آنے والی حکومت نے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کر دیا۔ ایسے میں عوام کو عمران کا دور پھر سے یاد آنے لگا۔ عمران خان کی یو این او میں تقریر، اسلامو فوبیا اور ناموس رسالت کے خلاف آواز بلند کرنا، روس کا دورہ، صحت کارڈ، لنگر خانے، پناہ گاہیں یاد آنے لگے۔
عوام عمران کے ساتھ کھڑی تھی مگر اسٹیبلشمنٹ جس کی کوششوں سے پی ڈی ایم حکومت میں وجود میں آئی تھی کچھ اور ہی چاہ رہی تھی۔ عمران خان کے چاہنے والوں کی قربانیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ارشد شریف شہید ہوئے، ضل شاہ شہید ہوئے کئی زخمی ہوئے، بہت سوں کو پابند سلاسل کیا گیا، تشدد کا کھیل جاری رہا۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جانے لگا، حتٰی کہ علامہ اقبال کی بہو کا گھر تک محفوظ نہیں تھا۔
پی ڈی ایم کے خلاف آوازوں کا ایک شور تھا جو بڑھتا جا رہا تھا اور عمران خان کی تحریک تھی کہ تھم نہیں رہی تھی۔ ایسے میں نو مئی کا سانحہ پیش آ گیا، عمران خان کو بھونڈے انداز سے گرفتار کیا گیا اور اس کی آڑ میں توڑ پھوڑ کا ایک ایسا ڈرامہ رچایا گیا جس نے سارا کھیل ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ نو مئی کی آڑ میں پی ٹی آئی کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیا گیا، عمران خان کے ساتھیوں کو توڑ توڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل کرایا گیا بلکہ کئی ساتھیوں کی تو سیاست سے ہی توبہ کرائی گئی اس تشدد سے میڈیا کے لوگ بھی نہ بچ سکے۔
کئی صحافیوں کو ملک چھوڑنا پڑا، بہت سوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عمران ریاض کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ صوبائی اسمبلیاں توڑی گئیں تو انتخابات سے فرار اختیار کیا گیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا مگر انتخابات سے فرار کی کوششیں کی گئیں۔ طویل قانونی لڑائی کے بعد اب آٹھ فروری 2024 ء کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے مگر خوف اور شک کی فضاء میں دھند ہی دھند دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف تو پچاس روپے کے اشٹام پر بیماری کے بہانے فرار ہونے والے کو پروٹوکول کے ساتھ واپس لایا گیا ہے اور اس کے سارے کیسز بھی ختم کیے جا رہے، اس کی جماعت کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے ساتھ ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بھی رکاوٹیں پیدا کی جا رہیں ہیں۔ کہیں کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں تو کہیں گھروں میں پولیس گردی کروائی جا رہی ہے۔
خدا خدا کر کے آج عمران خان کی سائفر کیس میں ضمانت ہو گئی ہے جبکہ اس کیس میں حکومت کا پورا زور تھا کہ عمران خان کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوائی جائے۔ عمران خان پر کیسز کی بھرمار ہے، حکومت ان سے اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ انہیں کسی صورت رہا نہیں کرنا چاہ رہی۔ انتخابات میں تحریک انصاف کو جیت کے امکانات سے دور کرنے کی پوری کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نگران حکومتیں اور اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کو لانے کی پوری تیاریوں میں ہیں جبکہ عوام کی اکثریت عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی کاوشوں سے تمام الیکٹیبلز کو پارٹی سے الگ کر دیا گیا ہے، استحکام پاکستان پارٹی بنا دی گئی ہے، مگر تحریک انصاف کا خوف ان کے دلوں سے نہیں جا رہا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ان تمام حربوں کے باوجود اگر صاف اور شفاف انتخابات ہوئے تو تحریک انصاف کی جیت یقینی ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کامیاب ہو گئی تو ایک انقلاب کی نوید بن جائے گی اس کے برعکس اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو ملک کسی انارکی طرف بھی جا سکتا ہے اور وہ انارکی کسی خونی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اس لئے حکومت وقت کو چاہیے کہ تمام جماعتوں کو برابری کی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے دے۔ جعلی مقدمات ختم کیے جائیں، ناحق گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور پر امن انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ خوف و ہراس اور بے یقینی کی فضا کا خاتمہ کیا جائے، تاکہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت پاکستان کو فلاح و بہبود اور جمہوریت کے راستے پر لا سکے۔


