جد دوست نہیں ہوندا: احمد سلیم کی یاد میں
احمد سلیم صاحب کے ساتھ میرا پہلا تعارف سارہ شگفتہ کے بارے میں ان کی ایک کتاب کے توسط سے اس وقت ہوا جب میں ابھی چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کے بعد مجھ سمیت سندھ بھر میں ان کا سب سے معتبر ترین تعارف سندھ کی دھرتی، ادب، شاعری اور ثقافت کے ساتھ ان کی دلی وابستگی تھی، جس کی بنیاد سندھی زبان کے مہا کوی شیخ ایاز کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی تھی۔ سندھ کا ہر ایک شاعر، ادیب، دانشور چاہے وہ جس بھی عمر میں ہو، احمد سلیم کی سندھ سے محبت کی داستان سے واقف ہے۔ شیخ ایاز کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کی کہانی زبان زد عام ہے۔ یہ کہانی احمد سلیم کی زبانی جتنی مرتبہ بھی سنی، نئی اور دلفریب لگی۔
کہانی کچھ یوں ہے۔ شیخ ایاز کو پڑھنے اور ان کے بارے میں سننے کے بعد احمد سلیم سکھر میں ان سے ملنے جاتے ہیں۔ شیخ ایاز کے وکالت والے دفتر میں بسا اوقات پنجاب سے کئی لوگ ان کے زمینوں کے کلیم کے کیس لڑنے کی گزارش لے کر آتے رہتے ہیں۔ احمد سلیم سے بھی شیخ ایاز کا ملازم سوال پوچھتا ہے کہ ”کیا کوئی زمین کا معاملہ ہے؟“ ۔ احمد سلیم جواب دیتے ہیں کہ معاملہ تو زمین کا ہی ہے، لیکن شیخ ایاز کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کر کے ہی بتائیں گے۔
ملاقات ہوتی ہے۔ زمین اور زمین والوں کی بات ہوتی ہے۔ احمد سلیم نے شیخ ایاز کی شاعری کے کچھ پنجابی تراجم کیے تھے، جو انہیں پیش کیے گئے، شیخ ایاز کو تراجم پسند آئے اور ایک ایسے تعلق کی بنیاد بنی جو ایاز کے بعد سندھیوں کی کئی نسلوں کے ساتھ احمد سلیم نبھاتے رہے۔ شیخ ایاز کی شاعری کے پنجابی ترجمے پر مشتمل کتاب ”جو بیجل نے آکھیا“ کو آخری وقت تک احمد سلیم اپنی بہترین کتابوں میں گنواتے رہے۔
جس کام کے لئے شیخ ایاز نے انہیں ستر کی دہائی میں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے سندھ یونیورسٹی بلایا اس میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کا پنجابی ترجمہ، شاہ حسین کی پنجابی شاعری کا سندھی ترجمہ اور دیگر کئی اہم امور تھے لیکن یہ سندھ کی بدقسمتی ٹھہری کہ ضیائی آمریت کے کارندے بنے ہوئے ایک سندھی ادیب جو اس وقت سندھیالوجی کے سربراہ تھے، نے وہ مسودے ہی گم کر دیے کیوں کہ شاہ لطیف کی شاعری کے پنجابی ترجمے کا انتساب احمد سلیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام کیا تھا۔ یہ ایک ایسا ادبی اور تاریخی سانحہ ہے جس کا ازالہ شاید کبھی ممکن نہ ہو۔
احمد سلیم کے ساتھ ان کے ایک مداح کی حیثیت میں ملنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری تھا، تاہم میری ان کے ساتھ ذاتی قربت اور وابستگی اس وقت مضبوط ہوئی جب ہم نے اسلام آباد میں انڈس کلچرل فورم کی بنیاد رکھی۔ 2016 میں ہم نے پہلی بار پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ منعقد کیا جس میں احمد سلیم کو بھی مدعو کیا۔ اس سے قبل وہ سندھ گریجوئیٹ ایسوسی ایشن کے شاہ لطیف سینٹر میں ہماری دعوت پر تشریف لاتے رہے تھے لیکن پاکستان بھر کی مادری زبانوں کا میلہ منعقد کر کے جیسے ہم نے ان کی کسی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنا کر انہیں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔
جب وہ میلے میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے پنجابی زبان کے ادیبوں کی کم شرکت، پنجابی کتابوں کا کوئی اسٹال نہ ہونے وغیرہ کی شکایت کی۔ میں نے کہا ہمیں شاید مناسب رہنمائی اور مشاورت میسر نہیں تھی۔ لیکن انہوں نے اس امر کو منفی طور پر لینے کے بجائے مجھے پیشکش کی کہ ”آج سے میں اس میلے کا اور انڈس کلچرل فورم کا کارکن ہوں“ ۔ یہ بات صرف کہنے کی حد تک نہیں تھی لیکن گزشتہ آٹھ سال میں سوائے ایک آدھ سال کے جب ان کی طبیعت ان کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی، وہ ہر میلے کی تیاریوں میں ہمارے شانہ بشانہ رہے۔
ایجنڈا بنانے، مقررین اور منصفین کی نشاندہی کرنے، انتظامات میں رہنمائی کرنے، فنڈ ریزنگ کرنے اور حاسدین کے خلاف میلے کا عملی اور تحریری طور پر دفاع کرنے تک ان کا کلیدی کردار رہا۔ احمد سلیم صاحب نے کبھی اپنے لئے کوئی خاص توقع نہیں رکھی، کبھی کسی اہم نشست پر بیٹھنے کا تقاضا نہیں کیا۔ ایک بار ہم نے انہیں مشاعرے کی صدارت کے لئے منتخب کیا تو انہوں نے وہ صدارت انور شعور صاحب کے سپرد کردی کہ میں تو میزبان ہوں، صدارت مہمان کا حق ہے۔
جیسا کہا کہ کارکن ہوں تو انہوں نے اپنے آپ کو کارکن ہی سمجھا۔ ان کی رہنمائی صرف پنجابی یا اردو یا سندھی زبان تک محدود نہیں تھی لیکن ہمارے فورم میں یہ خیال عام طور پر پایا جاتا تھا کہ آپ کو جس بھی زبان کا کوئی نمائندہ نہ ملے تو احمد سلیم کو اس زبان کا نمائندہ سمجھ کر اسٹیج پر بٹھا لیں وہ اس زبان کے ادب اور ادیبوں کے ساتھ اس کے اپنے بولنے والوں سے زیادہ انصاف کریں گے۔ اور کئی بار ہم نے اس بات کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ میں نے ان کو اپنی ضخیم کتاب ”پاکستان کا لوک بیانیہ“ پر جس جان فشانی سے کام کرتے ہوئے دیکھا تو ایسے لگ رہا تھا کہ پاکستان کی ہر زبان ان کی اپنی مادری زبان ہو۔ ہر زبان کا لوک بیانیہ ان کو اتنا ہی عزیز تھا جتنا کسی کو اپنی ماں کی سنائی ہوئی لوریاں عزیز ہوتی ہیں۔
انڈس کلچرل فورم اور اس کی جانب سے مادری زبانوں کا ادبی میلہ انہیں اتنا عزیز رہا کہ جب انہوں نے ڈاکٹر طارق رحمان کی مشہور کتاب ”لینگویج اینڈ پالیٹکس ان پاکستان“ کا اردو ترجمہ شائع کیا تو اس کا انتساب انڈس کلچرل فورم اور مجھ سمیت چند ساتھیوں کے نام کیا۔ یہ ہمارے لئے کسی بھی طرح کسی اعزاز سے کم نہیں تھی اور ان کی یہ شاباشی ہمیں اگلے کئی برسوں تک اس کام سے جڑے رہنے کی ترغیب دینے کے لئے کافی ہے۔ اس سال 2023 کی فروری میں آٹھویں میلے کے موقع پر ان کی آپ بیتی کی کتاب ”میری دھرتی۔میرے لوگ“ شائع ہوئی۔ ہمارا خیال تھا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہ شاید خود شامل نہ ہو سکیں اور ہم نے کتاب کے بارے میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق کی مشاورت سے ایک نشست رکھی تو ڈاکٹر حمیرا نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ اس میلے میں خود شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی میں شاید آخری تقریب تھی جس میں انہوں نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ اس کے بعد ان کی طبیعت بتدریج علیل ہوتی گئی۔ چند سال قبل انڈس کلچرل فورم نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا، جس کو وصول کرنے کے لئے وہ خود تشریف نہیں لا سکے تھے تاہم انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام بھیجا تھا۔
مجھے گزشتہ آٹھ سال میں انہوں نے اتنا قریب آنے دیا جتنا شاید کوئی اپنے سگے رشتہ داروں کو بھی آنے نہ دے۔ کئی بار میں نے ان کی خراب صحت دیکھ کر انہیں آرام کا مشورہ دیا تو انہوں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کہ ”بیمار میں اس دن ہوں گا جس دن میں اپنے آپ کو بیمار سمجھوں گا“ ۔ یہ روش ان کے جگر کی پیوندکاری سے لے کر پارکنسن تک برقرار رہی۔ ان کے عزم اور حوصلے نے انہیں کبھی کام سے دور نہیں رہنے دیا۔ دو سو کے قریب کتابیں لکھنے اور مرتب کرنے کے باوجود جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، ان کے پاس زیر طبع کتابوں کی ایک لمبی فہرست تیار ہوتی تھی۔ وہ اپنی ہر کتاب کی تیاری سے لے کر اس کی اشاعت تک اتنے اشتیاق میں رہتے جتنا واقعی کوئی ماں ایک نئی روح کو دنیا میں لانے کے بارے میں اشتیاق میں ہوتی ہے۔ انہیں کام شروع کرنے سے لے کر اسے مکمل کرنے تک ایک عجیب راحت ملتی تھی جس کا عکس ان کے چہرے پر نمایاں ہوتا تھا۔
وہ گزشتہ دو دہائیوں سے اسلام آباد میں ہمارے دوستوں ڈاکٹر حمیرا اشفاق اور ان کے شریک حیات قیصر صاحب کے ساتھ ان کے گھر کے فرد کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔ ہماری جب بھی ملاقاتیں ہوئیں حمیرا اور قیصر کی میزبانی میں ہوئیں۔ احمد سلیم سے محبت کی وجہ سے انہوں نے ہمیں بھی اپنے دل اور گھر میں ہمیشہ جگہ دی۔ انہوں نے احمد سلیم کے ساتھ رہنے کا ایسا حق ادا کیا جیسا اپنے خون کے رشتے بھی شاید کر پاتے ہوں۔ میں ایک سال ملازمت کی وجہ سے ملک سے باہر رہنے کے باعث ان سے مل نہیں پایا تھا۔
وطن واپسی پر پہلی فرصت میں اپنے دوست اشفاق چانڈیو کے ہمراہ ان کے ہاں حاضری دینے کے لئے گیا۔ یہ اتوار دس دسمبر کی بات ہے جب میں آخری بار ان سے ملا۔ مجھے لگا اب انہوں نے اپنے آپ کو بیمار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ وہ بولنے کی سکت تو نہ رکھتے تھے لیکن زیرلب مجھ سے کئی باتیں کرنا چاہیں۔ کافی دیر تک میرا ہاتھ تھامے رکھا اور مجھے محبت سے دیکھتے رہے۔ اسی شام ان کی روح بھی پرواز ہو گئی اور اس طرح ان کے اہل خانہ حمیرا، قیصر اور ان کے بچوں کے علاوہ اگر کوئی ان سے زندگی کے آخری دن مل پایا تو وہ میں اور اشفاق چانڈیو تھے۔
مجھے ان کی آخری کتاب دی گئی کہ انہوں نے کہا تھا کہ ایک کاپی میرے لئے رکھی گئی ہے۔ انہوں نے دس دسمبر کو جانے کی ٹھانی جو انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور دسمبر کا مہینہ شیخ ایاز کے جانے کا مہینہ بھی ہے تو انہوں نے جانے کے دن اور مہینے کی بھی ایک علامتی معنی چھوڑے ہیں۔ انسانی حقوق کے ساتھ ان کی وابستگی اور پاکستان میں لسانی اور ثقافتی حقوق کی جدوجہد ان کے جانے کے وقت کے حوالے سے بھی استعارے کے طور پر رہیں گے۔
حمیرا، قیصرا اور دیگر کئی ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے ساؤتھ ایشیا ریسورس سینٹر کے نام سے ذاتی آرکائیو کی ایک شاندار لائبریری قائم کی۔ یہ لائبریری درجنوں محققین کے لئے تحقیق اور نایاب مواد کا وسیلہ بنی رہی۔ جس تگ و دو سے انہوں نے اس ریسورس سینٹر اور آرکائیو کو مختلف کرائے کی کوٹھیوں میں قائم رکھا اور با الآخر اس کو ایک مستقل جگہ پر محفوظ بنایا اس کی شاید کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس ریسورس سینٹر کو ادارے کے طور پر قائم رکھنے اور چلانے کے لئے وہ مکمل منصوبہ بندی کر کے گئے ہیں اور جن دوستوں کی ذمہ داری انہوں نے لگائی ہے وہ پرعزم اور کوشاں ہیں کہ اس کو آئندہ کئی نسلوں تک احمد سلیم کی امانت کے طور پر کیسے پہنچانا ہے۔
میرے پاس ان کی یادوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کا احاطہ اس مختصر تحریر میں کرنا ممکن نہ ہو گا۔ ان کے کام اور اس کے کئی پہلوؤں پر بات کرنے کے لئے تو شاید کتاییں درکار ہوں لیکن یہ مختصر تحریر ایک چھوٹا سا خراج عقیدت ہے جو ان تک پہنچے۔ ایک بار میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ کے کام کی کئی جہتیں ہیں، کئی موضوعات ہیں۔ کوئی ایسا ادبی یا سماجی کام نہیں جو آپ نے نہیں کیا ہو لیکن آپ خود اپنے آپ کو کس حیثیت میں زیادہ دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا تھا، مجھے مرنے کے بعد پنجابی کے شاعر کی حیثیت سے یاد رکھا جائے تو مجھے خوشی ہوگی۔
جد دوست نہیں ہوندا
تاں دل دی دھک دھک بند نہیں ہوندی
تے جینا پیندا اے
جیون دے بنا۔







