بے نظیر بھٹو شہید: ایک حقیقی بہادر رہنما


پاکستان کی سیاست میں ایک عمومی مشاہدہ یہ چلا آ رہا ہے کہ انتحابات کے زمانے میں یہاں اکثر سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جلسے جلوسوں کے دوران تقریروں میں بعض جملوں کا بڑے پرجوش انداز میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں بعض جملے کچھ اس طرح ہوتے ہیں۔ *۔ وطن عزیز کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔

*۔ باطل قوتوں کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے۔
* جمہوریت کی بقا اور ملکی سلامتی کے لیے تن، من، دھن کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
*۔ ملک کے تحفظ کے لیے سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔

مذکورہ مخصوص جملوں کے علاوہ بعض خاص اشعار بھی تقریروں میں سنائے جاتے ہیں۔ اور انتخابی پوسٹروں پر لکھے جاتے ہیں ان میں چند ایک اشعار حسب ذیل قسم کے ہوتے ہیں۔

** گر ضرورت پڑی تو ہم دیں گے۔
لہو کا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے۔
** باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا
**۔ خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب۔
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔
**۔ تو نے پکارا اے وطن تو لہو کھول اٹھا۔
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں۔

اگرچہ متذکرہ جملے اور اشعار گھسے پھٹے ہو کر کافی حد تک بے اثر ہو چکے ہیں تاہم پھر بھی سیاسی لیڈر موقع بے موقع ان کا سہارا لیتے ہیں۔ عام حالات میں ان جذباتی نوعیت کے اشعار اور جملوں سے ان سیاست دانوں کی شاید وقتی طور پر کچھ ساکھ بنتی ہو مگر کسی رہنما کی اصلی ساکھ کا امتحان تب ہوتا ہے جب وقت کسی ایسے بحران یا حالات کو سامنے لائے، جہاں واقعی لہو کا تیل جلانے اور خون دل دینے کی نوبت آتی ہو۔ جہاں حقیقتا جان ہتھیلی پر رکھ دینے کا مقام آتا ہے۔

جہاں عملاً جان بازی اور جان نچھاوری کے لمحات در پیش ہوں۔ ایسے حالات اور لمحات میں اگر واقعی کوئی جان ہتھیلی پر رکھ کر تمام خطرات کے باوجود ان قوتوں کے مقابل آ جائے اور ان کو للکارے جن کو وہ دل سے باطل، تخریبی، وطن دشمن یا ترقی دشمن قوتیں سمجھتے ہیں۔ تو ایسے رہنما کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کو ملک و قوم کا حقیقی رہنما کہا جائے۔ ورنہ بصورت دیگر آرام دہ ڈرائنگ روموں یا قلعہ بند دفاتر سے مخالف قوتوں پر گرج دار تنقید کرنا ملکی حالات پر دانشورانہ انداز میں تبصرہ کرنا مشورے دینا یا پھر نارمل حالات میں جلسے جلوسوں میں فصاحت کے جوہر دکھانا، مخصوص جملوں اور جذباتی اشعار کے ذریعے بلند بانگ دعوے کرنا یا شیر کی طرح گرچ کر مخالفین کو للکارنا تو ایک اچھا اداکار بھی کر سکتا ہے۔

مذکورہ معیار پر اگر پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو موجودہ حالات کے تناظر میں ان کے عمل کے حوالے سے دیکھا جائے تو زیادہ تر مایوسی ہوتی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ دہائیوں کے دوران ہونی والی دہشت گردی اور تشدد کے اسباب سے قطع نظر ایک حقیقت یہ ہے کہ اس رجحان کی قوتیں کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں۔ اس لیے ہر محب وطن اور دور اندیش ترقی پسند رہنما کا یہ فرض بنتا ہے، کہ نہ صرف اس کی بھر پور مذمت کرتے بلکہ کھل کر اس کی مزاحمت کرے۔

اگرچہ دہشت گردی آج بھی ختم نہیں ہوئی ہے مگر گزشتہ 10 سال پہلے تک ایسا وقت تھا جب وطن عزیز کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے سے بچانے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر اور باطل سے نہ دبنے اور اس کے خلاف جرات مندانہ جدوجہد کرنے اور قربانی دینے کا متقاضی تھا۔

ایسے نازک حالات میں کسی مصلحت۔ کسی خوف یا کسی ذاتی مفاد وغیرہ کا شکار ہو کر پسپائی یا خاموشی اختیار کرنا حقیقی قائدین کے شایان شان نہیں ہوتا ہے۔ قوموں کے حقیقی رہنما وہی ہوتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر واقعی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے نظریات کے لیے ڈٹ جاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں موت کا سامنا بھی بہادری سے کرتے ہیں۔ ان دنوں پاکستان کو ایسے ہی نازک حالات کا سامنا تھا۔ ویسے زبانی حد تک تو ملک و قوم کے روشن مستقبل بلکہ سلامتی کے لیے انتہا پسندی کو خطرناک سمجھنے والے سیاسی رہنما تو بہت سارے تھے۔ لیکن اس وقت اس کو کھل کر للکارنے والی صرف۔ بے نظیر ہی نکلی۔

اس کے دعوے محض بیانات۔ تبصروں یا انٹرویو تک محدود نہ تھے۔ انہوں نے اپنی قربانی سے ثابت کر دیا کہ وہ جن نظریات کا دعوی کرتی تھی ان کے لیے عملی اور سر فروشانہ جدوجہد بھی کر دکھائی۔ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ اس راستے میں ان کو قدم قدم پر موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 2007 میں۔ جلا وطنی سے واپسی کے پہلے دن ان کو کار ساز ( کراچی ) میں اس کا تجربہ ہو چکا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ کسی دوسرے مقام پر کسی بھی لمحے موت کے مگر مچھ نکل کر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

مگر وہ کسی مصلحت۔ کسی خوف، یا کسی دباؤ کا شکار نہ ہوئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ترجیحات کہیں زیادہ قیمتی اور اہم تھیں اور انہوں نے اپنا یہ دعوی سچ کر دکھایا۔ کہ۔ ”پاکستان جانے میں اس کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرہ ہے اس لیے پاکستان کو بچانے کے لیے اس کو اپنی جان کا خطرہ مول لینا ہو گا۔“ ”

وہ اپنے دعوے۔ اپنے قول کی کتنی سچی نکلی۔ کئی دوسرے رہنما آدھ نیم حملوں یا دھماکوں سے دبک کر مصلحتا خاموش ہو گئے۔ مگر اپنے نظریات کی پکی اس بہادر خاتون رہنما کے اعصاب کو خود کش حملے۔ دھماکے اور دھمکیاں ہلا نہ سکیں۔ وہ جس مشن کا دعوی کر رہی تھی اس کے لیے ہر خطرے کو بالائے طاق رکھا۔ اور مردانہ وار اس کے لیے لڑتی رہی۔ پاکستان کی سلامتی۔ جمہوریت کے قیام اور دہشت اور جبر کی ظلمتوں کے خاتمے کے لیے واقعتاً آخری سانس تک لڑتی رہی اور خون کا آخری قطرہ تک بہایا۔

وہ اپنے دعوی کی کتنی سچی نکلی۔ وہ واقعی بے نظیر تھی اور وہ بے نظیر رہے گی۔

انسان فانی ہے ہر انسان کو ایک دن موت کے آغوش میں چلے جانا ہے مگر وہ افراد کتنے عظیم ہوتے ہیں جو اپنے نظریات کے لیے محض زبانی دعوی نہیں کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے لیے جان بھی ہتھیلی پر رکھ لیتے ہیں۔ اور پھر عملاً ثابت بھی کر لیتے ہیں کہ ملک و قوم کے لیے ضرورت پڑنے پر۔ لہو کا تیل جلانے۔ یا خون دل دینے باطل قوتوں کو للکارنے اور ان کے سامنے ڈٹ جانے اور رسم شبیری ادا کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔ باطل اور تخریب کے اندھے بد مست قوتوں کے مقابلے میں ڈٹ کر قربانی دینے والے نہ صرف اس فانی دنیا میں عظمتوں کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہیں بلکہ حقیقی شہادت کا مقام پا کر اس لافانی جہان میں بھی قابل رشک مقام کے مستحق ہو جاتے ہیں۔

کتنے عظیم ہوتے ہیں ایسے افراد کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ایسے انسان۔

ایسے عظیم اور خوش قسمت افراد میں یقیناً وطن عزیز کی یہ خاتون مگر بہادر اور اپنے دھن کی پکی بیٹی بے نظیر شہید بھی ہو گی۔

Facebook Comments HS