اپنے لوگ ہیں بھئی
پچھلے کچھ برسوں میں لشکر کے لشکر آتے رہے اور اسلام آباد کو فتح کرتے رہے۔ کچھ اپنا خرچہ آ کر وصول کرتے اور کچھ وصول کر کے آتے۔ کچھ آگے کی وصولی پکی کر کے شاد کام لوٹتے۔ ڈی چوک، سپریم کورٹ، ایوان صدر پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی بلڈنگ وغیرہ پر حسب استطاعت، حسب شوق یا بنائے حکم اپنی وکٹری کے نشان کے ساتھ اپنی یادیں چھوڑ جاتے۔ کسی کو مورچوں کی ضرورت ہوتی تو وہ کھود کر ان میں رہائش اختیار کر لیتا اور کوئی ریڈ زون میں ویسے ہی خیمہ یا کیمپ لگا لیتا۔
کوئی دو دن رہتا کوئی چار دن رہتا کوئی چار ماہ ریاست اعتراض نہ کرتی بلکہ ”اپنے لوگ“ کہہ کر بلائیں لیتی اور کبھی کبھار ان اپنے لوگوں کو واپسی پر ہنسی خوشی جپھیاں ڈال کے یا مقتدر حلقوں کے دست خطوں سے محبت و ضمانت نامے بانٹ کر بھی واپس بھیج دیتی۔ اسی عالم محبت میں چین جیسے قریبی دوست کے صدر کو بھی طے شدہ دورہ کینسل کرنا پڑے تو ریاست کی بلا سے۔ اپنے مہمانوں کو اولیت حاصل تھی۔ 24 گھنٹے کی لائیو کوریج موسیقی کی سہولت اس کے علاوہ تھی۔
آخر کو ایکشن بھی کس بات پر لیا جاتا اپنے ہی لوگ تھے ان کا اپنا دارالحکومت تھا۔ جگ جگ جئیں، جب آئیں جب جائیں اور جتنا مرضی رہیں۔ اس دوران سردی لگے تو بے شک درختوں اور پودوں کو جلا کر خیمے گرم کریں اور حوائج ضروریہ ہوں تو چاہے ریڈ زون کو بیت الخلا بنا دیں ریاست کے ماتھے پر بل نہیں آتا تھا۔ ایسے میں اگر کسی من موجی کو خیال آتا کہ آئے ہوئے تو ہیں ہی کیوں نہ وزیراعظم سے استعفیٰ لیتے جائیں تو وہ وہیں کھڑا ہو کے استعفیٰ مانگ لیتا۔ اگر کسی ترنگ میں سول نافرمانی پہ موڈ کرے تو وہیں پہ سول نافرمانی کا اعلان ہو جاتا۔ کسی کا دل ہوتا کہ تھوڑی دیر کے لیے پی ٹی وی کی نشریات روک لی جائیں تو روک لی جائیں۔ کسی کو اسلام کا چوبیس گھنٹوں میں نفاذ درکار ہے تو بھئی درکار ہے جھجک کس بات کی۔
آزادی اظہار کا واللہ وہ منظر دیکھا کہ جناح کی دی ہوئی آزادی اس کے مقابل پھیکی لگنا شروع ہو گئی۔ اگر وزیروں سفیروں ججوں کو گلیاں بدل کے یا باڑیں پھلانگ کے دفاتر میں آنا پڑتا تو اتنی سی تکلیف ریاست کے لیے بڑا مسئلہ کبھی نہیں بنی۔ سرکاری دیواروں پر پرچموں کے ساتھ سوکھتی شلواریں دونوں یکساں آزادی کا استعارہ سمجھی جاتی تھیں۔
اب وہی اسلام آباد ہے اور سرد دسمبر ہے مگر کچھ ایسے لوگ مارچ لے کر آ گئے ہیں جو نہ تو دیواریں پھلانگنے آئے ہیں اور نہ ہی استعفیٰ لینے۔ ان کو سول نافرمانی یا کسی نظام کی تبدیلی سے بھی دلچسپی نہیں لگتی۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور غلیلیں نہیں ہیں۔ ان میں کوئی علانیہ کفن پوش بھی نہیں اور نہ ہی ان کو کسی راتوں رات کی کسی تبدیلی سے دلچسپی ہے۔ ان بھٹکے بھولے لوگوں کو وہ کچھ بھی میسر نہیں جو یہاں پر ہر چڑھائی کرنے والے کو دستیاب تھا۔
نہ ناچ گانا، نہ کوریج، نہ کنٹینر نہ موسیقی۔ شاید یہ لوگ اس خوش گمانی پر آئے ہوں کہ اس دربار پر آنے والے سبھی اپنے لوگ ہی سمجھے جاتے ہیں اور یکساں من کی مرادیں پوری کر کے لوٹتے ہیں۔ ان بھولے بادشاہوں کو کیا معلوم کہ سیکیورٹی ریاستیں چاہتے ہوئے بھی سب کو اپنا کہہ کر کاروبار ریاست نہیں چلا سکتیں۔ ایسے چونچلے صرف فلاحی ریاستوں کو ہی زیبا ہیں۔


