انسانی جبلت بمقابلہ حیوانی جبلت اور پاکستانی عوام


تمام ذی روح قدرتی طور خاص جسمانی اہلیت رکھتے ہیں کس طرح اپنے آپ کو کرہ ارض میں رہتے ہوئے زندہ رکھیں اور حالات کا مقابلہ کریں۔ ولیم مکڈوگل کے نزدیک مقصد حیات کے لئے جبلت ایک لازمی امر ہے جو اسے اپنے اہداف حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک اور سماجی سائنسدان ولیم جیمز بھی اس بات پر متفق ہے کہ حیاتی رویے جبلت کی وجہ سے کچھ نہ کچھ کرنے پر مائل ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی مثال اس کے نزدیک بچے کا بھوک کی حالت میں اپنی ماں کی چھاتیوں سے سیر حاصل ہونا جو کہ اس عمل سے نا واقف ہوتے ہوئے بھی یہ کام سر انجام دیتا ہے۔

معاشرے میں اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں۔ ”انسان ایک سماجی جانور (حیوان ناطق ) ہے“ ان الفاظ کی بنیاد و معنی جانے بغیر ہی ہر کوئی ایسا کہہ دیتا ہے۔ قدرت کی کئی حیات سماجی طور اکٹھے اور مل جل کر رہتے ہیں لیکن یہ خونخوار بھی ہیں۔ اس کے برعکس انسان کا منظم ہونا، قوانین بنانا اور ان پر عمل کرنا، رشتے ناتے بنانا اور نبھانا، تعلیم حاصل کرنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا انہیں جانوروں سے ممیز کرتا ہے۔ اس کی دماغی صلاحیت اسے کچھ نیا کرنے کے لئے ہر وقت اکساتی رہتی ہے۔ جس سے نئی دریافتیں معرض وجود میں آتی ہیں۔

حیوانات کی جبلت گو کہ طاقتور ہے۔ جو ایک مکمل پیکیج کے طور حیوانات کے امور کو سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جسے اس کی گدی میں ڈال دیا گیا ہے۔ جب کہ انسان کو قدرت کا ودیعت کردہ دماغ جس کی بدولت اس کے احساسات، جستجو، نئی نئی ایجادات، ایک دوسرے کے ساتھ روابط و اس کے ذرائع، ایک دوسرے کو علم سکھانا اور اس کی ترغیب اور آئندہ نسل کو علم و عرفان کا خزانہ منتقل کرنا جیسے عوامل حیوانات میں نہیں پائے جاتے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حیوانات میں ذہانت و احساسات پائے جاتے ہیں۔

لیکن ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انسان ہر شے کو اپنی جبلت کے زیر اثر ہی سر انجام نہیں دیتا بلکہ وہ اپنی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فیصلے صادر کرتا اور ان پر عمل درآمد کرتا ہے۔ اس میں اس کا ارتقائی عمل شامل حال رہتا ہے۔ انسانی جبلت میں اس کے لئے پانچ چیزیں انتہائی اہم ہیں۔ پہلے نمبر پر اس کی نئی ایجاد و دریافت کرنے کی حس، دوسرے نمبر پر خود عکاسی، تیسرے نمبر اس کی سرگرمیاں، چوتھے نمبر پر جنسیت اور پانچویں نمبر پر بھوک و افلاس۔

بھوک و افلاس کو ختم کرنا شاہد انسانی بنیادی جبلت ہے جو ہر چیز پر غالب آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ متلاشی رہنا، غصہ، خوف، ہوس اور کھیل وغیرہ کھیلنا بھی اس کی جبلتوں میں شامل ہے۔ اسی کے ساتھ انسانوں میں جبلی طور تھک جانا، بھوک و مباشرت کی رغبت رکھی گئی ہے۔ انسانی جبلت اس کے لئے ایک طاقتور قوت ہے جو اس کے رویے پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے فیصلے کرنے کے ارادے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ انسانوں و حیوانوں کو ان کی جسمانی و ذہنی ساخت کے زیر اثر قدرت نے ودیعت کی ہیں۔ جو اپنے امور کو ادا کرنے میں اپنی ان جبلتوں کو محل و موقع کے حساب سے زیر استعمال لاتے ہیں۔

آئیے! ذرا انسانی جبلت کو پاکستانی معاشرے کے خد و خال میں دیکھتے ہیں۔ خاندان کو پاکستانی معاشرے میں بنیادی عنصر حاصل ہے۔ جس میں خاندانی عزت و وقار کو ہمیشہ اس معاشرے کی احساس قرار دیا جاتا ہے۔ والدین، بچوں اور پوتے، پوتیوں کا اکٹھے رہن سہن خاندان کا جزو لاینفک ہے۔ اسی واسطے اپنی سماجی قدر کی بدولت پاکستانی کلچر اپنا ایک علیحدہ تشخص رکھتا ہے۔ جس کی بنیاد دنیا کے الہامی دین اسلام پر قائم ہے۔ جو آج بھی دوسری ثقافتوں کی یلغار کے باوجود اپنی حیثیت قائم رکھے ہوئے ہے۔

تا حال پاکستانی معاشرہ وسیع خاندان کے ماڈل پر قائم ہے۔ گو کہ معاشرتی اقتصادیات جس میں سر فہرست مہنگائی ہے نے چھوٹے خاندانوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ تاریخی طور پاکستانی معاشرہ افغانستان، انڈیا، سنٹرل ایشیاء، ایران، جنوبی و مغربی ایشیاء کے صدیوں زیر اثر رہا ہے۔ جن کی کئی چیزیں اس معاشرے میں گڈ مڈ ہو گئی ہیں۔ مہمان نوازی پاکستانی کلچر میں رچی بسی ہوئی ہے اور اس قوم کا دوسروں کی عزت کرنا، ہمدردی، قدرتی آفات میں ایک قوم بن کر ابھرنا اور بے یارو مددگاروں کے لئے اپنی ہر شے پیش کرنا اس قوم کا طرہ امتیاز ہے لیکن بد قسمتی سے ہماری جبلت میں حیوانیت در آتی جا رہی ہے۔

انسانی اپنے جبلت کے تحت اپنی بقا اپنی نسل کو بڑھانا اور ان کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ لیکن اب معاشرے میں اخوت کم ہوتی جا رہی ہے۔ پر تشدد رویے، مار دھاڑ، انا پرستی، دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے پر تشدد جواب دینا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غیر معمولی رد عمل دینا اور آپے سے باہر ہو جانا۔ آج یہ سب کچھ پاکستانی معاشرے کی انسانی جبلت کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ صد افسوس نا تو عوام اور نا ہی ہمارے ارباب اقتدار ایسے مسائل کی نشاندہی اور اسے حل کرنے بارے ادراک رکھتے ہیں۔ معاشرتی تبدیلی ایک ایسا مظہر ہے۔ جو انسانی جبلت کے زیر اثر نشو نما پاتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لئے ادارے اپنے اہداف مقرر کر کے اپنے معاشرے کی سماجی و معاشرتی ترقی کے لئے کام میں جت جاتے ہیں۔ لیکن ہم اس بارے اپنے فرض سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔

ہم اگر پاکستانی معاشرہ اور اس کی انسانی جبلت کو دیکھیں تو ہمیں سب سے پہلے اس معاشرہ کی انسانی جبلت میں اس کا معاشرتی نظام، ایک دوسرے سے باہمی تعلقات اور دوسری قوموں سے ان کے روابط، ان کی اقتصادی تنظیم اور ان کے سماجی رویے، ان کے اخلاقی اصول و معاشرتی معاملات جو اس ملک و قوم کے اصول و بنیادی ڈھانچے کو ظاہر کرتے ہیں۔ جس میں اس معاشرے کے افراد کی جبلت یعنی افرادی قابلیت اور صلاحیتیں اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ اس کا عدالتی ڈھانچہ و انصاف کا نظام، تعلیمی نظام اور میرٹ پر فیصلے صادر کرنا در حقیقت اس جبلت کا آئنہ دار ہوتی ہے۔ اسی کے تحت تعلیم، روزگار و صحت میں ترقی اشد ضرورت ہے۔ تا کہ اس کے معاشرے کے مرد و زن بہتر طور ملکی ترقی میں دل و جان سے حصہ لے سکیں۔ مملکت پاکستان کی انسانی جبلت و معاشرتی متنوع متعدد پہلوؤں پر مبنی ہے۔ جس میں مختلف نسلی گروہ، قومیتیں اور زبانیں اس معاشرہ کو مختلف مشکلات کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا درس دیتی ہے۔

اس ملک میں مختلف ثقافتی تنوع و اختلافات اس معاشرے کو مختلف رنگوں سے بھرے ہوئے ہے۔ جس میں ہر رنگ و نسل و علاقے کے افراد کو مل جل کر دل جمعی سے معاشرتی ناہمواری و نا انصافی کے ساتھ نبرد آزما ہونا ہو گا۔ تا کہ اس معاشرہ کا ہر انسان ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند ہو سکے۔ اور اپنی آئندہ کی نسل کے لئے ایک مستحکم و پروگریسو پاکستان قائم ہو جو ان کی امنگوں کا ترجمان ہو۔

 

 

 

Facebook Comments HS