محاصرہ قائم ہے لیکن یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ سیاست جس سمت جا رہی یا لے جائی جا رہی ہے اور وطن عزیز میں جبر کا جو موسم ہے ایسے میں فراز کی مشہور زمانہ نظم ”محاصرہ“ جتنی اب صادق ہے فراز نے جس دور میں لکھی تھی اس وقت بھی کیا ہوگی۔ کہ تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام اور آسمان ہنر کے نجوم امید لطف سے ایوان کج کلاہ میں ہیں۔ گداگران سخن کے ہجوم، جو آج سے چند برس بعد قلم کی طاقت اور صحافت کو ریاست کا ستون بتاتے نہیں تھکتے ہوں گے، اس وقت شاید ناپید ہیں۔ فراز نے مقدور بھر مزاحمت بھی کی اور جلا وطنی بھی کاٹی پھر بھی اس کے الفاظ زندہ تھے اور رہیں گے۔ ضیا کی آمریت بالجبر گیارہ سال چھائی رہی لیکن قابل نفرت بھی ہے اور رہے گی۔ مگر دور حاضر کے اہالیان حرف کو شاید زیادہ شدت کے ساتھ خاموش کرا دیا گیا ہے۔ یا پھر جاں کی امان چاہنے والے زیادہ ہو گئے ہیں اور یا امید لطف کے خواہشمند گداگران سخن کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے۔
ایک طرف سیاست ہے کہ کچھ لوگوں کا کھیل تماشا ہے کہ جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ جمہور، جمہوریت، سیاست، ووٹ کی عزت سب کتابی باتیں ہوتی ہیں۔ غیرجانبداری کا کھیل ہے کہ پوری جانبداری سے کھیلا جاتا ہے۔ آئین ہے کہ گھر کی باندی ہے، قانون ہے کہ بس کسی کا ”فیض“ ہے۔ وہ جو کل خائن تھے آج صادق ہیں، یہ جو کل امین تھے آج غدار ہیں۔ جسے چاہیں معصوم عن الخطا قرار دے دیں جسے چاہیں تختہ دار پہ چڑھا دیں۔ یہی طرہ ہے کہ سپریم کورٹ آج 1979 میں دی گئی ایک پھانسی کیس کی بظاہر لایعنی ورق گردانی میں مصروف ہے۔ لایعنی اس لئے کہ نہ جانے والا واپس آئے گا نہ گیارہ سال کی ظلمت کا حساب لیا جا سکے گا۔ جمہوریت نامی چڑیا بھاری بوٹوں کے نیچے جس قدر کچلی جا چکی آرٹیفیشل انٹلیجنس سے بھی اس کی ہڈیاں گنی نہ جا سکیں گی۔ وقت اتنا آگے آ چکا کہ کوئی ٹائم مشین بھی ازالہ نہ کرسکے گی۔
دوسری طرف بھی اپنے ہی ملک کے لوگ ہیں جو اپنے پیاروں کے لئے نوحہ کناں ہیں۔ ملنے کی امید میں نہیں بلکہ اس خبر کی آس میں کہ بس اتنا بتا دو کہ مر گئے تاکہ چین تو آ جائے، فاتحہ تو پڑھ لیں، بیوگی اور یتیمی کی ردا تو اوڑھ لیں۔ آخری شمعیں تو بجھیں کہ یہ پھڑپھڑاتی سی روشنی تکلیف دیتی ہے، یہ نہ رونے دیتی ہے نہ سونے دیتی ہے۔ ہر آہٹ پر جو لگتا ہے کہ تم ہو ان سے تو بے نیاز ہوجائیں، گھروں کے دروازے جو عرصے سے مقفل نہیں کیے انہیں تو بند کر لیں۔ ہاں اگر وہ ویسے ہی مجرم ہیں جیسا کہ ان سے سلوک ہے انہیں قانون کے سامنے ننگا کر کے سنگسار کریں کہ پہلا پتھر ان مجرموں کو ہم ماریں گے۔ لیکن کسی کے بڑھاپے کے سہارے، کسی کی جوانی کے ساتھی اور کسی کے بچپن کی امید کو یوں کسی عمرو عیار کی زنبیل کے حوالے تو نہ کریں۔ آپ کی بہن بیٹیاں اپنے ہی ملک کے دارالحکومت کے ٹھنڈے دسمبر میں آپ کے ضمیر کو تپش دینے کی کوشش کریں تو انہیں قانون نافذ کرنے والے بہادر جوانوں سے قید کرالیں۔
جمہوریت یہ نہیں کہ جسے آپ چاہیں اس کے سر پر ہما بٹھا دیں، سیاست یہ نہیں جس کا فیصلہ بند کمروں میں ہو۔ انتخاب میں، افراد میں، قانون میں تبدیلی آپ کی مرضی سے ہو اور طرہ یہ کہ آپ غیرجانبدار بھی ہوں۔ خارجہ امور آپ طے کریں، معیشت کے فیصلے آپ کریں، داخلہ والے آپ کی جنبش ابرو کے منتظر ہوں، قانون تو خیر آپ خود ہی ہوں اور پھر بھی کاروبار سیاست و حکومت سے آپ کو علاقہ نہ ہو۔ کفر کے فتوے آپ کسی کے جبہ و دستار سے برآمد کر لیں اور غداری کسی ایوان عدل سے جب چاہے آپ کے لئے دستیاب ہو جائے۔ غداری بھی وہ کہ آپ کی پسند ناپسند پر بنا ہو، کفر بھی وہ کہ آپ کی چشم ابرو کا منکر کافر ٹھہرے۔
سوال گستاخی ہو، بولنا جرم ہو، تڑپنا بغاوت ہو۔ آواز پہ پہرے، تحریر پہ قدغن، جمہور پہ تازیانے، بصارتوں پہ جالے، ایوانوں میں سرگوشیاں، محل سراؤں میں سازشیں، شہروں پر فسوں، دلوں میں اداسی، بازاروں میں وحشت، میدانوں میں نحوست اور اس پر آپ کا اصرار کہ نعرہ حب الوطنی فلک شگاف ہو؟ دنیا بھی آپ کی قدر کرے اور عوام بھی آپ کو سلامی دیں؟ تاریخ بھی آپ کو ہیرو کہے اور تہذیب بھی آپ سے سبق سیکھے؟ مشرق بھی آپ کے گن گائے اور مغرب کے بھی آپ ہی معلم ٹھہریں؟ کوئی اپنا بھی آواز نہ نکالے اور کوئی غیر بھی ناقد نہ ہو؟ کوئی تیرہ نصیب روشنی نہ مانگے؟
اس ماحول میں قلم قبیلے سے جو امید ہے وہ چند گنی چنی، گھٹی گھٹی آوازوں کے، عنقا تھی۔ دانشور اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھے بیٹھے ہیں۔ بہرحال A case of Exploding Mangoes والے صاحب طرز ادیب، صحافی اور دانشور محمد حنیف نے بلوچستان کی بیٹیوں پر تشدد کے جواب میں ستارہ امتیاز واپس کر کے ثابت کیا ہے کہ ابھی اہل حرف کے پندار کے ثناگر بھی موجود ہیں اور قلندران وفا بھی جو سچ کی آواز بلند بھی کر سکتے ہیں اور قلم کی حرمت میں اضافہ بھی۔ جو قلم کو کاسہ اور مبلغ کی تسبیح بننے نہ دینے والے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہ محاصرہ آپ نے قائم رکھا ہوا ہے تو ”محاصرہ“ ایسے لوگوں نے زندہ۔ ضیا کی آمریت تھی، فراز محاصرہ ہے۔ آج محاصرہ ہے تو کل محمد حنیف کی زبان تیر افگن کہلائے گی۔


